FAI Media

Criminal law · Supreme Court of Pakistan

کیا دفعہ 302 قابلِ ضمانت ہے؟ قتل کے مقدمے میں ضمانت

مختصر جواب

نور آغا بنام سرکار، سپریم کورٹ آف پاکستان، 2025 SCMR 1679، فوجداری درخواست نمبر 27-K برائے 2025، فیصلہ 15 اپریل 2025۔

Noor Agha v. The State · Supreme Court of Pakistan · 2025 SCMR 1679 · decided 15 April 2025

By the FAI Legal editorial desk · 22 October 2026 · 5 min read

نہیں۔ دفعہ 302 (قتلِ عمد) ناقابلِ ضمانت ہے، اس لیے ضمانت خود بخود نہیں ملتی۔ لیکن ناممکن بھی نہیں۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت اگر آپ دو سال سے زیادہ مسلسل جیل میں ہوں اور ٹرائل ختم نہ ہوا ہو، تو عدالت ضمانت دینے کی پابند ہے، جب تک کوئی استثنا لاگو نہ ہو۔

نور آغا بنام سرکار، 2025 SCMR 1679 میں سپریم کورٹ نے کراچی کے ایک قتل کے مقدمے میں دو سال سے زیادہ قید شخص کو یہی ضمانت دی۔ ہائی کورٹ نے صرف الزام کی بنیاد پر اسے خطرناک مجرم کہا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا یہ کافی نہیں۔

اہم نکات

  • ناقابلِ ضمانت کا مطلب یہ نہیں کہ ضمانت ہو ہی نہیں سکتی۔ مطلب یہ ہے کہ تھانے میں ضمانت حق نہیں، فیصلہ عدالت کرتی ہے (دفعہ 497(1) ضابطہ فوجداری)۔
  • تاخیر کا اصول: الزام کی سزا موت تک ہو، دو سال سے زیادہ مسلسل حراست ہو، اور ٹرائل ختم نہ ہوا ہو، تو عدالت ضمانت پر رہا کرے گی۔ باقی جرائم میں یہ مدت ایک سال ہے۔ خاتون کے لیے ایک سال اور چھ ماہ۔
  • چار باتیں یہ حق ختم کر دیتی ہیں: تاخیر ملزم یا اس کی طرف سے کسی نے کروائی ہو، موت یا عمر قید والے جرم میں پہلے سزا ہو چکی ہو، موت یا عمر قید والا دہشت گردی کا الزام ہو، یا عدالت ٹھوس مواد کی بنیاد پر سمجھے کہ وہ عادی، بے خوف یا خطرناک مجرم ہے۔
  • اس رائے کے لیے ایسا ٹھوس مواد چاہیے جو معاشرے کو سنگین نقصان کا حقیقی خطرہ دکھائے۔ الزام کی سنگینی ایک پہلو ہو سکتی ہے، واحد بنیاد نہیں (2025 SCMR 1679، پیرا 8 اور 9)۔

دفعہ 302 میں "ناقابلِ ضمانت" کا اصل مطلب

ضابطہ فوجداری کا شیڈول دوم تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتلِ عمد) کو "ناقابلِ ضمانت" لکھتا ہے۔ سزا قصاص، موت، عمر قید یا پچیس سال تک قید ہے۔

دفعہ 497 بتاتی ہے کہ ناقابلِ ضمانت کا مطلب کیا ہے۔ عدالت ایسے ملزم کو بھی ضمانت پر رہا کر سکتی ہے، مگر اگر یہ یقین کرنے کی معقول وجوہات ہوں کہ وہ موت، عمر قید یا دس سال قید والے جرم کا مرتکب ہے تو رہا نہیں کرے گی۔ وکیل اسے ممانعتی شق کہتے ہیں۔

اس لیے قتل کے الزام میں میرٹ پر ضمانت مشکل ہوتی ہے، عموماً دفعہ 497(2) کے تحت مزید تفتیش کا کیس چاہیے۔ اسی لیے تاخیر کا اصول اہم ہے: یہ الگ بنیاد ہے جو میرٹ پر منحصر نہیں (2025 SCMR 1679، پیرا 8)۔

دفعہ 497 میں دو سال کا اصول

دفعہ 497(1) کا تیسرا جزوی حکم کہتا ہے کہ عدالت، سوائے اس کے کہ تاخیر ملزم یا اس کی طرف سے کسی نے کروائی ہو، موت کی سزا والے جرم کے اس ملزم کو ضمانت پر رہا کرے گی جو دو سال سے زیادہ مسلسل حراست میں ہو اور جس کا ٹرائل ختم نہ ہوا ہو۔ خاتون کے لیے یہ مدت ایک سال سے زیادہ ہے۔

جن جرائم کی سزا موت نہیں، ان میں یہ مدت ایک سال سے زیادہ، اور خاتون کے لیے چھ ماہ سے زیادہ ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق "shall" کا لفظ ملزم کا حق بناتا ہے (2025 SCMR 1679، پیرا 5)۔ مدت حراست کی تاریخ سے گنی جاتی ہے، فردِ جرم لگنے کی تاریخ سے نہیں۔ وکیلِ صفائی کی التوا کی درخواستیں ملزم کے خلاف نہیں گنی جاتیں، جب تک ان میں ٹرائل لٹکانے کا منصوبہ نظر نہ آئے (پیرا 7، نعیم سیمسن بنام سرکار، PLD 2022 SC 112 کا خلاصہ)۔

دو سال کا حق کب نہیں ملتا

چوتھا جزوی حکم تین قسم کے ملزمان کو اس اصول سے باہر رکھتا ہے: جسے موت یا عمر قید والے جرم میں پہلے سزا ہو چکی ہو؛ جو عدالت کی رائے میں عادی، بے خوف یا خطرناک مجرم ہو؛ اور جس پر موت یا عمر قید والا دہشت گردی کا الزام ہو۔

اور اگر تاخیر ملزم یا اس کی طرف سے کسی کے عمل یا کوتاہی سے ہوئی ہو تو تیسرا جزوی حکم خود کوئی حق نہیں دیتا۔

کراچی، 2022: دو سال سے زیادہ جیل، فیصلہ نہیں

درخواست گزار کو 10 اکتوبر 2022 کو دفعہ 54 ضابطہ فوجداری کے تحت تھانہ سہراب گوٹھ، کراچی میں دفعات 302، 365 اور 34 تعزیراتِ پاکستان کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی آر میں اس کا نام نہیں تھا۔ استغاثہ کے مطابق وہ ایک الگ گاڑی میں جائے وقوعہ تک گیا اور بعد میں وہ جگہ دکھائی جہاں سے دو خالی گولیاں ملیں (پیرا 2)۔

میرٹ پر اس کی ضمانت مسترد ہوئی۔ تاخیر کی بنیاد پر درخواست بھی ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے مسترد کی، ہائی کورٹ نے صرف اس بنیاد پر کہ وہ عادی، بے خوف یا خطرناک مجرم ہے (پیرا 2)۔ یہ متنازع نہیں تھا کہ وہ دو سال سے زیادہ حراست میں تھا اور تاخیر اس کی وجہ سے نہیں ہوئی (پیرا 4)۔

سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ کیا

15 اپریل 2025 کو جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل بینچ نے درخواست کو اپیل میں بدل کر منظور کیا اور تیسرے جزوی حکم کے تحت ضمانت دی (پیرا 10)۔

عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے یہ رائے محض موت کی سزا والے جرم میں اس کی مبینہ شمولیت کی بنیاد پر بنائی (پیرا 9)۔ کسی ملزم کو عادی، بے خوف یا خطرناک ماننے کے لیے استغاثہ کو ایسا مواد پیش کرنا ہوگا جو دکھائے کہ رہائی پر وہ معاشرے کو سنگین نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہاں نہ کوئی مجرمانہ ریکارڈ تھا، نہ تشدد کی تاریخ، نہ گواہوں کو دھمکیاں، نہ کوئی اور مواد (پیرا 4، 8 اور 9)۔

عدالت نے یہ بھی یاد دلایا کہ یہ اصول نظرانداز نہ کیا جائے کہ جرم ثابت ہونے تک ملزم بے گناہ ہے (پیرا 8)۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
10 اکتوبر 2022 کو کراچی میں دفعات 302، 365 اور 34 کے مقدمے میں گرفتار، ایف آئی آر میں نامزد نہیں، درخواست گزار دو سال سے زیادہ حراست میں رہا اور ٹرائل ختم نہ ہوا۔ ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اسے خطرناک مجرم کہہ کر تاخیر کی بنیاد پر ضمانت مسترد کی۔
سوال
کیا عدالت صرف الزام کی نوعیت کی بنیاد پر ملزم کو خطرناک مجرم کہہ کر دفعہ 497(1) کے تیسرے جزوی حکم والی ضمانت روک سکتی ہے؟
عدالت کا فیصلہ
نہیں۔ سنگین نقصان کے حقیقی خطرے کا مواد نہ ہو تو چوتھا جزوی حکم لاگو نہیں ہوتا اور قانونی حق روکا نہیں جا سکتا۔ ضمانت منظور ہوئی۔
وجہ
تیسرے جزوی حکم میں "shall" حق بناتا ہے۔ چوتھا جزوی حکم استثنا ہے جس کے لیے معتبر مواد پر مبنی رائے چاہیے، صرف جرم کی نوعیت یا مفروضوں پر نہیں۔ درخواست گزار کا نہ ریکارڈ تھا، نہ تشدد کی تاریخ، نہ دھمکیوں کا الزام۔
حدود
یہ مشاہدات عارضی ہیں اور ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوتے (پیرا 11)۔ ضمانت بریت نہیں۔ اگر تاخیر ملزم نے کروائی ہو یا چوتھے جزوی حکم کا کوئی استثنا لاگو ہو تو یہ حق نہیں ملتا۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“The legislature has explicitly used the expression 'shall' in the 3rd proviso and it creates a right in favour of an accused to be released on bail”

ترجمہ: مقننہ نے تیسرے جزوی حکم میں واضح طور پر "shall" کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ ملزم کے حق میں ضمانت پر رہائی کا حق پیدا کرتا ہے۔

2025 SCMR 1679, para 5

“the opinion cannot be based on mere presumptions, conjectures or subjective basis”

ترجمہ: یہ رائے محض مفروضوں، قیاس آرائیوں یا ذاتی خیال کی بنیاد پر نہیں بن سکتی۔

2025 SCMR 1679, para 8

“the statutory right under the 3rd proviso could not be withheld or denied”

ترجمہ: تیسرے جزوی حکم کے تحت قانونی حق روکا یا مسترد نہیں کیا جا سکتا تھا۔

2025 SCMR 1679, para 9

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Code of Criminal Procedure, 1898 s.497(1), third and fourth provisos

دفعہ 497(1)، تیسرا اور چوتھا جزوی حکم: موت کی سزا والے جرم میں دو سال سے زیادہ (خاتون: ایک سال) اور باقی جرائم میں ایک سال سے زیادہ (خاتون: چھ ماہ) مسلسل حراست اور ٹرائل ختم نہ ہو تو عدالت ضمانت پر رہا کرے گی، سوائے اس کے کہ تاخیر ملزم نے کروائی ہو؛ سابقہ سزا یافتہ، عدالت کی رائے میں خطرناک مجرم یا دہشت گردی کے ملزم کے لیے نہیں۔

Code of Criminal Procedure, 1898 Schedule II, PPC s.302 and s.324

شیڈول دوم: دفعہ 302 (قتلِ عمد) ناقابلِ ضمانت؛ قصاص، موت، عمر قید یا پچیس سال تک قید۔ دفعہ 324 (اقدامِ قتل) ناقابلِ ضمانت؛ دس سال تک قید اور جرمانہ۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ دو سال بعد ضمانت خود بخود مل جاتی ہے۔ عدالت پھر بھی استثنا دیکھتی ہے، اور ملزم کی کروائی ہوئی تاخیر یہ حق ختم کر دیتی ہے۔
  • ضمانت بریت نہیں۔ ٹرائل چلتا رہتا ہے، اور سپریم کورٹ کے مشاہدات عارضی تھے، ٹرائل پر اثر نہیں ڈالتے (پیرا 11)۔
  • اس سے عدالت کو یہ روک نہیں کہ جو ٹھوس مواد سے دوسروں کے لیے خطرہ ثابت ہو اسے ضمانت نہ دے۔ الزام کی سنگینی ایک پہلو ہو سکتی ہے (پیرا 8)۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کیا دفعہ 302 قابلِ ضمانت ہے؟

نہیں۔ ضابطہ فوجداری کا شیڈول دوم دفعہ 302 (قتلِ عمد) کو ناقابلِ ضمانت لکھتا ہے۔ عدالت پھر بھی ضمانت دے سکتی ہے: دفعہ 497(2) کے تحت مزید تفتیش کی بنیاد پر، یا دو سال سے زیادہ حراست اور ٹرائل ختم نہ ہونے پر بطور حق، جب تک کوئی استثنا نہ ہو (2025 SCMR 1679)۔

کیا پاکستان میں قتل کے مقدمے میں ضمانت مل سکتی ہے؟

ہاں، بعض صورتوں میں۔ قتل ممانعتی شق میں آتا ہے اس لیے میرٹ پر ضمانت مشکل ہے، مگر تیسرے جزوی حکم کا تاخیر والا اصول الگ بنیاد ہے۔ 2025 SCMR 1679 میں سپریم کورٹ نے دو سال سے زیادہ قید قتل کے ملزم کو یہ ضمانت دی۔

دفعہ 302 کیا ہے؟

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 قتلِ عمد، یعنی جان بوجھ کر قتل، کی سزا ہے: قصاص، موت، عمر قید، یا جہاں قصاص لاگو نہ ہو وہاں پچیس سال تک قید۔

کیا دفعہ 324 قابلِ ضمانت ہے؟

نہیں، دفعہ 324 (اقدامِ قتلِ عمد) بھی ناقابلِ ضمانت ہے۔ اس کی سزا موت نہیں، اس لیے تاخیر کا اصول ایک سال حراست (خاتون کے لیے چھ ماہ) پر لاگو ہوتا ہے۔ محمد عمر شہزاد بنام سرکار، 2023 SCMR 1450 میں سپریم کورٹ نے دو سال سے زیادہ قید 324 کے ملزم کو اسی بنیاد پر ضمانت دی۔

دو سال گرفتاری سے گنے جاتے ہیں یا فردِ جرم سے؟

مقدمے میں حراست کی تاریخ سے، فردِ جرم لگنے کی تاریخ سے نہیں (2025 SCMR 1679، پیرا 7، PLD 2022 SC 112 کے مطابق)۔

کیا خاتون کو جلد ضمانت ملتی ہے؟

ہاں۔ موت کی سزا والے الزام میں مدت ایک سال سے زیادہ اور باقی جرائم میں چھ ماہ سے زیادہ ہے۔ دفعہ 497(1) کا پہلا جزوی حکم بھی عدالت کو اجازت دیتا ہے کہ ممانعتی شق والے الزام میں بھی خاتون کو ضمانت پر رہا کرے۔

ماخذ

  • Noor Agha v. The State, 2025 SCMR 1679 (Supreme Court of Pakistan, 15 April 2025), paras 2, 4, 5, 7, 8, 9, 10, 11
    A court cannot withhold statutory bail under the third proviso to s.497(1) by calling the accused a dangerous criminal only because of the charge; bail granted after more than two years in custody. verified against full text
  • Nadeem Samson v. The State, PLD 2022 SC 112 (Supreme Court of Pakistan)
    Principles of statutory bail: the period runs from detention; only a deliberate pattern of delay by the accused counts against him. summarised in 2025 SCMR 1679 para 7
  • Muhammad Umer Shahzad v. The State, 2023 SCMR 1450 (Supreme Court of Pakistan, 6 June 2023)
    Section 324 case: the statutory period was one year; after more than two years in custody with no fault of the accused before the charge, bail was granted. verified against the reported order
  • Code of Criminal Procedure, 1898, s.497 and Schedule II (PPC ss.302, 324) text checked in FAI Statute Search, 22 October 2026 Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

کیا دفعہ 302 قابلِ ضمانت ہے؟

نہیں۔ لیکن دو سال سے زیادہ مسلسل جیل اور ٹرائل ختم نہ ہو تو عدالت ضمانت دینے کی پابند ہے (دفعہ 497 ضابطہ فوجداری؛ 2025 SCMR 1679)۔

قانون: دفعہ 497 کا تیسرا جزوی حکم۔ موت کی سزا والا الزام: دو سال (خاتون: ایک سال)۔ باقی جرائم: ایک سال (خاتون: چھ ماہ)۔

استثنا: تاخیر خود کروائی ہو، پہلے سنگین جرم میں سزا، دہشت گردی کا الزام، یا ٹھوس مواد کہ ملزم خطرناک ہے۔

کیس: کراچی، 2022۔ ایف آئی آر میں نام تک نہیں، دو سال سے زیادہ جیل، فیصلہ نہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا: خطرناک مجرم۔

سپریم کورٹ (اپریل 2025): صرف الزام کسی کو خطرناک نہیں بناتا۔ ضمانت منظور۔

یاد رکھیں: ضمانت بریت نہیں، مقدمہ چلتا رہتا ہے۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر چلتا ہے۔ اپنے معاملے پر کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ یہ صفحہ پڑھنے سے وکیل اور مؤکل کا تعلق قائم نہیں ہوتا۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید