FAI Media

Family · Supreme Court of Pakistan

کیا بیٹا سات سال کا ہوتے ہی باپ کو مل جاتا ہے؟ سپریم کورٹ نے کہا: نہیں۔

مختصر جواب

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ بیٹے پر ماں کا حقِ حضانت سات سال تک ہے، مگر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ اصول حتمی نہیں۔ بچے کی بھلائی سب سے پہلے ہے، اور ماں کی دوسری شادی اکیلی اس سے بچہ نہیں چھین سکتی۔

Shaista Habib v. Muhammad Arif Habib · Supreme Court of Pakistan · PLD 2024 SC 629 · decided 6 March 2023

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read

طلاق کے بعد بہت سے خاندان سمجھتے ہیں کہ لڑکے کی تحویل اس کی ساتویں سالگرہ پر خود بخود باپ کو چلی جاتی ہے، اور جو ماں دوسری شادی کر لے وہ اپنے بچے کھو دیتی ہے۔

یہ بات طلاق یافتہ یا الگ رہنے والی ماؤں اور باپوں کے لیے، اور تحویل کے مقدمے میں کسی خاندان کو مشورہ دینے والے ہر شخص کے لیے اہم ہے۔

اہم نکات

  • گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کی دفعہ 17(1): سرپرست مقرر کرتے وقت عدالت وہ دیکھے گی جو بچے پر لاگو قانون کے مطابق، حالات میں، بچے کی بھلائی میں نظر آئے۔
  • دفعہ 17(3): اگر بچہ اتنا بڑا ہو کہ سمجھ داری سے اپنی پسند بتا سکے، تو عدالت اس کی پسند پر غور کر سکتی ہے۔
  • سپریم کورٹ، PLD 2024 SC 629: بیٹے پر ماں کے سات سال تک حقِ حضانت کا اصول حتمی نہیں؛ بچے کی بھلائی سب سے بڑی بات ہے۔
  • ماں کی دوسری شادی اکیلی اسے تحویل سے نااہل کرنے کی وجہ نہیں بن سکتی۔

ایک سطر میں اصول

تحویل کا فیصلہ بچے کی بھلائی سے ہوتا ہے، سالگرہ سے نہیں۔ عمر اہم ہے، ماں کی دوسری شادی بھی، مگر کوئی ایک بات اکیلی فیصلہ نہیں کرتی۔ عدالت پوری صورتحال دیکھتی ہے، اور بچہ سمجھدار ہو تو اس کی بات بھی سن سکتی ہے۔

اس کیس میں کیا ہوا

والدین کی طلاق 22 نومبر 2016 کو ہوئی۔ 28 جنوری 2017 کو باپ نے گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت گارڈین جج کے پاس بیٹے کی تحویل کی درخواست دی۔

30 جون 2021 کو، جب بچہ آٹھ سال کا تھا، گارڈین جج نے تحویل باپ کو دے دی۔ سپریم کورٹ نے بعد میں لکھا کہ اس فیصلے کے پیچھے دو عوامل تھے: ماں کی دوسری شادی اور بچے کی عمر (پیرا 4)۔

ماں کی اپیل 20 جون 2022 کو خارج ہوئی، اور لاہور ہائی کورٹ نے 21 ستمبر 2022 کو اس کی درخواست خارج کر دی۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے 6 مارچ 2023 کو ماں کی اپیل کا فیصلہ کیا؛ یہ فیصلہ PLD 2024 SC 629 میں رپورٹ ہوا۔

عدالت نے مانا کہ بیٹے پر ماں کا حقِ حضانت سات سال تک ہے، مگر کہا کہ یہ اصول حتمی نہیں۔ بچے کی بھلائی سب سے بڑی اور سب پر حاوی بات ہے (پیرا 5)۔

دوسری شادی کے بارے میں عدالت نے کہا کہ یہ اکیلی ماں کو نااہل کرنے کی وجہ نہیں بن سکتی (پیرا 5)۔

بچے نے عدالت کو بتایا کہ باپ اس کے لیے ایک اجنبی سے زیادہ کچھ نہیں (پیرا 8)۔

اپیل منظور ہوئی، اور بچہ ماں ہی کی تحویل میں رہے گا (پیرا 10)۔

پیسہ بھی وجہ نہیں

جو ماں باپ سے کم کماتی ہو، وہ صرف اس وجہ سے تحویل کے لیے نااہل نہیں۔ بچہ جس کے پاس بھی ہو، اس کا خرچ باپ کے ذمے رہتا ہے، اس لیے ماں کی مالی کمزوری اکیلی بچہ لینے کی وجہ نہیں۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
22 نومبر 2016 کو والدین کی طلاق؛ 28 جنوری 2017 کو باپ نے گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت تحویل کی درخواست دی۔ 30 جون 2021 کو گارڈین جج نے آٹھ سال کا بیٹا عمر اور ماں کی دوسری شادی کی بنیاد پر باپ کو دے دیا۔ 20 جون 2022 کو اپیل خارج؛ 21 ستمبر 2022 کو لاہور ہائی کورٹ نے درخواست خارج کی۔
سوال
کیا سات سال سے بڑا بیٹا لازماً باپ کو جائے گا، اور کیا ماں کی دوسری شادی اسے تحویل سے نااہل کرتی ہے؟
عدالت کا فیصلہ
دونوں کا جواب نہیں۔ سات سال والا اصول حتمی نہیں اور دوسری شادی اکیلی ماں کو نااہل کرنے کی وجہ نہیں بن سکتی۔ اپیل منظور؛ بچہ ماں کی تحویل میں۔
وجہ
گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت عدالت بچے کی بھلائی دیکھتی ہے، جو سب سے بڑی اور سب پر حاوی بات ہے۔ بچے کی اپنی رائے پر غور ہو سکتا ہے، اور یہاں اس نے باپ کو ایک اجنبی سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔
حدود
تحویل ہر خاندان کے حقائق پر منحصر ہے۔ فیصلہ یہ نہیں کہتا کہ بیٹا ہمیشہ ماں کے پاس رہے گا، یا ماں کی دوسری شادی کی کوئی اہمیت نہیں؛ یہ کہتا ہے کہ بچے کی بھلائی کے مقابلے میں یہ عوامل اکیلے فیصلہ نہیں کر سکتے۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“the petitioner's second marriage and the age of the minor were the two factors”

ترجمہ: درخواست گزار کی دوسری شادی اور بچے کی عمر، یہ دو عوامل تھے۔

PLD 2024 SC 629, para 4

“cannot become a stand-alone reason to disqualify her”

ترجمہ: یہ اکیلی اسے نااہل کرنے کی وجہ نہیں بن سکتی۔

PLD 2024 SC 629, para 5

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Guardians and Wards Act, 1890 s.17

(1) عدالت اس دفعہ کے تابع وہ دیکھے گی جو بچے پر لاگو قانون کے مطابق، حالات میں، بچے کی بھلائی میں نظر آئے۔ (2) وہ دوسری باتوں کے ساتھ بچے کی عمر، جنس اور مذہب، مجوزہ سرپرست کے کردار اور صلاحیت، اور بچے سے اس کی قریبی رشتہ داری کو دیکھے گی۔ (3) اگر بچہ اتنا بڑا ہو کہ سمجھ داری سے اپنی پسند بتا سکے، تو عدالت اس پسند پر غور کر سکتی ہے۔

Guardians and Wards Act, 1890 s.25

وہ دفعہ جس کے تحت اس کیس میں باپ نے بچے کی تحویل کی درخواست دی۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ سات سال کے بعد بیٹا ہمیشہ ماں کے پاس رہے گا۔ عدالت ہر کیس بچے کی بھلائی پر طے کرتی ہے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماں کی دوسری شادی کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسے دیکھا جا سکتا ہے، مگر یہ بچہ لینے کی واحد وجہ نہیں ہو سکتی۔
  • اس سے باپ کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں۔ بچہ جس کے پاس بھی ہو، اس کا خرچ باپ کو دینا ہے۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

میرا بیٹا سات سال کا ہونے والا ہے۔ کیا تحویل خود بخود باپ کو مل جائے گی؟

نہیں۔ PLD 2024 SC 629 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ بیٹے پر ماں کے سات سال تک حقِ حضانت کا اصول حتمی نہیں؛ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت بچے کی بھلائی سب سے بڑی بات ہے۔

میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ کیا میرے بچے مجھ سے لے لیے جائیں گے؟

صرف اس وجہ سے نہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ماں کی دوسری شادی اکیلی اسے نااہل کرنے کی وجہ نہیں بن سکتی۔ عدالت مجموعی طور پر بچے کی بھلائی دیکھے گی۔

کیا عدالت میرے بچے کی بات سنے گی؟

گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17(3) کہتی ہے کہ اگر بچہ سمجھ داری سے اپنی پسند بتا سکے تو عدالت اس پر غور کر سکتی ہے۔ اس کیس میں بچے کی اپنی بات سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ تھی۔

ماخذ

  • Shaista Habib v. Muhammad Arif Habib, PLD 2024 SC 629 (Supreme Court of Pakistan, 6 March 2023), paras 4, 5, 8, 10
    The rule that a mother's hizanat of a son ends at seven is not absolute; welfare is paramount; a second marriage cannot be a stand-alone reason to disqualify the mother. Custody retained by the mother. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)
  • Guardians and Wards Act, 1890, s.17 text checked in FAI Statute Search Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، بیٹا سات سال کا ہوتے ہی خود بخود باپ کو مل جاتا ہے؟ غلط۔

گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890، دفعہ 17: سرپرست مقرر کرتے وقت عدالت وہ دیکھتی ہے جس میں بچے کی بھلائی ہو۔ بچہ سمجھدار ہو تو اس کی پسند بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

ایک ماں سے آٹھ سال کا بیٹا لے کر باپ کو دے دیا گیا۔ فیملی کورٹ کی دو وجوہات: بچے کی عمر، اور ماں کی دوسری شادی۔ اپیل اور لاہور ہائی کورٹ نے بھی یہی برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ میں بچے نے بتایا کہ باپ اس کے لیے اجنبی ہے۔ سپریم کورٹ (مارچ 2023): سات سال کے بعد ماں کا حقِ حضانت ختم ہونے کا اصول حتمی نہیں، فیصلہ بچے کی بھلائی پر ہوتا ہے۔ بیٹا ماں کے پاس ہی رہے گا (PLD 2024 SC 629)۔

ماں کی دوسری شادی، اکیلی، اسے بچے کی تحویل سے محروم کرنے کی وجہ نہیں بن سکتی۔ ماں کی مالی کمزوری بھی اکیلی وجہ نہیں، کیونکہ بچے کا خرچ باپ کے ذمے رہتا ہے۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید