Family · Supreme Court of Pakistan
کیا بالغ لڑکی باپ کی اجازت کے بغیر نکاح کر سکتی ہے؟
مختصر جواب
ہاں۔ سپریم کورٹ نے 2003 میں کہا کہ ولی کی اجازت ضروری نہیں، اور بالغ مسلمان خاتون اپنی مرضی سے درست نکاح کر سکتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت 1981 سے یہی کہتی آ رہی ہے۔
Hafiz Abdul Waheed v. Mrs. Asma Jehangir · Supreme Court of Pakistan · PLD 2004 SC 219 · decided 19 December 2003
By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 4 min read
پاکستان میں بہت سے خاندان سمجھتے ہیں کہ جب تک دلہن کا باپ یا کوئی اور ولی راضی نہ ہو، نکاح درست نہیں ہوتا۔
یہ بات ان بالغ خواتین کے لیے اہم ہے جو اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہیں، ان کے خاندانوں کے لیے، اور ہر اس شخص کے لیے جسے ولی کی منظوری کے بغیر ہونے والے نکاح پر شکایت یا مقدمے کا سامنا ہو۔
اہم نکات
- سپریم کورٹ، PLD 2004 SC 219: ولی کی اجازت ضروری نہیں، اور بالغ مسلمان خاتون اپنی مرضی سے درست نکاح کر سکتی ہے (پیرا 29)۔
- وفاقی شرعی عدالت محمد امتیاز بنام سرکار، PLD 1981 FSC 308 سے یہ کہتی آ رہی ہے کہ ولی کی اجازت لازمی نہیں (پیرا 6)۔
- سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ اصول ہائی کورٹ اور اس کے ماتحت تمام عدالتوں پر لازم ہے (پیرا 29)۔
- اس کیس میں 1996 میں اپنی مرضی سے نکاح کرنے والی بیٹی کا نکاح برقرار رہا، اور والد کی اپیل خارج ہوئی۔
ایک سطر میں اصول
بالغ مسلمان خاتون اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے۔ درست نکاح کے لیے باپ یا کسی اور ولی کی اجازت شرط نہیں۔
اس کیس میں کیا ہوا
بیٹی گورنمنٹ لاہور کالج فار ویمن سے گریجویٹ تھی۔ 26 فروری 1996 کو اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا (پیرا 4)۔
والد نے یہ نکاح قبول نہیں کیا اور عدالت گئے، جس میں حبسِ بے جا کی درخواستیں بھی شامل تھیں (پیرا 4)۔
10 مارچ 1997 کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے نکاح کو درست قرار دیا (پیرا 4)۔ والد نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا
سپریم کورٹ نے 19 دسمبر 2003 کو والد کی اپیل کا فیصلہ کیا، فیصل آباد کی ایک اور اپیل کے ساتھ جس میں یہی سوال تھا۔ اس دوسرے کیس میں والد نے بیٹی سے نکاح کرنے والے شخص کے خلاف زنا کا مقدمہ درج کروایا تھا (پیرا 2)۔
عدالت نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت PLD 1981 FSC 308 سے یہی کہتی آ رہی ہے کہ ولی کی اجازت لازمی نہیں (پیرا 6)۔
عدالت نے قرار دیا کہ ولی کی اجازت ضروری نہیں اور بالغ مسلمان خاتون اپنی مرضی سے درست نکاح کر سکتی ہے، کہ یہ ہائی کورٹ اور نچلی عدالتوں پر لازم ہے، اور والد کی اپیل خارج کر دی (پیرا 29)۔
کیس ایک نظر میں
- حقائق
- ایک بالغ بیٹی نے، جو کالج سے گریجویٹ تھی، 26 فروری 1996 کو لاہور میں اپنی مرضی سے نکاح کیا۔ والد نے نکاح کو چیلنج کیا، جس میں حبسِ بے جا کی درخواستیں بھی تھیں۔ 10 مارچ 1997 کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے دو ایک سے نکاح درست قرار دیا۔ والد نے اپیل کی۔
- سوال
- کیا بالغ مسلمان خاتون کے نکاح کے درست ہونے کے لیے ولی کی اجازت لازمی ہے؟
- عدالت کا فیصلہ
- نہیں۔ ولی کی اجازت ضروری نہیں اور بالغ مسلمان خاتون اپنی مرضی سے درست نکاح کر سکتی ہے۔ والد کی اپیل خارج ہوئی۔
- وجہ
- عدالت نے وفاقی شرعی عدالت کے PLD 1981 FSC 308 سے چلے آ رہے مستقل مؤقف کی پیروی کی کہ ولی کی اجازت لازمی نہیں، اور اسے ہائی کورٹ اور اس کی ماتحت عدالتوں پر لازم قرار دیا۔
- حدود
- یہ اصول بالغ خاتون کے بارے میں ہے۔ نابالغ کے نکاح کا سوال، یا یہ سوال کہ نکاح واقعی ہوا یا نہیں، دوسرے قانون اور حقائق پر منحصر ہے۔
عدالت کے اپنے الفاظ
“Consent of Wali is not required and a sui juris Muslim female can enter into valid Nikah/marriage of her own free-will.”
ترجمہ: ولی کی اجازت ضروری نہیں، اور بالغ مسلمان خاتون اپنی مرضی سے درست نکاح کر سکتی ہے۔
PLD 2004 SC 219, para 29
جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے
اس کا کیا مطلب نہیں
- اس کا اطلاق نابالغ پر نہیں ہوتا۔ فیصلہ بالغ مسلمان خاتون کی بات کرتا ہے۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاندان کا کوئی کردار نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نکاح کے درست ہونے کے لیے ولی کی اجازت قانونی شرط نہیں۔
- اس فیصلے سے یہ طے نہیں ہوتا کہ کوئی خاص نکاح واقعی ہوا یا نہیں۔ یہ ہر کیس میں حقائق کا سوال ہے۔
لوگ کیا پوچھتے ہیں
اگر دلہن کا باپ راضی نہ ہو تو کیا نکاح درست ہے؟
بالغ مسلمان خاتون کے لیے، ہاں۔ سپریم کورٹ نے PLD 2004 SC 219 میں کہا کہ ولی کی اجازت ضروری نہیں اور وہ اپنی مرضی سے درست نکاح کر سکتی ہے۔
کیا یہ صرف ایک عدالت کی رائے ہے؟
نہیں۔ وفاقی شرعی عدالت PLD 1981 FSC 308 سے یہی کہتی آ رہی ہے، اور سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کا فیصلہ ہائی کورٹ اور نچلی عدالتوں پر لازم ہے۔
ولی کون ہوتا ہے؟
اس سیاق میں دلہن کا سرپرست، عموماً اس کا باپ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بالغ خاتون کے درست نکاح کے لیے اس کی اجازت ضروری نہیں۔
ماخذ
- Hafiz Abdul Waheed v. Mrs. Asma Jehangir, PLD 2004 SC 219 (Supreme Court of Pakistan, 19 December 2003), paras 2, 4, 6, 29
Consent of the wali is not required; a sui juris Muslim woman can enter into a valid nikah of her own free will; binding on the High Court and courts below; father's appeal dismissed. verified against full text - Muhammad Imtiaz v. The State, PLD 1981 FSC 308 (Federal Shariat Court)
Consent of the wali is not requisite for the nikah of an adult Muslim woman; followed by the Supreme Court in PLD 2004 SC 219. as cited and followed in PLD 2004 SC 219
Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.
ریل میں کیا کہا گیا
ریل کے الفاظ پڑھیں
سنا ہے، بالغ لڑکی باپ کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی؟ غلط۔
سپریم کورٹ: بالغ مسلمان خاتون اپنی مرضی سے درست نکاح کر سکتی ہے، ولی کی اجازت ضروری نہیں۔ وفاقی شرعی عدالت 1981 سے یہی کہتی آ رہی ہے۔
1996، لاہور: کالج سے گریجویٹ سائمہ نے اپنی مرضی سے نکاح کیا۔ والد عدالت چلے گئے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے 1997 میں دو کے مقابلے ایک سے نکاح درست قرار دیا۔
دسمبر 2003: سپریم کورٹ نے والد کی اپیل خارج کر دی (PLD 2004 SC 219)۔
عدالت نے کہا: یہ اصول ہر ہائی کورٹ اور اس کے ماتحت ہر عدالت پر لازم ہے۔
یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.





