FAI Media

Family · Supreme Court of Pakistan

وہ شوہر کا گھر چھوڑ آئی۔ کیا اس کا خرچہ ختم ہو گیا؟

مختصر جواب

اگر وہ شوہر کے ظلم کی وجہ سے نکلی ہو تو نہیں۔ ظلم کی وجہ سے گھر چھوڑنے والی بیوی کا خرچہ شوہر پر فرض رہتا ہے، اور سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ظلم جسمانی ہی نہیں، ذہنی بھی ہو سکتا ہے۔ نومبر 2022 میں عدالت نے ایک بیوی کا ظلم کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا فیصلہ بحال کیا اور پانچ تولے سونا واپس کرنے کا حکم کالعدم کر دیا۔

Mst. Tayyeba Ambareen v. Shafqat Ali Kiyani · Supreme Court of Pakistan · 2023 SCMR 246 · decided 3 November 2022

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 4 min read

بہت سی بیویوں کو کہا جاتا ہے کہ جس لمحے وہ شوہر کا گھر چھوڑیں، خرچے کا ہر حق ختم، چاہے انہیں گھر چھوڑنے پر کس چیز نے مجبور کیا ہو۔

یہ بات ہر اس بیوی کے لیے اہم ہے جو ایسے گھر سے نکل آئی ہو یا نکلنے کا سوچ رہی ہو جہاں اس سے برا سلوک ہوتا ہے، اور ان گھر والوں کے لیے بھی جو اس کے حقوق سمجھنا چاہتے ہیں۔

اہم نکات

  • شوہر پر بیوی کا خرچہ فرض ہے۔ ملا کی کتاب اصولِ محمڈن لا کے پیرا 277 کا حوالہ دیتے ہوئے، سپریم کورٹ نے 2023 SCMR 246 میں اس استثنا کا ذکر کیا کہ بیوی شوہر کے ظلم کی وجہ سے اس کا گھر چھوڑے (پیرا 16)۔
  • ظلم ذہنی بھی ہو سکتا ہے اور جسمانی بھی۔
  • عدالت نے فیملی کورٹ کا ظلم کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا فیصلہ بحال کیا، اور وہ فیصلے کالعدم کیے جنہوں نے اسے خلع بنا کر پانچ تولے سونا واپس کرنے کا حکم دیا تھا (پیرا 17)۔
  • عدالت کے الفاظ میں شوہر کا بیوی کو واپس بلانے کا دعویٰ صرف خرچہ اور حق مہر ادا کرنے سے بچنے کی نیت سے تھا (پیرا 16)۔

ایک سطر میں اصول

جو بیوی بغیر کسی وجہ کے گھر چھوڑے، اس کا خرچے کا دعویٰ کمزور ہو سکتا ہے۔ جو بیوی شوہر کے ظلم کی وجہ سے گھر چھوڑے، اس کا نہیں، اور ظلم صرف مار پیٹ نہیں: ذہنی بھی ہو سکتا ہے۔

اس کیس میں کیا ہوا

شوہر بیوی پر پیسوں کے لیے دباؤ ڈالتا تھا۔ جب وہ امید سے تھی تو اس نے اور اس کے گھر والوں نے یہ جھوٹا الزام پھیلایا کہ بچہ اس کا نہیں۔ اس نے بیوی کو اکیلا چھوڑ دیا، کوئی خرچہ نہیں دیا، ڈلیوری کا خرچ تک نہیں دیا، اور مطالبہ کیا کہ اس کی تنخواہ مشترکہ اکاؤنٹ میں جائے (پیرا 15)۔

فیملی کورٹ نے ظلم کی بنیاد پر نکاح ختم کر دیا۔

اپیل کی عدالت نے اسے خلع میں بدل کر پانچ تولے سونا واپس کرنے کا حکم دیا، اور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے 3 نومبر 2022 کو بیوی کے کیس کا فیصلہ کیا، جو مسماۃ طیبہ عنبرین بنام شفقت علی کیانی، 2023 SCMR 246 کے نام سے رپورٹ ہوا۔

