FAI Media

Criminal law · Supreme Court of Pakistan

گواہ صرف مقتول کے گھر والے ہیں۔ کیا ان کی گواہی مانی جائے گی؟

مختصر جواب

ہاں۔ 2023 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ رشتہ دار ہونا، مفاد رکھنا نہیں: مفاد والا گواہ صرف وہ ہے جسے ملزم کی سزا سے کوئی فائدہ ہو۔ صرف رشتہ دار ہونے کی بنا پر گواہی رد نہیں کی جا سکتی۔

Aqil v. The State · Supreme Court of Pakistan · 2023 SCMR 831 · decided 16 February 2023

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 4 min read

جرم اکثر گھر میں، کھیتوں میں یا گلی میں ہوتا ہے جہاں موقع پر صرف متاثرہ کے اپنے گھر والے ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسے گواہوں کی بات نہیں مانی جائے گی کیونکہ وہ رشتہ دار ہیں۔

یہ بات ان خاندانوں کے لیے اہم ہے جو واقعے کے واحد گواہ ہوں، اور ان ملزمان کے لیے بھی جو جاننا چاہتے ہیں کہ ایسی گواہی کو کیسے پرکھا جاتا ہے۔

اہم نکات

  • سپریم کورٹ، 2023 SCMR 831: رشتہ دار ہونا مفاد رکھنے کے برابر نہیں (پیرا 6)۔
  • گواہ مفاد والا صرف تب ہے جب اسے ملزم کو سزا ملتے دیکھنے سے کوئی فائدہ ہو (پیرا 6)۔
  • عینی گواہوں کی گواہی صرف اس لیے رد نہیں کی جا سکتی کہ وہ رشتہ دار ہیں (پیرا 6)۔
  • زخمی عینی گواہ کی گواہی کا وزن زیادہ ہوتا ہے (پیرا 6)۔ عمر قید برقرار رہی اور اپیل کی اجازت نہیں ملی (پیرا 7)۔

ایک سطر میں اصول

متاثرہ کا رشتہ دار ہونا گواہ کو ناقابلِ اعتبار نہیں بناتا۔ عدالت دیکھتی ہے کہ کیا گواہ کو ملزم کی سزا سے کوئی فائدہ ہے، اور کیا اس کا بیان خود قابلِ یقین ہے۔ جو رشتہ دار موقع پر موجود تھا، خاص طور پر زخمی، وہ سب سے فطری گواہ ہو سکتا ہے۔

اس کیس میں کیا ہوا

5 اکتوبر 2011 کو صبح تقریباً ساڑھے سات بجے، چنیوٹ کے ایک گاؤں میں، ایک ماں اور اس کی بیٹیاں کپاس چننے جا رہی تھیں (پیرا 2)۔

ملزم نے فائرنگ کی۔ ماں اور ایک بیٹی قتل ہو گئیں، اور ایک اور بیٹی زخمی ہوئی (پیرا 2)۔

عینی گواہ صرف زخمی بیٹی اور اس کی بہن تھیں (پیرا 6)۔ ہائی کورٹ نے سزائے موت کو دو جرائم پر عمر قید میں بدل دیا۔

صفائی کی دلیل

سپریم کورٹ میں وکیلِ صفائی نے کہا کہ استغاثہ کے گواہ مفاد والے اور رشتہ دار ہیں، اس لیے ان کی بات نہ مانی جائے (پیرا 4)۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے 16 فروری 2023 کو درخواست کا فیصلہ کیا۔

عدالت نے دونوں بہنوں کو واقعے کی واحد اور سب سے فطری گواہ کہا (پیرا 6)۔

عدالت نے کہا کہ رشتہ دار ہونا مفاد رکھنے کے برابر نہیں، کہ گواہ مفاد والا صرف تب ہے جب اسے ملزم کو سزا ملتے دیکھنے سے کوئی فائدہ ہو، کہ زخمی عینی گواہ کی گواہی کا وزن زیادہ ہے، اور یہ کہ ایسی گواہی صرف اس لیے رد نہیں کی جا سکتی کہ گواہ رشتہ دار ہیں (پیرا 6)۔

درخواست خارج اور اپیل کی اجازت نہیں دی گئی۔ عمر قید برقرار (پیرا 7)۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
5 اکتوبر 2011 کو صبح تقریباً ساڑھے سات بجے، چنیوٹ کے ایک گاؤں میں، ایک ماں اور اس کی بیٹیاں کپاس چننے جا رہی تھیں جب ملزم نے فائرنگ کی؛ ماں اور ایک بیٹی قتل اور ایک اور بیٹی زخمی ہوئی۔ زخمی بیٹی اور اس کی بہن ہی عینی گواہ تھیں۔ ہائی کورٹ نے سزائے موت کو دو جرائم پر عمر قید کر دیا۔
سوال
کیا عینی گواہوں کی گواہی اس بنا پر رد کی جا سکتی ہے کہ وہ مقتولین کی رشتہ دار تھیں؟
عدالت کا فیصلہ
نہیں۔ رشتہ دار ہونا مفاد رکھنا نہیں۔ درخواست خارج، اپیل کی اجازت نہیں ملی، اور عمر قید برقرار۔
وجہ
گواہ مفاد والا صرف تب ہے جب اسے ملزم کی سزا سے کوئی فائدہ ہو۔ دونوں بہنیں واحد اور سب سے فطری گواہ تھیں؛ زخمی عینی گواہ کی گواہی کا وزن زیادہ ہے؛ اور صرف رشتہ دار ہونے پر گواہی رد نہیں ہوتی۔
حدود
اس کا مطلب یہ نہیں کہ رشتہ داروں کی بات ہمیشہ مانی جائے گی۔ ان کی گواہی بھی باقی گواہی کی طرح پرکھی جاتی ہے، اور جس گواہ کو ملزم کی سزا سے واقعی فائدہ ہو اس کی بات احتیاط سے دیکھی جا سکتی ہے۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“The term 'related' is not equivalent to 'interested'.”

ترجمہ: لفظ 'رشتہ دار' لفظ 'مفاد والا' کے برابر نہیں۔

2023 SCMR 831, para 6

“The testimony of an injured eye-witness carries more evidentiary value.”

ترجمہ: زخمی عینی گواہ کی گواہی کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔

2023 SCMR 831, para 6

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ رشتہ داروں کی بات خود بخود مان لی جائے گی۔ عدالت پھر بھی دیکھتی ہے کہ ان کا بیان فطری ہے اور باقی شہادت سے میل کھاتا ہے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ مفاد والا گواہ کبھی ہوتا ہی نہیں۔ جسے ملزم کی سزا سے فائدہ ہو وہ مفاد والا گواہ ہے، رشتہ دار ہو یا نہ ہو۔
  • اس سے ثبوت کا بوجھ کم نہیں ہوتا۔ کیس ثابت کرنا پھر بھی استغاثہ کا کام ہے۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کیا قتل کے مقدمے میں مقتول کے گھر والے گواہ بن سکتے ہیں؟

ہاں۔ سپریم کورٹ نے 2023 SCMR 831 میں کہا کہ رشتہ دار ہونا مفاد رکھنا نہیں، اور صرف رشتہ دار ہونے کی بنا پر گواہی رد نہیں کی جاتی۔

گواہ مفاد والا کب ہوتا ہے؟

سپریم کورٹ کے مطابق صرف تب جب اسے ملزم کو سزا ملتے دیکھنے سے کوئی فائدہ ہو (2023 SCMR 831، پیرا 6)۔

کیا زخمی گواہ کی بات کا وزن زیادہ ہوتا ہے؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ زخمی عینی گواہ کی گواہی کا وزن زیادہ ہوتا ہے (2023 SCMR 831، پیرا 6)۔

ماخذ

  • Aqil v. The State, 2023 SCMR 831 (Supreme Court of Pakistan, 16 February 2023), paras 2, 4, 6, 7
    Related is not equivalent to interested; injured eye-witness carries more evidentiary value; related witnesses' evidence not discarded on that ground alone; life sentences upheld, leave refused. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، گواہ اگر مقتول کے رشتہ دار ہوں تو ان کی گواہی نہیں مانی جاتی؟ غلط۔

سپریم کورٹ: "رشتہ دار" ہونا "مفاد رکھنے والا" ہونا نہیں۔ مفاد والا گواہ وہ ہے جسے ملزم کی سزا سے کوئی فائدہ ہو۔

اکتوبر 2011، چنیوٹ: صبح ساڑھے سات بجے ایک ماں اور اس کی بیٹیاں کپاس چننے جا رہی تھیں۔ ماں اور ایک بیٹی کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔

عینی گواہ صرف دو تھے: زخمی بیٹی اور اس کی بہن۔ وکیلِ صفائی نے کہا کہ یہ رشتہ دار ہیں۔

سپریم کورٹ (فروری 2023): صرف رشتہ دار ہونے پر گواہی رد نہیں کی جا سکتی۔ زخمی گواہ کی گواہی کا وزن اور زیادہ ہے۔ عمر قید برقرار (2023 SCMR 831)۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید