Family · Supreme Court of Pakistan
تین بار طلاق کہنے سے نکاح اسی لمحے ختم نہیں ہوتا
مختصر جواب
پاکستان میں طلاق یونین کونسل کے چیئرمین کو تحریری نوٹس ملنے کے نوے دن بعد مؤثر ہوتی ہے۔ اپریل 2025 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ جس عورت کا شوہر طلاق نامہ بھیجنے کے 37 دن بعد فوت ہو گیا، وہ اس کی بیوہ ہے اور وراثت میں حصہ پائے گی۔
Aziz Ahmad v. Mst. Musarat · Supreme Court of Pakistan · PLD 2025 SC 469 · decided 9 April 2025
By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شوہر نے تین بار طلاق کہہ دی یا طلاق نامے پر دستخط کر دیے تو نکاح اسی لمحے ختم ہو گیا۔ پاکستانی قانون میں ایسا نہیں۔
یہ ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے اہم ہے، اور ہر اس خاندان کے لیے بھی جو کسی ایسے شوہر کی جائیداد تقسیم کر رہا ہو جو طلاق دینے کے کچھ ہی دن بعد فوت ہو گیا۔
اہم نکات
- مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7: جو شوہر کسی بھی شکل میں طلاق دے، وہ یونین کونسل کے چیئرمین کو تحریری نوٹس دے اور اس کی نقل بیوی کو دے۔
- دفعہ 7(3): طلاق نوٹس چیئرمین کو ملنے کے نوے دن بعد تک مؤثر نہیں ہوتی، جب تک اس سے پہلے واپس نہ لے لی جائے۔
- PLD 2025 SC 469: سوات کے ایک شوہر نے ڈاک سے طلاق نامہ بھیجا اور 37 دن بعد فوت ہو گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس کی جائز بیوہ ہے اور وراثت میں حصہ پائے گی۔
- عدالت: قرآن نے طلاق کو کبھی فوری جادو نہیں بنایا جس سے رشتہ اسی وقت ٹوٹ جائے۔
ایک سطر میں اصول
طلاق، کسی بھی شکل میں ہو، چیئرمین یونین کونسل کو تحریری نوٹس ملنے کے دن سے نوے دن کی مدت شروع کرتی ہے۔ ان نوے دنوں کے ختم ہونے تک قانون کی نظر میں میاں بیوی کا نکاح قائم رہتا ہے، اور چیئرمین صلح کے لیے ثالثی کونسل بناتا ہے۔
دفعہ 7 کیا کہتی ہے
مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7(1): جو شخص بیوی کو طلاق دینا چاہے، وہ کسی بھی شکل میں طلاق کہنے کے بعد جتنی جلد ممکن ہو چیئرمین کو تحریری نوٹس دے گا اور اس کی نقل بیوی کو دے گا۔ دفعہ 7(2) کے تحت نوٹس نہ دینے کی سزا ایک سال تک سادہ قید، پانچ ہزار روپے تک جرمانہ، یا دونوں ہے۔
دفعہ 7(3): طلاق، اگر پہلے واپس نہ لی جائے، اس دن سے نوے دن گزرنے تک مؤثر نہیں ہوگی جس دن نوٹس چیئرمین کو ملا۔ دفعہ 7(4): تیس دن کے اندر چیئرمین صلح کے لیے ثالثی کونسل بناتا ہے۔ دفعہ 7(5): بیوی حاملہ ہو تو طلاق نوے دن یا حمل ختم ہونے تک، جو بعد میں ہو، مؤثر نہیں ہوتی۔
2021 میں شامل ایک شرط فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے الگ قواعد بتاتی ہے۔
اس مقدمے میں کیا ہوا
میاں بیوی سوات میں رہتے تھے۔ 27 اگست 2018 کو شوہر نے بیوی کو ڈاک سے طلاق نامہ بھیجا۔ 3 اکتوبر 2018 کو، نوے دن پورے ہونے سے پہلے، وہ فوت ہو گیا (پیرا 2)۔
اس کی والدہ اور بچوں نے جانشینی ایکٹ 1925 کی دفعہ 372 کے تحت جانشینی سرٹیفکیٹ کی درخواست دی اور کہا کہ بیوی کو طلاق ہو چکی تھی، اس لیے وہ وارث نہیں۔ سول جج سوات نے 24 جنوری 2020 کو اسے کوئی حصہ نہیں دیا، اور 13 نومبر 2020 کو اس کی اپیل خارج ہوئی (پیرا 2)۔
پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ نے 31 اکتوبر 2022 کو اس کی نگرانی کی درخواست منظور کی: وراثت موت کے دن کھلتی ہے، طلاق ابھی مؤثر نہیں ہوئی تھی، اس لیے وہ بیوہ کی حیثیت سے وارث ہے (پیرا 2)۔ شوہر کے ورثا سپریم کورٹ گئے۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بینچ نے 9 اپریل 2025 کو فیصلہ کیا؛ فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے لکھا۔
سوال یہ تھا کہ طلاقِ بدعت (ایک ساتھ تین طلاقیں) پانے والی بیوی، اگر شوہر عدت کے دوران فوت ہو جائے، تو کیا وراثت پائے گی (پیرا 4)۔
عدالت نے کہا کہ قرآن نے طلاق کو کبھی ایسا فوری جادو نہیں بنایا جس سے نکاح کا رشتہ اسی وقت کٹ جائے (پیرا 5)۔
دفعہ 7(3) پر کہا کہ اس قانونی مدت میں میاں بیوی کی ازدواجی حیثیت برقرار رہتی ہے تاکہ صلح کا موقع ملے، اور مقصد جلد بازی کی طلاق کی حوصلہ شکنی ہے۔ یہ دفعہ اسلامی احکام کے خلاف نہیں بلکہ قرآن کے انتظار اور غور کے حکم کے مطابق ہے (پیرا 7)۔ طلاقِ بدعت کو فوراً مؤثر ماننا نکاح کے خاتمے سے متعلق قرآنی احکام سے ٹکراتا ہے (پیرا 8)۔
عدالت نے رحمت بی بی بنام شریفاں بی بی، 1988 SCMR 1812 کا حوالہ دیا، جہاں شوہر نے موت سے تین دن پہلے طلاق دی تھی اور بیوی کو وارث مانا گیا (پیرا 9)۔
عدالت نے قرار دیا کہ تحریری طلاق نہ قرآنی احکام کے مطابق حتمی ہوئی تھی اور نہ دفعہ 7(3) کی لازمی مدت پوری ہوئی تھی، اس لیے وہ اپنے مرحوم شوہر کی جائز بیوہ ہے اور اس کی جائیداد میں وراثت کی حقدار ہے (پیرا 11)۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی اور درخواست خارج ہوئی (پیرا 12)۔
کیس ایک نظر میں
- حقائق
- سوات کے ایک شوہر نے 27 اگست 2018 کو بیوی کو ڈاک سے طلاق نامہ بھیجا اور 3 اکتوبر 2018 کو، نوے دن سے پہلے، فوت ہو گیا۔ والدہ اور بچوں نے کہا کہ اسے طلاق ہو چکی، وہ وارث نہیں؛ ٹرائل کورٹ اور اپیل کورٹ نے مان لیا؛ پشاور ہائی کورٹ نے اسے بیوہ قرار دیا۔
- سوال
- کیا طلاقِ بدعت پانے والی بیوی وراثت پائے گی اگر شوہر نوے دن کی مدت کے اندر فوت ہو جائے؟
- عدالت کا فیصلہ
- طلاق نہ قرآنی احکام کے مطابق حتمی ہوئی تھی نہ دفعہ 7(3) کے تحت۔ وہ جائز بیوہ ہے اور وراثت پائے گی۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی۔
- وجہ
- دفعہ 7(3) صلح کے لیے نوٹس کے بعد نوے دن تک نکاح برقرار رکھتی ہے، جو عدالت کے مطابق قرآن کی انتظار کی مدت سے ہم آہنگ ہے؛ وراثت موت کے دن کھلتی ہے، جیسا کہ 1988 SCMR 1812 میں۔
- حدود
- یہ مقدمہ ایسے شوہر کا ہے جو نوے دن کے اندر فوت ہوا۔ یہ طے نہیں کرتا کہ اگر شوہر چیئرمین کو نوٹس بھیجے ہی نہیں تو کیا ہوگا؛ اس پر عدالتوں کی رائے مختلف رہی ہے۔ نوے دن گزرنے کے بعد طلاق مؤثر ہو جاتی ہے۔ فقہ جعفریہ والوں کے لیے 2021 کی شرط کے تحت الگ قواعد ہیں۔
عدالت کے اپنے الفاظ
“The Holy Quran never intended for a divorce to act as a device of instant magic whereby the marital bond is severed immediately.”
ترجمہ: قرآن نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ طلاق فوری جادو کی طرح کام کرے اور نکاح کا رشتہ اسی وقت کٹ جائے۔
PLD 2025 SC 469, para 5
“During this statutory period, the marital status of the spouses remains unaffected, thereby affording an opportunity for reconciliation. The legislative intent is to discourage hasty divorces requiring a cooling-off period consistent with Islamic principles.”
ترجمہ: اس قانونی مدت میں میاں بیوی کی ازدواجی حیثیت متاثر نہیں ہوتی، تاکہ صلح کا موقع ملے۔ قانون کا مقصد جلد بازی کی طلاق کی حوصلہ شکنی اور اسلامی اصولوں کے مطابق ٹھہراؤ کی مدت ہے۔
PLD 2025 SC 469, para 7
“written talaq pronounced by the deceased, Shah Bakht Rawan, had not become final in accordance with the injunctions of the Holy Quran nor did it fully comply with the mandatory statutory period under Sub-section (3) of Section 7 of the Ordinance. Consequently, Mst. Mussarat, the respondent, continues to remain the lawful widow of Shah Bakht Rawan, entitled to inherit his estate.”
ترجمہ: مرحوم کی تحریری طلاق نہ قرآنی احکام کے مطابق حتمی ہوئی اور نہ دفعہ 7(3) کی لازمی مدت پوری ہوئی؛ چنانچہ وہ اس کی جائز بیوہ ہے اور اس کی جائیداد میں وراثت کی حقدار ہے۔
PLD 2025 SC 469, para 11
جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے
جو شخص بیوی کو طلاق دینا چاہے وہ کسی بھی شکل میں طلاق کہنے کے بعد جلد از جلد چیئرمین کو تحریری نوٹس دے اور نقل بیوی کو دے۔
طلاق، اگر پہلے واپس نہ لی جائے، نوٹس چیئرمین کو ملنے کے دن سے نوے دن گزرنے تک مؤثر نہیں ہوتی۔
تیس دن کے اندر چیئرمین صلح کے لیے ثالثی کونسل بناتا ہے۔
اس کا کیا مطلب نہیں
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ طلاق ہوتی ہی نہیں۔ نوٹس سے نوے دن گزر جائیں اور طلاق واپس نہ لی جائے تو وہ مؤثر ہو جاتی ہے۔
- یہ طے نہیں کرتا کہ شوہر چیئرمین کو نوٹس ہی نہ بھیجے تو کیا ہوگا۔ نوٹس نہ بھیجنا خود دفعہ 7(2) کے تحت جرم ہے۔
- حاملہ بیوی کا اصول نہیں بدلتا: طلاق نوے دن یا حمل ختم ہونے تک، جو بعد میں ہو، انتظار کرتی ہے۔
لوگ کیا پوچھتے ہیں
شوہر نے تین بار طلاق کہہ دی۔ کیا مجھے ابھی طلاق ہو گئی؟
مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت نہیں۔ شوہر کو چیئرمین یونین کونسل کو تحریری نوٹس بھیجنا ہوتا ہے، اور طلاق نوٹس ملنے کے نوے دن بعد مؤثر ہوتی ہے، جب تک اس سے پہلے واپس نہ لی جائے۔
نوے دنوں میں کیا ہوتا ہے؟
قانوناً نکاح قائم رہتا ہے۔ چیئرمین تیس دن میں صلح کے لیے ثالثی کونسل بناتا ہے۔
شوہر نوے دن پورے ہونے سے پہلے فوت ہو گیا۔ کیا مجھے وراثت ملے گی؟
ہاں، سپریم کورٹ کے PLD 2025 SC 469 اور 1988 SCMR 1812 کے مطابق: وراثت موت کے دن کھلتی ہے، طلاق ابھی مؤثر نہیں تھی، اس لیے آپ بیوہ ہیں۔
کیا ڈاک سے بھیجا گیا طلاق نامہ نوٹس شمار ہوتا ہے؟
قانون چیئرمین یونین کونسل کو تحریری نوٹس اور بیوی کو اس کی نقل مانگتا ہے۔ آپ کے معاملے میں یہ مراحل پورے ہوئے یا نہیں، اس پر وکیل سے بات کریں۔
ماخذ
- Aziz Ahmad v. Mst. Musarat, PLD 2025 SC 469 (Supreme Court of Pakistan, 9 April 2025), paras 2, 4, 5, 7, 8, 9, 11, 12
A talaq is not effective until ninety days after notice under s.7(3) MFLO; a wife whose husband died within that period is his lawful widow and inherits; leave refused. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF) - Mst. Rehmat Bibi v. Mst. Sharifan Bibi, 1988 SCMR 1812 (Supreme Court of Pakistan)
Talaq three days before death; ninety days not passed; the wife is a legal heir (as described in PLD 2025 SC 469, para 9). cited through PLD 2025 SC 469 - Muslim Family Laws Ordinance, 1961, s.7 text checked in FAI Statute Search Pakistan Code
Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.
ریل میں کیا کہا گیا
ریل کے الفاظ پڑھیں
تین بار طلاق کہہ دی، تو نکاح اسی لمحے ختم؟ غلط۔ قانون میں نوے دن ہیں۔
قانون: شوہر کسی بھی شکل میں طلاق دے، تو یونین کونسل کے چیئرمین کو تحریری نوٹس دے اور نقل بیوی کو دے۔ طلاق نوٹس ملنے کے نوے دن بعد مؤثر ہوتی ہے۔ تب تک نکاح قائم ہے، اور صلح کے لیے ثالثی کونسل بنتی ہے (مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961، دفعہ 7)۔
کیس: سوات میں ایک شوہر نے اگست 2018 میں ڈاک سے طلاق نامہ بھیجا اور 37 دن بعد فوت ہو گیا۔ گھر والوں نے کہا کہ بیوی کو طلاق ہو چکی، وراثت میں حصہ نہیں۔ دو عدالتوں نے مان لیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے کہا: نوے دن پورے نہیں ہوئے، وہ بیوہ ہے۔
سپریم کورٹ (اپریل 2025): قرآن نے طلاق کو کبھی فوری جادو نہیں بنایا۔ وہ جائز بیوہ ہے اور وراثت میں حصہ پائے گی۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی (عزیز احمد بنام مسرت، PLD 2025 SC 469)۔
فقہ جعفریہ والوں کے لیے 2021 کی ترمیم کے تحت الگ قواعد ہیں۔
یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر چلتا ہے۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.