عدالت نے ملا کا پیرا 277 نقل کیا: شوہر نافرمان بیوی کا خرچہ دینے کا پابند نہیں، سوائے اس کے کہ بیوی شوہر کے ظلم کی وجہ سے اس کا گھر چھوڑے (پیرا 16)۔ فیملی کورٹ نے انہی حقائق پر ظلم پایا تھا، اور ظلم جسمانی ہی نہیں، ذہنی بھی ہو سکتا ہے۔

اپیل کی عدالت اور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم ہوئے اور فیملی کورٹ کا ظلم کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا فیصلہ بحال کر دیا گیا (پیرا 17)۔

واپس بلانے کا دعویٰ

شوہر نے حقوقِ زوجیت کی بحالی کا دعویٰ کیا تھا، یعنی بیوی اس کے پاس واپس آئے۔ عدالت نے کہا کہ یہ دعویٰ صرف خرچہ اور حق مہر ادا کرنے سے بچنے کی نیت سے کیا گیا تھا (پیرا 16)۔

بیوی کو واپس بلانے کا دعویٰ اکیلا وہ ختم نہیں کرتا جو شوہر پر واجب ہے۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
شوہر بیوی پر پیسوں کے لیے دباؤ ڈالتا تھا؛ حمل کے دوران اس نے اور اس کے گھر والوں نے جھوٹا الزام لگایا کہ بچہ اس کا نہیں؛ اس نے بیوی کو اکیلا چھوڑا، نہ خرچہ دیا نہ ڈلیوری کا خرچ، اور تنخواہ مشترکہ اکاؤنٹ میں مانگی۔ فیملی کورٹ نے ظلم کی بنیاد پر نکاح ختم کیا؛ اپیل کی عدالت نے اسے خلع بنا کر پانچ تولے سونا واپس کرنے کا حکم دیا؛ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔
سوال
کیا شوہر کے رویے کی وجہ سے گھر چھوڑنے والی بیوی خلع کے بجائے ظلم کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح کی حقدار تھی، اور شوہر کے واپس بلانے کے دعوے کی کیا حیثیت تھی؟
عدالت کا فیصلہ
اپیل کی عدالت اور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم، اور فیملی کورٹ کا ظلم کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا فیصلہ بحال۔
وجہ
جو بیوی شوہر کے ظلم کی وجہ سے گھر چھوڑے، اس کا خرچہ شوہر پر فرض رہتا ہے۔ ظلم ذہنی بھی ہو سکتا ہے اور جسمانی بھی۔ واپس بلانے کا دعویٰ خرچہ اور حق مہر سے بچنے کا ایک طریقہ تھا۔
حدود
فیصلہ ثابت شدہ ظلم پر ہے۔ جو بیوی بغیر کسی وجہ کے گھر چھوڑے اس کی صورت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس فیصلے میں دوسرے کیسوں کے لیے خرچے کی رقم طے نہیں ہوئی۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“leaves the husband's house on account of his cruelty”

ترجمہ: شوہر کے ظلم کی وجہ سے شوہر کا گھر چھوڑ دے۔

2023 SCMR 246, quoting Mulla para 277, para 16

“motivated with the sole intention to avoid paying the maintenance allowance and the dower amount”

ترجمہ: صرف اس نیت سے کہ خرچہ اور حق مہر کی رقم ادا کرنے سے بچا جائے۔

2023 SCMR 246, para 16

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 s.2(viii)(a)

نکاح ختم کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ شوہر اس سے ظلم کا سلوک کرے، یعنی عادتاً اس پر حملہ کرے یا اپنے ظالمانہ رویے سے اس کی زندگی اجیرن کر دے، چاہے یہ رویہ جسمانی بدسلوکی تک نہ پہنچے۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیوی کسی بھی وجہ سے گھر چھوڑ کر خرچہ مانگ سکتی ہے۔ یہ اصول اس بیوی کو تحفظ دیتا ہے جو شوہر کے ظلم کی وجہ سے نکلے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم کا جسمانی ہونا ضروری ہے۔ یہ ذہنی بھی ہو سکتا ہے، جیسے جھوٹے الزامات اور جان بوجھ کر بے سہارا چھوڑنا۔
  • اس فیصلے میں خرچے کی رقم طے نہیں ہوئی۔ یہ ہر کیس کے حقائق اور عدالت کے نتائج پر منحصر ہے۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

میں شوہر کے برے سلوک کی وجہ سے گھر چھوڑ آئی۔ کیا میں اب بھی خرچہ مانگ سکتی ہوں؟

سپریم کورٹ نے 2023 SCMR 246 میں ملا کے پیرا 277 کا حوالہ دیتے ہوئے ذکر کیا کہ جو بیوی شوہر کے ظلم کی وجہ سے گھر چھوڑے، اس کا خرچہ شوہر پر فرض رہتا ہے۔ ظلم ذہنی بھی ہو سکتا ہے اور جسمانی بھی۔ ظلم ثابت کرنا ہوگا، اس لیے کسی فیملی وکیل سے بات کریں۔

ذہنی ظلم کسے کہتے ہیں؟

اس کیس میں شوہر کے رویے میں یہ جھوٹا الزام کہ بچہ اس کا نہیں، حاملہ بیوی کو اکیلا چھوڑنا، خرچہ اور ڈلیوری کا خرچ نہ دینا، اور اس کی تنخواہ مانگنا شامل تھا۔ تنسیخِ نکاح مسلمانان ایکٹ کی دفعہ 2(viii)(a) کے تحت ظلم میں ظالمانہ رویے سے زندگی اجیرن کرنا بھی شامل ہے، چاہے جسمانی بدسلوکی نہ ہو۔

میرے شوہر نے مجھے واپس بلانے کا مقدمہ کیا ہے۔ کیا اس سے میرا خرچہ ختم ہو جاتا ہے؟

اکیلے اس سے نہیں۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے کہا کہ شوہر کا بیوی کو واپس بلانے کا دعویٰ صرف خرچہ اور حق مہر سے بچنے کی نیت سے تھا۔

ماخذ

  • Mst. Tayyeba Ambareen v. Shafqat Ali Kiyani, 2023 SCMR 246 (Supreme Court of Pakistan, 3 November 2022), paras 15, 16, 17
    A husband remains bound to maintain a wife who leaves on account of his cruelty; cruelty may be mental or physical; khula order with return of gold set aside and the Family Court's dissolution for cruelty restored. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)
  • Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939, s.2(viii) text checked in FAI Statute Search Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، بیوی شوہر کا گھر چھوڑ دے تو اس کا خرچہ ختم؟ غلط، اگر شوہر کے ظلم نے اسے نکالا ہو۔

شوہر پر بیوی کا خرچہ فرض ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ اصول دہرایا: اگر بیوی شوہر کے ظلم کی وجہ سے گھر چھوڑے تو یہ فرض ختم نہیں ہوتا۔ اور ظلم صرف جسمانی نہیں، ذہنی بھی ہو سکتا ہے۔

ایک بیوی امید سے تھی۔ شوہر اور اس کے گھر والوں نے کہا کہ بچہ اس کا نہیں، شوہر نے اسے اکیلا چھوڑ دیا، نہ خرچہ دیا نہ ڈلیوری کا خرچ، اور اس کی تنخواہ مشترکہ اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی شرط رکھی۔

فیملی کورٹ نے ظلم کی بنیاد پر نکاح ختم کیا۔ اپیل کورٹ نے اسے خلع بنا کر پانچ تولے سونا واپس کرنے کا حکم دیا، اور ہائی کورٹ نے یہ برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ (نومبر 2022): دونوں فیصلے کالعدم، فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال۔ شوہر کا "واپس بلانے" کا دعویٰ، عدالت کے الفاظ میں، صرف خرچہ اور حق مہر سے بچنے کے لیے لگتا تھا (2023 SCMR 246)۔

اگر بیوی بغیر کسی وجہ کے خود گھر چھوڑ دے تو معاملہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے میں وکیل سے بات کریں۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید