FAI Media

Consumer rights · Supreme Court of Pakistan

انشورنس کلیم رد ہو جائے تو کیا کریں؟

مختصر جواب

سپریم کورٹ آف پاکستان، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی اپیل (بیوہ کا نام یہاں نہیں دیا گیا)، 2024 SCMR 426، فیصلہ 13 دسمبر 2023۔ قانون: انشورنس آرڈیننس 2000، دفعات 118 اور 80؛ 2023 SCMR 826؛ 2019 SCMR 1917۔

State Life Insurance Corporation of Pakistan's appeal (the respondent, a widow, is not named here) · Supreme Court of Pakistan · 2024 SCMR 426 · decided 13 December 2023

By the FAI Legal editorial desk · 24 October 2026 · 8 min read

نہیں، کمپنی کا انکار آخری فیصلہ نہیں۔ انشورنس کمپنی کو مکمل کاغذات ملنے کے بعد 90 دن میں ادائیگی کرنی ہوتی ہے، ورنہ دیر کے ہر مہینے کا اضافی دینا پڑتا ہے (انشورنس آرڈیننس 2000، دفعہ 118)۔ دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ نے ایک بیوہ کا لائف انشورنس کلیم، دیر کے اضافی سمیت، اس کے شوہر کی موت کے بیس سال سے زیادہ بعد دلوایا (2024 SCMR 426)۔

آسان الفاظ میں: مکمل کاغذ جمع کروائیں اور تاریخ کا ثبوت رکھیں۔ کلیم رد ہو تو وجہ لکھوا کر لیں، پھر انشورنس محتسب کے پاس شکایت کریں یا انشورنس ٹریبونل میں دعویٰ کریں، جو انشورنس کلیم کی خاص عدالت ہے۔ لائف پالیسی کو دو سال گزر جائیں تو فارم کی کسی غلطی پر کلیم رد نہیں ہو سکتا، جب تک کمپنی ثابت نہ کرے کہ آپ نے کسی اہم بات پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا (دفعہ 80؛ 2019 SCMR 1917)۔

اہم نکات

  • انشورنس آرڈیننس 2000 ہر انشورنس معاہدے میں ایک وعدہ شامل کرتا ہے: ادائیگی واجب ہو جائے اور کلیم کرنے والا مکمل کاغذات سمیت ساری شرائط پوری کر دے تو کمپنی کے پاس 90 دن ہیں؛ اس کے بعد بیس ریٹ سے پانچ فیصد زیادہ کی شرح سے، ماہانہ حساب سے، اضافی رقم واجب ہے، جب تک کمپنی ثابت نہ کرے کہ تاخیر اس کے بس سے باہر تھی (دفعہ 118)۔
  • یہ اصول اس وقت بھی لاگو ہے جب پالیسی میں اس کا ذکر نہ ہو: دیر سے ادائیگی پر اضافی رقم ہر انشورنس معاہدے کی لازمی شرط ہے (2023 SCMR 826، پیرا 5)۔
  • 2024 SCMR 426 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ، یونین کونسل کے ڈیتھ رجسٹر کا اندراج اور پولیس رپورٹ سرکاری دستاویزات ہیں جن کے سچ ہونے کا قانونی مفروضہ ہے، اور جس کمپنی کو پوسٹ مارٹم چاہیے وہ خود کروائے (پیرا 9 اور 10)۔
  • دو سال چل جانے والی لائف پالیسی پروپوزل فارم کی کسی غلط بات پر رد نہیں ہو سکتی، جب تک کمپنی یہ نہ دکھائے کہ بات اہم تھی، دھوکے سے کہی گئی اور کہنے والا جانتا تھا کہ غلط ہے (دفعہ 80؛ 2019 SCMR 1917، پیرا 4 اور 5)۔
  • کلیم انشورنس ٹریبونل میں جاتے ہیں، عام سول عدالت میں نہیں (دفعہ 122(3))؛ 2024 والے کیس میں سول عدالت کا دعویٰ تقریباً چار سال بعد واپس ہوا۔ کمپنی کو پہلے لکھ کر انشورنس محتسب کے پاس بھی شکایت کی جا سکتی ہے (دفعہ 129)۔ پالیسی پر دعوے کی مدت موت یا نقصان سے تین سال ہے (لمیٹیشن ایکٹ 1908، آرٹیکل 86؛ PLD 2020 SC 324، پیرا 9)۔

انشورنس کلیم رد ہو جائے تو کیا کریں؟

پہلے انکار کو آخری نہ سمجھیں۔ انشورنس آرڈیننس 2000 ہر انشورنس معاہدے میں ایک وعدہ لکھ دیتا ہے: رقم واجب ہو جائے اور آپ مکمل کاغذات سمیت ساری شرائط پوری کر دیں تو کمپنی کے پاس ادائیگی کے لیے 90 دن ہیں۔ دیر کرے تو ہر مہینے کی تاخیر کا اضافی پیسہ دینا ہو گا، بیس ریٹ سے پانچ فیصد زیادہ کی شرح سے، جب تک وہ ثابت نہ کرے کہ تاخیر اس کے بس سے باہر تھی (دفعہ 118)۔

کمپنی انکار کرے تو آپ انشورنس محتسب کے پاس شکایت کر سکتے ہیں یا انشورنس ٹریبونل میں دعویٰ کر سکتے ہیں، جو انشورنس کلیم کی خاص عدالت ہے (دفعات 122 اور 129)۔ دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ نے دکھا دیا کہ قانون ایک جائز کلیم کا کہاں تک ساتھ دیتا ہے: اس نے ایک کمپنی سے بیوہ کا لائف کلیم، دیر کے اضافی سمیت، شوہر کی موت کے بیس سال سے زیادہ بعد دلوایا (2024 SCMR 426)۔

2001 سے 2023 تک: کیس

10 جولائی 2001 کو ایک شخص نے پانچ لاکھ روپے کی لائف انشورنس پالیسی لی، سالانہ پریمیم 39,740 روپے، اور بیوی کو نامزد کیا۔ پریمیم 2002 تک ادا ہوا۔ 24 جنوری 2003 کو وہ سڑک کے حادثے میں فوت ہو گیا۔ ایک اجنبی نے تھانہ شیراکوٹ، لاہور میں رپورٹ درج کروائی، اخبارات میں خبر چھپی، اور بیٹوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے۔ خاندان نے 18 فروری 2003 کو کمپنی کو اطلاع دی (2024 SCMR 426، پیرا 2، 3 اور 8)۔

کلیم منظور نہ ہوا۔ 10 نومبر 2003 کو بیوہ نے لاہور کی ایک سول عدالت میں دعویٰ کیا؛ 31 مئی 2007 کو دعویٰ واپس کر دیا گیا کیونکہ اس عدالت کو اختیار ہی نہیں تھا۔ پھر وہ انشورنس ٹریبونل گئی، جس نے 7 مئی 2015 کو دعویٰ خارج کر دیا۔ 15 اکتوبر 2020 کو لاہور ہائی کورٹ نے اس کی اپیل منظور کی اور دفعہ 118 کے اضافی سمیت کلیم کی ڈگری دے دی۔ کمپنی سپریم کورٹ گئی اور کہا کہ بیوہ نے موت کی وجہ ثابت نہیں کی (پیرا 1 اور 4 تا 6)۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا

13 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ نے کمپنی کی اپیل خارج کر دی۔ کمپنی نے کبھی ڈیتھ سرٹیفکیٹ، یونین کونسل کے ڈیتھ رجسٹر کے اندراج یا پولیس رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا تھا، اور یہ سرکاری دستاویزات ہیں جن کے سچ ہونے کا قانونی مفروضہ ہے (پیرا 9، PLD 1992 SC 822 کے حوالے سے)۔

پوسٹ مارٹم پر عدالت نے عملی بات کی: حادثے کے بعد عام طور پر خاندان پوسٹ مارٹم سے گریز کرتے ہیں، اور اگر کمپنی اسے ضروری سمجھتی تھی تو اپنا حق بچانے کے لیے خود کرواتی (پیرا 10)۔ بیوہ نے تمام ضابطے پورے کر کے کلیم جمع کروایا تھا اور کمپنی قانون کے مطابق ادائیگی میں بری طرح ناکام رہی (پیرا 11)۔ ہائی کورٹ کی ڈگری، اضافی رقم سمیت، برقرار رہی۔

90 دن کا اصول اور دیر کا اضافی

دفعہ 118 اس وقت بھی لاگو ہے جب آپ کی پالیسی میں اس کا ذکر نہ ہو۔ 2023 کے ایک کیس میں گروپ انشورنس والے ایک سکول ٹیچر اکتوبر 2008 میں فوت ہوئے، بیوہ نے چند دن میں کلیم کیا، اور کمپنی نے مارچ 2009 میں ایک ایسے نئے معاہدے کی بنیاد پر انکار کیا جس پر دستخط بعد میں، 17 مارچ 2009 کو ہوئے۔ کمپنی نے اگست 2013 میں چھ لاکھ روپے ادا کیے مگر اضافی دینے سے انکار کیا۔ سپریم کورٹ نے اضافی رقم برقرار رکھی: انکار غیر قانونی تھا اور کمپنی ثابت نہ کر سکی کہ تاخیر اس کے بس سے باہر تھی (2023 SCMR 826، پیرا 2، 3، 5 اور 7)۔

اس سے دو عملی باتیں نکلتی ہیں۔ 90 دن اس تاریخ سے گنے جاتے ہیں جو بعد میں آئے: رقم واجب ہونے کی تاریخ یا آپ کے ساری شرائط پوری کرنے کی تاریخ، اس لیے مکمل کاغذ جمع کروائیں اور تاریخ کا ثبوت رکھیں۔ اور کمپنی اپنی تاخیر کا الزام ری انشورنس کمپنی پر نہیں ڈال سکتی (دفعہ 118، وضاحت)۔

لائف پالیسی کا دو سال والا اصول

کمپنیاں کبھی لائف کلیم یہ کہہ کر رد کرتی ہیں کہ پالیسی ہولڈر نے بیماری چھپائی تھی۔ قانون اس پر حد لگاتا ہے۔ اگر کوئی بات چھپانا یا غلط بتانا دھوکے سے نہ تھا، یا اس سے پریمیم یا شرائط نہ بدلتیں، تو کمپنی صرف اس بنیاد پر معاہدہ ختم نہیں کر سکتی (دفعہ 79(2))۔ اور لائف پالیسی جاری ہونے کے دو سال بعد پروپوزل یا متعلقہ کاغذات کی کسی غلط بات پر اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جب تک کمپنی یہ نہ دکھائے کہ بات اہم تھی، دھوکے سے کہی گئی اور کہنے والا جانتا تھا کہ غلط ہے (دفعہ 80)۔

2018 کے ایک حکم میں سپریم کورٹ نے یہ اصول جولائی 2005 کی ایک پالیسی پر لاگو کیا جس کا ہولڈر ستمبر 2008 میں فوت ہوا۔ کمپنی نے 2010 میں بیماریاں چھپانے کا الزام لگا کر انکار کیا۔ مگر پالیسی سے پہلے کمپنی کے منظور شدہ میڈیکل اسپیشلسٹ نے اس کا معائنہ کیا تھا، 1994 میں ٹانگ کی ہڈی ٹوٹنے کا موت کی وجہ سے کوئی تعلق نہ تھا، اور بعد کی تفتیش ثابت نہ ہو سکی۔ کمپنی کو اپیل کی اجازت نہیں ملی (2019 SCMR 1917، پیرا 2 تا 5)۔

کلیم رد ہو جائے: قدم بہ قدم

1۔ مکمل کاغذ جمع کروائیں، اور ان کی کاپی اور تاریخ کا ثبوت رکھیں۔ 2۔ انکار اور اس کی وجہ لکھوا کر لیں۔ 3۔ انشورنس محتسب کے پاس جانا ہو تو پہلے کمپنی کو لکھ کر بتائیں کہ آپ شکایت کرنا چاہتے ہیں؛ ایک مہینے میں جواب نہ آئے یا جواب تسلی بخش نہ ہو تو اگلے تین مہینوں میں شکایت کریں (دفعہ 129)۔ محتسب کمپنی کو دوبارہ غور کرنے، فیصلہ بدلنے یا مناسب معاوضہ دینے کا حکم دے سکتا ہے (دفعہ 130)۔ اگر آپ کی انشورنس کمپنی سرکاری ہے، جیسے اسٹیٹ لائف، تو شکایت وفاقی محتسب کے پاس کریں: جو معاملات وفاقی محتسب کے دائرے میں آتے ہیں، انشورنس محتسب انہیں نہیں سن سکتا (دفعہ 127)۔ 2021 میں وفاقی محتسب نے اسٹیٹ لائف کو دو بیواؤں کے ڈیتھ کلیم ادا کرنے کا حکم دیا، اور صدر نے یہ حکم برقرار رکھا۔

4۔ رقم کا دعویٰ انشورنس ٹریبونل میں کریں: جن معاملات کا فیصلہ ٹریبونل کرتا ہے ان میں عام سول عدالت کو اختیار نہیں (دفعہ 122(3))، اور 2024 والے کیس میں بیوہ کے اسی وجہ سے تقریباً چار سال ضائع ہوئے۔ دفعہ 118 کے تحت اضافی رقم بھی مانگیں۔ 5۔ دیر نہ کریں: مدت موت یا نقصان سے تین سال ہے (لمیٹیشن ایکٹ 1908، پہلا شیڈول، آرٹیکل 86؛ PLD 2020 SC 324، پیرا 9)۔ ہر خط سنبھال کر رکھیں: جو کمپنی سروے یا تفتیش کے نام پر آپ کو انتظار کرواتی رہی، وہ شاید مدت گزرنے کا سہارا نہ لے سکے (PLD 2020 SC 324)۔

قانون کے طلبہ اور وکلا کے لیے

فورم: انشورنس ٹریبونل دفعہ 121 کے تحت بنتے ہیں؛ جہاں الگ ٹریبونل نہ ہو وہاں وفاقی حکومت ڈسٹرکٹ یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کو ٹریبونل کے اختیارات دے سکتی ہے۔ دفعہ 122(3) باقی تمام عدالتوں کا اختیار ختم کرتی ہے۔ دعوے یا جرمانے کی رقم ایک لاکھ روپے یا زیادہ ہو تو 30 دن میں ہائی کورٹ میں اپیل ہوتی ہے، جسے کم از کم دو جج سنتے ہیں (دفعہ 124)۔ 2024 والے کیس میں سول جج کے پاس دعویٰ ساڑھے تین سال بعد عدم اختیار پر واپس ہوا (2024 SCMR 426، پیرا 4)۔

ثبوت اور نیک نیتی: سرکاری ریکارڈ (ڈیتھ سرٹیفکیٹ، یونین کونسل رجسٹر، پولیس رپورٹ) کے سچ ہونے کا مفروضہ ہے، اور اگر کمپنی پوسٹ مارٹم ضروری سمجھے تو یہ ذمہ داری اسی کی ہے (2024 SCMR 426، پیرا 9 اور 10)۔ دفعہ 118 معاہدے میں شق نہ ہو تب بھی لاگو ہے، اور پالیسی دستخط کی تاریخ سے مؤثر ہوتی ہے (2023 SCMR 826، پیرا 5 اور 7)۔ دفعہ 80 ایک خاص قانون ہے جو لائف پالیسی کو دو سال بعد ناقابل اعتراض بنا دیتا ہے، اور دو سال پالیسی کی تاریخ سے گنے جاتے ہیں، علم کی تاریخ سے نہیں (2019 SCMR 1917، پیرا 4 اور 5)۔ انتہائی نیک نیتی کا اصول کمپنی پر بھی لاگو ہے، اور پالیسی کے مبہم الفاظ کا مطلب بیمہ دار کے حق میں لیا جاتا ہے (PLD 2020 SC 324، دفعات 75 تا 77 کے حوالے سے)۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
ایک شخص نے 10 جولائی 2001 کو پانچ لاکھ روپے کی لائف پالیسی لی اور بیوی کو نامزد کیا۔ 24 جنوری 2003 کو وہ سڑک کے حادثے میں فوت ہوا؛ موت کی رپورٹ لاہور کے ایک تھانے میں درج ہوئی اور بیٹوں نے پوسٹ مارٹم نہیں کروایا۔ کمپنی نے ادائیگی نہیں کی۔ سول عدالت کا دعویٰ 2007 میں عدم اختیار پر واپس ہوا، انشورنس ٹریبونل نے 2015 میں دعویٰ خارج کیا، اور لاہور ہائی کورٹ نے 2020 میں اضافی رقم سمیت اپیل منظور کی۔
سوال
کیا کمپنی اس بنیاد پر انکار کر سکتی تھی کہ بیوہ نے موت کی وجہ ثابت نہیں کی، اور کیا دیر سے ادائیگی پر اضافی رقم واجب تھی؟
عدالت کا فیصلہ
نہیں، اور ہاں۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ، یونین کونسل کا اندراج اور پولیس رپورٹ سرکاری دستاویزات ہیں جن کے سچ ہونے کا مفروضہ ہے اور کمپنی نے انہیں کبھی چیلنج نہیں کیا؛ پوسٹ مارٹم چاہیے تھا تو کمپنی خود کرواتی۔ کلیم تمام شرائط پوری کر کے جمع ہوا تھا، اس لیے دفعہ 118 کی اضافی رقم سمیت ہائی کورٹ کی ڈگری برقرار رہی اور اپیل خارج ہوئی (پیرا 9 تا 11)۔
وجہ
سرکاری ریکارڈ کے سچ ہونے کا مفروضہ ہے (پیرا 9، PLD 1992 SC 822)۔ حادثے کے بعد خاندان عام طور پر پوسٹ مارٹم سے گریز کرتے ہیں؛ ضرورت ہو تو یہ کمپنی کی ذمہ داری تھی (پیرا 10)۔ دفعہ 118 کے تحت مکمل کاغذات کے بعد 90 دن میں ادائیگی ہر انشورنس معاہدے کی لازمی شرط ہے (پیرا 10؛ 2023 SCMR 826، پیرا 5)۔
حدود
اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کلیم ادا کرنا لازم ہے: کسی اہم بات پر جان بوجھ کر جھوٹ سے لی گئی پالیسی اب بھی ختم ہو سکتی ہے (دفعات 79 اور 80)، اور کمپنی اضافی رقم سے تب بچتی ہے جب ثابت کرے کہ تاخیر اس کے بس سے باہر تھی (دفعہ 118(1))۔ یہ فیصلہ ایسے کلیم کا ہے جس کے کاغذات مکمل تھے۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“if the appellant/insurer deem it to be necessary, it should have been done by itself in order to protect its rights”

اگر کمپنی پوسٹ مارٹم ضروری سمجھتی تھی تو اپنا حق بچانے کے لیے خود کرواتی (2024 SCMR 426، پیرا 10)۔

2024 SCMR 426, para 10

“official documents and presumption of truth is attached with them”

یہ سرکاری دستاویزات ہیں اور ان کے سچ ہونے کا مفروضہ ہے (2024 SCMR 426، پیرا 9)۔

2024 SCMR 426, para 9

“on completion of all formalities, if the claim is not satisfied/ cleared within ninety days without any fault of the claimant when it becomes due, then, under the implied term of every contract of insurance the liquidated damages must be granted”

تمام ضابطے پورے ہونے کے بعد، کلیم کرنے والے کی کسی غلطی کے بغیر، واجب کلیم 90 دن میں ادا نہ ہو تو ہر انشورنس معاہدے کی لازمی شرط کے تحت اضافی رقم دینی ہو گی (2023 SCMR 826، پیرا 5)۔

2023 SCMR 826, para 5

“The option to seek annulment of the policy is available to the insurer in case of a life insurance policy within a period of two years.”

لائف پالیسی ختم کروانے کا اختیار کمپنی کے پاس صرف دو سال تک ہے (2019 SCMR 1917، پیرا 4)۔

2019 SCMR 1917, para 4

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Insurance Ordinance, 2000 Section 118

انشورنس آرڈیننس 2000، دفعہ 118: ادائیگی واجب ہو اور کلیم کرنے والا مکمل کاغذات سمیت تمام شرائط پوری کر دے، تو کمپنی 90 دن میں ادائیگی نہ کرے تو اضافی رقم دے گی، بیس ریٹ سے پانچ فیصد زیادہ، ماہانہ حساب سے، جب تک ثابت نہ کرے کہ تاخیر اس کے بس سے باہر تھی؛ ری انشورنس کمپنی کی تاخیر کوئی عذر نہیں۔

Insurance Ordinance, 2000 Sections 79 and 80

انشورنس آرڈیننس 2000، دفعات 79 اور 80: جو بات دھوکے سے نہ چھپائی گئی ہو، یا جس سے پریمیم یا شرائط نہ بدلتیں، اس پر کمپنی معاہدہ ختم نہیں کر سکتی؛ لائف پالیسی کے دو سال بعد پروپوزل کی غلط بات پر اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جب تک کمپنی اہم بات، دھوکہ اور جان بوجھ کر غلط بیانی ثابت نہ کرے۔

Insurance Ordinance, 2000 Sections 121, 122 and 124

انشورنس آرڈیننس 2000، دفعات 121، 122 اور 124: انشورنس ٹریبونل کے پاس سول عدالت کے اختیارات ہیں اور اس کے معاملات میں کوئی دوسری عدالت اختیار نہیں رکھتی؛ ایک لاکھ روپے یا زیادہ کے دعوے میں 30 دن میں ہائی کورٹ میں اپیل۔

Insurance Ordinance, 2000 Sections 127, 129 and 130

انشورنس آرڈیننس 2000، دفعات 127، 129 اور 130: انشورنس محتسب کمپنیوں کی بدانتظامی کی شکایات سنتا ہے، مگر وفاقی محتسب کے دائرے کے معاملات نہیں، جیسے سرکاری انشورنس کمپنیوں کے خلاف شکایات (دفعہ 127)؛ پہلے کمپنی کو لکھ کر بتائیں، ایک مہینے میں تسلی بخش جواب نہ ملے تو اگلے تین مہینوں میں شکایت کریں؛ محتسب دوبارہ غور، فیصلہ بدلنے یا معاوضے کا حکم دے سکتا ہے۔

Limitation Act, 1908 First Schedule, Article 86

لمیٹیشن ایکٹ 1908، پہلا شیڈول، آرٹیکل 86: پالیسی پر دعوے کی مدت تین سال، موت کی تاریخ سے یا نقصان کے واقعے سے۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کلیم ادا کرنا لازم ہے۔ کسی اہم بات پر جان بوجھ کر جھوٹ سے لی گئی پالیسی رد ہو سکتی ہے، اور پالیسی کی اپنی شرائط بھی لاگو رہتی ہیں۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ 90 دن آپ کی پہلی فون کال سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ رقم واجب ہونے کی تاریخ یا مکمل کاغذات سمیت ساری شرائط پوری کرنے کی تاریخ، جو بعد میں ہو، سے گنے جاتے ہیں (دفعہ 118)۔
  • اضافی رقم تب نہیں ملتی جب کمپنی ثابت کر دے کہ تاخیر اس کے بس سے باہر تھی (دفعہ 118(1))؛ ری انشورنس کمپنی کی تاخیر اس میں شامل نہیں۔
  • یہ آپ کے اپنے کلیم کا فیصلہ نہیں کرتا۔ ہر کلیم پالیسی، کاغذات اور ثبوت پر منحصر ہے۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

پاکستان میں انشورنس کلیم رد ہو جائے تو کیا کریں؟

وجہ لکھوا کر لیں، پھر کمپنی کو پہلے لکھ کر انشورنس محتسب کے پاس شکایت کریں یا انشورنس ٹریبونل میں دعویٰ کریں؛ کمپنی نے دیر کی ہو تو اضافی رقم بھی مانگیں (انشورنس آرڈیننس 2000، دفعات 118، 122 اور 129)۔

انشورنس کمپنی کتنے دن میں کلیم ادا کرنے کی پابند ہے؟

رقم واجب ہونے یا آپ کے مکمل کاغذات سمیت تمام شرائط پوری کرنے کی تاریخ، جو بعد میں ہو، سے 90 دن؛ اس کے بعد بیس ریٹ سے پانچ فیصد زیادہ کی شرح سے ماہانہ اضافی رقم (دفعہ 118)۔

کیا فارم کی غلطی پر لائف انشورنس کلیم رد ہو سکتا ہے؟

پالیسی کو دو سال ہو جائیں تو نہیں، جب تک کمپنی ثابت نہ کرے کہ بات اہم تھی، دھوکے سے کہی گئی اور جان بوجھ کر غلط تھی (دفعہ 80؛ 2019 SCMR 1917، پیرا 4 اور 5)۔ دو سال سے پہلے بھی جو غلطی دھوکے سے نہ ہو اس پر کمپنی معاہدہ ختم نہیں کر سکتی، البتہ اسے اس جگہ لایا جا سکتا ہے جہاں وہ ہوتی (دفعہ 79(2))۔

حادثے کے بعد لائف انشورنس کلیم کے لیے کیا پوسٹ مارٹم ضروری ہے؟

ہمیشہ نہیں۔ 2024 SCMR 426 میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ، یونین کونسل کا اندراج اور پولیس رپورٹ سرکاری دستاویزات تھیں جن کے سچ ہونے کا مفروضہ ہے؛ کمپنی کو پوسٹ مارٹم چاہیے تھا تو خود کرواتی (پیرا 9 اور 10)۔

انشورنس کمپنی کے خلاف شکایت کہاں کریں؟

نجی کمپنی کی بدانتظامی کی شکایت، کمپنی کو پہلے لکھنے کے بعد، انشورنس محتسب کے پاس؛ سرکاری کمپنی جیسے اسٹیٹ لائف کے خلاف وفاقی محتسب کے پاس (دفعہ 127)۔ رقم کا دعویٰ انشورنس ٹریبونل میں، کیونکہ ٹریبونل کے معاملات عام سول عدالت نہیں سن سکتی (دفعات 122(3) اور 129)۔

انشورنس کلیم کا مقدمہ کرنے کی کوئی مدت ہے؟

جی ہاں: موت یا نقصان سے تین سال (لمیٹیشن ایکٹ 1908، آرٹیکل 86؛ PLD 2020 SC 324، پیرا 9)۔ جو کمپنی سروے یا تفتیش کے نام پر آپ کو انتظار کرواتی رہی، وہ شاید مدت کا سہارا نہ لے سکے (PLD 2020 SC 324)۔

ماخذ

  • State Life Insurance Corporation of Pakistan's appeal (the respondent, a widow, is not named here), 2024 SCMR 426 (Supreme Court of Pakistan, 13 December 2023), paras 1-6, 8-11
    A widow's life insurance claim upheld with liquidated damages: official records proved the death, an insurer that wants a post-mortem must arrange it, and section 118 applies once the papers are complete. verified against full text
  • State Life Insurance Corporation's appeal in a group insurance claim (the widow is not named here), 2023 SCMR 826 (Supreme Court of Pakistan, 6 March 2023), paras 2-7
    Liquidated damages under section 118 are an implied term of every insurance contract; a refusal under a contract not yet signed was unlawful. verified against full text
  • State Life Insurance Corporation's petition in a life insurance claim (the widow is not named here), 2019 SCMR 1917 (Supreme Court of Pakistan, 19 March 2018), paras 2-5
    After two years a life policy cannot be avoided for misstatement unless the section 80 conditions are proved; an unproved claim of concealed illness failed. verified against full text
  • Jubilee General Insurance Co. Ltd. v. Ravi Steel Company, PLD 2020 SC 324 (Supreme Court of Pakistan, 9 October 2019), paras 9
    Three years under Article 86 of the Limitation Act applies to insurance claims before the Tribunal; an insurer may be estopped from pleading limitation after stringing the insured along; utmost good faith binds both sides. verified against full text
  • Insurance Ordinance, 2000, Sections 79, 80, 118, 121, 122, 124, 125, 127, 129 and 130 text checked in FAI Statute Search, 24 October 2026
  • Limitation Act, 1908, First Schedule, Article 86 text checked in FAI Statute Search, 24 October 2026 Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

انشورنس کلیم رد ہو جائے تو کیا کریں؟

Insurance claim reject ho jaye to kya karein?

کمپنی کا "نہیں" آخری فیصلہ نہیں ہوتا۔ قانون یہ ہے: آپ کے کاغذات مکمل ہوں تو کمپنی کے پاس ادائیگی کے لیے 90 دن ہیں، اور دیر کرے تو ہر مہینے کا اضافی بھی دے گی (انشورنس آرڈیننس 2000، دفعہ 118)۔

2001 میں ایک شخص نے پانچ لاکھ کی لائف پالیسی لی۔ 2003 میں وہ سڑک کے حادثے میں فوت ہو گیا اور کمپنی نے پیسے نہیں دیے۔

بیوہ بیس سال لڑتی رہی۔ دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ نے کہا: ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پولیس رپورٹ ثبوت ہیں، پوسٹ مارٹم چاہیے تھا تو کمپنی خود کرواتی۔ کلیم بھی دو اور دیر کا اضافی بھی (2024 SCMR 426)۔

آپ کا کلیم رد ہوا ہے تو:

1۔ انکار کی وجہ لکھوا کر لیں

2۔ کمپنی کو لکھ کر بتائیں کہ آپ شکایت کریں گے

3۔ ایک مہینے میں تسلی بخش جواب نہ آئے تو انشورنس محتسب کے پاس جائیں: شکایت مفت ہے، ہیلپ لائن 1082 (سرکاری کمپنی ہو تو وفاقی محتسب)

4۔ یا انشورنس ٹریبونل میں دعویٰ کریں۔ مدت: موت یا نقصان سے تین سال

لائف پالیسی کو دو سال ہو چکے ہوں تو فارم کی کسی غلطی پر کلیم رد نہیں ہو سکتا، جب تک کمپنی یہ ثابت نہ کرے کہ آپ نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا (دفعہ 80)۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید