FAI Media

Consumer rights · Statute: Punjab Consumer Protection Act 2005

نئی واشنگ مشین ایک ہفتے میں خراب ہو گئی۔ یہ رہا قانون۔

مختصر جواب

پنجاب میں پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005 طریقہ بتاتا ہے: کمپنی کو تحریری نوٹس، جواب کے لیے پندرہ دن، پھر تیس دن کے اندر کنزیومر کورٹ میں دعویٰ۔ عدالت چیز لیبارٹری میں ٹیسٹ کروا سکتی ہے اور مرمت، نئی چیز، قیمت کی واپسی، ہرجانہ اور وکیل کا خرچ دلوا سکتی ہے۔

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 4 min read

نئی مشین چند دن میں کام چھوڑ دیتی ہے، دکان والا کمپنی کے پاس بھیج دیتا ہے، اور کمپنی کی ہیلپ لائن کوئی نہیں اٹھاتا۔ اکثر لوگ ہار مان کر مرمت کا خرچ خود اٹھا لیتے ہیں۔

یہ بات پنجاب میں ہر اس شخص کے لیے اہم ہے جس نے دکان سے یا آن لائن خراب چیز یا ناقص سروس خریدی ہو اور جاننا چاہتا ہو کہ قانون اسے کیا حق دیتا ہے۔

اہم نکات

  • دفعہ 28(1): نقصان اٹھانے والا صارف تحریری نوٹس کے ذریعے بنانے والی کمپنی یا سروس دینے والے سے نقص دور کرنے یا ہرجانہ دینے کا مطالبہ کرے گا۔
  • دفعہ 28(2): کمپنی نوٹس ملنے کے پندرہ دن کے اندر جواب دے گی۔ دفعہ 28(3) کے تحت جب تک نوٹس پہنچنے اور جواب نہ آنے کا ثبوت نہ ہو، دعویٰ نہیں سنا جائے گا۔
  • دفعہ 28(4): دعویٰ وجہِ دعویٰ پیدا ہونے کے تیس دن کے اندر دائر ہوگا۔ کنزیومر کورٹ معقول وجہ پر بعد میں دعویٰ دائر کرنے کی اجازت دے سکتی ہے، شرط میں دی گئی حد کے اندر۔
  • دفعہ 31: عدالت نقص دور کرنے، نئی چیز دینے، قیمت واپس کرنے، معقول معاوضے، ہرجانے، اور وکیل کی فیس سمیت اصل خرچ کا حکم دے سکتی ہے۔ 2025 کی ترمیم کے بعد آن لائن خریداری بھی شامل ہے۔

ایک سطر میں اصول

پہلے لکھ کر بھیجیں، پھر عدالت جائیں۔ کمپنی کو تحریری نوٹس دیں اور اس کے پہنچنے کا ثبوت رکھیں۔ جواب نہ آئے تو تیس دن کے اندر کنزیومر کورٹ میں دعویٰ کریں، اور جو حل چاہیے وہ مانگیں۔

قدم بہ قدم

پہلا قدم: بنانے والی کمپنی یا سروس دینے والے کو تحریری نوٹس کہ چیز یا سروس ناقص ہے، اور نقص دور کرنے یا ہرجانہ دینے کا مطالبہ (دفعہ 28(1))۔ رسید اور نوٹس پہنچنے کا ثبوت رکھیں۔

دوسرا قدم: جواب کا انتظار۔ قانون نوٹس ملنے سے پندرہ دن دیتا ہے (دفعہ 28(2))۔

تیسرا قدم: جواب نہ آئے تو وجہِ دعویٰ کے تیس دن کے اندر کنزیومر کورٹ میں دعویٰ، نوٹس پہنچنے کے ثبوت کے ساتھ (دفعہ 28(3) اور 28(4))۔ عدالت معقول وجہ پر مزید وقت دے سکتی ہے، مگر وارنٹی ختم ہونے کے ساٹھ دن سے زیادہ نہیں، یا اگر وارنٹی کی مدت نہ ہو تو خریداری کی تاریخ سے ایک سال سے زیادہ نہیں۔

عدالت میں کیا ہوتا ہے

عدالت آپ کے دعوے کی کاپی کمپنی کو بھیجتی ہے اور اسے پندرہ دن میں تحریری جواب دینے کا کہتی ہے، جو زیادہ سے زیادہ پندرہ دن اور بڑھ سکتا ہے (دفعہ 30(1)(a))۔

اگر چیز کے تجزیے یا ٹیسٹ کے بغیر فیصلہ نہ ہو سکے تو عدالت آپ سے نمونہ لے کر سیل کرتی ہے اور لیبارٹری بھیجتی ہے، جو تیس دن میں رپورٹ دیتی ہے (دفعہ 30(1)(d))۔ ہو سکتا ہے آپ کو لیبارٹری کی فیس جمع کروانی پڑے، مگر ٹیسٹ آپ کے حق میں آئے تو یہ فیس کمپنی ادا کرے گی (دفعہ 30(1)(e))۔

عدالت کے پاس گواہ بلانے اور دستاویزات منگوانے کے لیے دیوانی عدالت کے اختیارات ہیں، اور اسے فریقِ مخالف کو سمن ملنے کے چھ ماہ کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے (دفعہ 30(3) اور 30(5))۔

عدالت کیا حکم دے سکتی ہے

اگر عدالت مطمئن ہو کہ چیز ناقص ہے یا سروس کی شکایت درست ہے، تو وہ ان میں سے ایک یا زیادہ حکم دے گی: نقص دور کرو؛ بغیر نقص والی نئی چیز دو؛ قیمت یا چارجز واپس کرو؛ غفلت سے ہونے والے نقصان کا معقول معاوضہ دو؛ مناسب ہو تو ہرجانہ؛ وکیل کی فیس سمیت اصل خرچ؛ چیز مارکیٹ سے واپس منگواؤ؛ اسے ضبط یا تلف کرو؛ یا مقررہ مدت میں نقص دور کرو (دفعہ 31)۔

آن لائن خریدا؟

پنجاب کنزیومر پروٹیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2025 نے صارف کی تعریف میں وضاحت شامل کی: چیز خریدنے یا سروس لینے میں "آف لائن یا آن لائن لین دین، الیکٹرانک ذرائع سے، ٹیلی شاپنگ، براہِ راست فروخت یا ملٹی لیول مارکیٹنگ" شامل ہے (دفعہ 2(c))۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
یہ کسی کیس کی نہیں، قانون کی وضاحت ہے: نئی مشین خراب، اور کمپنی جواب نہیں دیتی، پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005 کے تحت۔
سوال
پنجاب کا صارف عدالت جانے سے پہلے کیا کرے، کب تک، اور کنزیومر کورٹ کیا حکم دے سکتی ہے؟
عدالت کا فیصلہ
پہلے تحریری نوٹس (دفعہ 28(1))؛ پندرہ دن میں جواب لازم (دفعہ 28(2))؛ نوٹس کے ثبوت کے ساتھ وجہِ دعویٰ کے تیس دن میں دعویٰ (دفعہ 28(3)، (4))؛ ضرورت ہو تو لیبارٹری ٹیسٹ (دفعہ 30(1)(d))؛ مرمت، نئی چیز، قیمت کی واپسی، معاوضہ، ہرجانہ اور وکیل کی فیس کے احکامات (دفعہ 31)۔
وجہ
قانون تحریری نوٹس کو دعوے کی شرط بناتا ہے تاکہ کمپنی کو معاملہ ٹھیک کرنے کا موقع ملے، اور پھر اگر وہ ایسا نہ کرے تو عدالت کو وسیع اختیارات دیتا ہے۔
حدود
یہ صرف پنجاب کا قانون ہے؛ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین ہیں۔ "بنانے والے" میں بیچنے والا صرف بعض صورتوں میں آتا ہے (دفعہ 2(h))، اور جو شخص دوبارہ بیچنے یا تجارتی مقصد کے لیے خریدے وہ صارف نہیں (دفعہ 2(c))۔ مدتیں مختصر ہیں، اس لیے جلدی کریں۔

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Punjab Consumer Protection Act, 2005 s.28

بنانے والی کمپنی یا سروس دینے والا نوٹس ملنے کے پندرہ دن کے اندر جواب دے گا۔ کنزیومر کورٹ کوئی دعویٰ نہیں سنے گی جب تک صارف نوٹس دینے اور اس کے پہنچنے کا ثبوت نہ دے اور یہ کہ کمپنی نے جواب نہیں دیا۔ دعویٰ وجہِ دعویٰ پیدا ہونے کے تیس دن کے اندر دائر ہوگا۔

Punjab Consumer Protection Act, 2005 s.30(1)(d)

اگر چیز کے تجزیے یا ٹیسٹ کے بغیر تنازع طے نہ ہو سکے تو کنزیومر کورٹ صارف سے نمونہ لے کر سیل کرے گی اور تجزیے یا ٹیسٹ کی ہدایت کے ساتھ لیبارٹری بھیجے گی۔

Punjab Consumer Protection Act, 2005 s.31

احکامات میں شامل ہیں: نقص دور کرنا، اسی طرح کی بغیر نقص والی نئی چیز دینا، قیمت واپس کرنا، معقول معاوضہ، ہرجانہ، اور قانونی کارروائی پر آنے والا وکیل کی فیس سمیت اصل خرچ۔

Punjab Consumer Protection Act, 2005 s.2(c), Explanation

چیز خریدنے یا کرائے پر لینے اور سروس لینے میں آف لائن یا آن لائن لین دین، الیکٹرانک ذرائع، ٹیلی شاپنگ، براہِ راست فروخت یا ملٹی لیول مارکیٹنگ شامل ہیں۔ یہ وضاحت پنجاب کنزیومر پروٹیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2025 سے آئی۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • یہ پورے پاکستان پر لاگو نہیں۔ یہ پنجاب کا قانون ہے؛ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین ہیں۔
  • اس سے آپ نوٹس چھوڑ نہیں سکتے۔ دفعہ 28(3) کہتی ہے کہ نوٹس پہنچنے اور جواب نہ آنے کے ثبوت کے بغیر دعویٰ نہیں سنا جائے گا۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیچنے والا "بنانے والا" ہے۔ قانون کی تعریف میں بیچنے والا صرف بعض صورتوں میں آتا ہے، اس لیے نوٹس درست فریق کو دیں۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کمپنی کے پاس میرے نوٹس کا جواب دینے کے لیے کتنا وقت ہے؟

نوٹس ملنے سے پندرہ دن (پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005، دفعہ 28(2))۔

کنزیومر کورٹ میں دعویٰ کرنے کے لیے میرے پاس کتنا وقت ہے؟

وجہِ دعویٰ پیدا ہونے سے تیس دن (دفعہ 28(4))۔ عدالت معقول وجہ پر بعد میں دعویٰ قبول کر سکتی ہے، مگر وارنٹی ختم ہونے کے ساٹھ دن سے زیادہ نہیں، یا وارنٹی کی مدت نہ ہو تو خریداری سے ایک سال سے زیادہ نہیں۔

کیا مجھے وکیل کی فیس واپس مل سکتی ہے؟

دفعہ 31(g) کے تحت کنزیومر کورٹ کارروائی پر آنے والا وکیل کی فیس سمیت اصل خرچ دلوا سکتی ہے۔

ماخذ

  • Punjab Consumer Protection Act, 2005 (as amended in 2025), ss.2(c), 28, 30, 31 text checked in FAI Statute Search Punjab Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

نئی واشنگ مشین ایک ہفتے میں خراب، اور کمپنی فون نہیں اٹھاتی؟ پنجاب میں اس کا قانون موجود ہے: پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005۔

دفعہ 28: کمپنی کو تحریری نوٹس۔ انہیں 15 دن میں جواب دینا ہوتا ہے۔

جواب نہیں آیا؟ 30 دن کے اندر کنزیومر کورٹ میں دعویٰ (عدالت معقول وجہ پر مزید وقت دے سکتی ہے)۔

عدالت چیز لیبارٹری میں ٹیسٹ کروا سکتی ہے (دفعہ 30)۔

دفعہ 31: عدالت حکم دے سکتی ہے: نقص دور کرو، نئی چیز دو، قیمت واپس کرو، ہرجانہ، اور وکیل کا خرچ بھی۔

آن لائن خریداری؟ 2025 کی ترمیم کے بعد وہ بھی شامل ہے۔

اصل دفعہ ایف اے آئی لیگل کی اسٹیچیوٹ سرچ میں پڑھیں۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ یہ پنجاب کا قانون ہے؛ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین ہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید