Workplace · Supreme Court of Pakistan
کیا گریجویٹی ہر پرائیویٹ ملازم کا قانونی حق ہے؟
مختصر جواب
گیٹز فارما بنام محمد نفیس، سپریم کورٹ آف پاکستان، 2021 SCMR 1785، فیصلہ 24 مارچ 2021۔
Getz Pharma (Pvt.) Limited, Karachi v. Muhammad Nafees and others · Supreme Court of Pakistan · 2021 SCMR 1785 · decided 24 March 2021
By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read
ہمیشہ نہیں۔ اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968 گریجویٹی ورک مین کو دیتا ہے، یعنی ہاتھ کا یا کلرکی کام کرنے والا، جو استعفیٰ دے یا مس کنڈکٹ کے سوا کسی وجہ سے نکالا جائے۔ 2021 SCMR 1785 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ سیلز منیجر ورک مین نہیں، اس لیے ویجز اتھارٹی ان کی گریجویٹی نہیں دلوا سکتی تھی۔
تو پہلا سوال یہ نہیں کہ آپ نے کتنے سال کام کیا۔ سوال یہ ہے کہ کام کس نوعیت کا تھا، اور آپ کا کنٹریکٹ کیا کہتا ہے۔
اہم نکات
- اسٹینڈنگ آرڈر 12(6): جو ورک مین استعفیٰ دے، یا مس کنڈکٹ کے سوا کسی وجہ سے نوکری ختم ہو، اسے ہر مکمل سال، یا چھ ماہ سے زیادہ حصے، پر تیس دن کی اجرت ملتی ہے۔
- جس عرصے میں آجر نے پراویڈنٹ فنڈ چلایا اور ورک مین جتنا یا اس سے زیادہ حصہ ڈالا، اس عرصے کی گریجویٹی قانوناً واجب نہیں۔
- گیٹز فارما (2021): تین سیلز منیجرز کو ویجز اتھارٹی نے 15.5 لاکھ، 32.9 لاکھ اور 15.9 لاکھ روپے گریجویٹی دلوائی تھی۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم ختم کر دیے۔
- جو گریجویٹی صرف کنٹریکٹ میں لکھی ہو وہ "کسی قانون کے تحت واجب" نہیں، اس لیے ویجز اتھارٹی اسے نہیں دلوا سکتی۔
قانون ورک مین کو کیا دیتا ہے
انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس 1968 کے شیڈول کا اسٹینڈنگ آرڈر 12(6) کہتا ہے کہ جو ورک مین استعفیٰ دے یا آجر اس کی نوکری مس کنڈکٹ کے سوا کسی وجہ سے ختم کرے، اسے ہر مکمل سال، یا چھ ماہ سے زیادہ حصے، پر تیس دن کی اجرت کے برابر گریجویٹی ملے گی: مقررہ اجرت والے کو آخری مہینے کی اجرت پر، پیس ریٹ والے کو پچھلے بارہ مہینوں کی سب سے زیادہ تنخواہ پر۔ یہ کنٹریکٹ، سمجھوتے یا ایوارڈ کے فائدوں کے علاوہ ہے۔
اسی آرڈر میں دو حدیں ہیں۔ مس کنڈکٹ پر برطرفی اس سے باہر ہے۔ اور جہاں آجر پراویڈنٹ فنڈ چلائے اور ورک مین جتنا یا زیادہ حصہ ڈالے، اس عرصے کی گریجویٹی واجب نہیں۔ اسٹینڈنگ آرڈر 12(7) کے تحت ورک مین کو پراویڈنٹ فنڈ کی رقم، آجر کے حصے سمیت، استعفیٰ یا برطرفی پر بھی ملتی ہے۔
پیمنٹ آف ویجز ایکٹ 1936 کی دفعہ 15(1) کے تحت ویجز اتھارٹی وہ دعوے سنتی ہے جن میں پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی کسی قانون کے تحت واجب ہو۔ زیادہ تر ملازم یہی تیز راستہ اپناتے ہیں۔
تین سیلز منیجر اور ایک دوا ساز کمپنی
تین افراد 2003 اور 2005 میں گیٹز فارما میں ٹیریٹری منیجر بھرتی ہوئے اور سینئر اور نیشنل سیلز منیجر بنے۔ جولائی 2017 میں ایک نے استعفیٰ دیا جو دو دن بعد منظور ہوا۔ نومبر 2017 میں باقی دو کو شوکاز نوٹس کے بعد برطرف کیا گیا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ تینوں نے اپنی ڈسٹری بیوشن کمپنی بنا لی تھی (پیرا 2 تا 5)۔
تینوں ویجز اتھارٹی گئے۔ 26 دسمبر 2019 کو اتھارٹی نے 15,50,670، 32,90,000 اور 15,87,300 روپے گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ اور آخری مہینے کی تنخواہ دلوائی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 نومبر 2020 کو کمپنی کی رٹ درخواستیں خارج کر دیں (پیرا 2 تا 4)۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا
پوچھنے پر ملازمین کے وکیل نے بتایا کہ دعویٰ اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس کے تحت ہے (پیرا 7)۔ یہ قانون صرف ورک مین کی بات کرتا ہے، اس لیے عدالت نے دیکھا کہ کیا یہ منیجر ورک مین تھے (پیرا 11، 12)۔
اپنے پرانے فیصلوں، بشمول پانچ رکنی بینچ کے سید مطلوب حسن (1992 SCMR 227) اور اورنگزیب بنام میڈی پیک (2018 SCMR 2027)، کی پیروی میں عدالت نے کہا کہ سیلز مین کا کام ہاتھ کا یا کلرکی نہیں، اس لیے وہ ورک مین نہیں (پیرا 14 تا 16)۔
ملازمین نے اپنی درخواستوں میں ورک مین ہونے کا دعویٰ تک نہیں کیا تھا، نہ کوئی شہادت دی۔ آجر انکار کرے تو یہ ثابت کرنا ملازم کی ذمہ داری ہے (پیرا 18)۔
ان کے کنٹریکٹ میں گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈ کا حق تھا۔ مگر عدالت نے کہا کہ دفعہ 15 میں "کسی قانون کے تحت واجب" سے مراد مقننہ کا بنایا قانون ہے، کنٹریکٹ نہیں (پیرا 19)۔ اپیلیں منظور ہوئیں اور گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈ کے دعوے خارج ہوئے؛ آخری مہینے کی تنخواہ کا حکم برقرار رہا (پیرا 21)۔
دعویٰ کرنے سے پہلے کیا دیکھیں
پہلے اپنا کام۔ ہاتھ کا یا کلرکی کام ورک مین کی طرف اشارہ کرتا ہے؛ سیلز، مینجمنٹ اور نگرانی عموماً نہیں۔ دعوے میں یہ لکھیں اور اپنے فرائض کا ثبوت لائیں، کیونکہ آجر انکار کرے گا۔
دوسرا، آپ کا کنٹریکٹ اور کمپنی کے قواعد: کیا ان میں گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ یا دونوں ہیں؟ تیسرا، نوکری ختم ہونے کی وجہ: مس کنڈکٹ پر برطرفی 12(6) سے باہر ہے۔ پھر درست فورم کے لیے وکیل سے بات کریں۔
کیس ایک نظر میں
- حقائق
- گیٹز فارما کے تین سیلز منیجرز (ایک نے جولائی 2017 میں استعفیٰ دیا، دو نومبر 2017 میں برطرف) نے ویجز اتھارٹی سے گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ اور آخری تنخواہ کا حکم لیا؛ اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔
- سوال
- کیا ویجز اتھارٹی ان ملازمین کو گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈ دلوا سکتی تھی جنہوں نے اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس کے تحت ورک مین ہونا ثابت نہیں کیا؟
- عدالت کا فیصلہ
- نہیں۔ سیلز مین ورک مین نہیں؛ ملازمین نے ورک مین ہونے کا دعویٰ کیا نہ ثابت کیا۔ ان کی گریجویٹی کنٹریکٹ سے تھی، جو دفعہ 15 کے تحت "قانون" نہیں۔ یہ دعوے خارج ہوئے۔
- وجہ
- اسٹینڈنگ آرڈر 12(6) اور 12(7) گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈ ورک مین کو دیتے ہیں۔ دفعہ 15(1) صرف مقننہ کے بنائے قانون کے تحت واجب رقوم کے لیے ہے۔ کنٹریکٹ قانوناً قابلِ نفاذ ہو سکتا ہے، مگر خود قانون نہیں۔
- حدود
- عدالت نے یہ طے نہیں کیا کہ منیجر اپنی کنٹریکٹ والی گریجویٹی کسی اور فورم، جیسے سول مقدمے، میں لے سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ نہیں کہا کہ ہر سیلز مین یا منیجر ہر لیبر قانون سے باہر ہے، اور اٹھارویں ترمیم کے بعد بنے صوبائی اسٹینڈنگ آرڈرز قوانین پر بات نہیں کی۔ اصل ورک مین کی قانونی گریجویٹی زیرِ بحث نہیں تھی۔
عدالت کے اپنے الفاظ
“this Court has been taking consistent view that a salesman by very nature of his work is not a workman and does not fall within the ambit of the term workman.”
ترجمہ: یہ عدالت مسلسل یہ رائے رکھتی آئی ہے کہ سیلز مین اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے ورک مین نہیں اور ورک مین کی تعریف میں نہیں آتا۔
2021 SCMR 1785, para 16
“The word payable under any law, in our view, could not be anything else than the law as made by the competent legislative authority and will not stretch to the dues of Gratuity and Provident Fund payable under the contract.”
ترجمہ: "کسی قانون کے تحت واجب" سے مراد صرف مجاز مقننہ کا بنایا قانون ہے؛ یہ کنٹریکٹ کے تحت واجب گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈ تک نہیں پھیلتا۔
2021 SCMR 1785, para 19
“This contract of employment of the respondents with the petitioner could not be termed as a law but at best could be considered as to whether it is enforceable in law or not.”
ترجمہ: ملازمین اور کمپنی کا ملازمت کا کنٹریکٹ قانون نہیں کہلا سکتا؛ زیادہ سے زیادہ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ قانوناً قابلِ نفاذ ہے یا نہیں۔
2021 SCMR 1785, para 19
جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے
جو ورک مین استعفیٰ دے یا مس کنڈکٹ کے سوا کسی وجہ سے نکالا جائے، اسے ہر مکمل سال یا چھ ماہ سے زیادہ حصے پر تیس دن کی اجرت؛ آجر کے برابر یا زیادہ حصے والے پراویڈنٹ فنڈ کے عرصے کی گریجویٹی نہیں۔
ورک مین کو پراویڈنٹ فنڈ کی رقم، آجر کے حصے سمیت، استعفیٰ یا برطرفی پر بھی ملتی ہے۔
ویجز اتھارٹی اجرت کی کٹوتی، تاخیر، اور کسی قانون کے تحت واجب پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی کے دعوے سنتی ہے۔
اس کا کیا مطلب نہیں
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ آجر ورک مین کی گریجویٹی روک سکتا ہے۔ جو ورک مین استعفیٰ دے یا مس کنڈکٹ کے سوا کسی وجہ سے نکالا جائے، قانوناً اس کا حقدار ہے۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ منیجر کی کنٹریکٹ والی گریجویٹی ختم ہو گئی۔ عدالت نے صرف یہ کہا کہ ویجز اتھارٹی اسے نہیں دلوا سکتی؛ دوسرے فورمز کا فیصلہ نہیں کیا۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ عہدے کا نام فیصلہ کرتا ہے۔ اصل کام دیکھا جاتا ہے، اور اسے دعوے میں لکھنا اور ثابت کرنا پڑتا ہے۔
لوگ کیا پوچھتے ہیں
کیا کمپنی میری گریجویٹی روک سکتی ہے؟
اگر آپ اسٹینڈنگ آرڈرز قانون کے تحت ورک مین ہیں اور استعفیٰ دیا یا مس کنڈکٹ کے سوا کسی وجہ سے نکالے گئے، تو نہیں، سوائے اس عرصے کے جو آجر کے پراویڈنٹ فنڈ میں آتا ہو۔ ورک مین نہیں تو گریجویٹی آپ کے کنٹریکٹ پر ہے۔
ورک مین کون ہے؟
صنعتی یا تجارتی ادارے میں اجرت پر ہنر مند یا غیر ہنر مند ہاتھ کا یا کلرکی کام کرنے والا۔ سپریم کورٹ بار بار کہہ چکی ہے کہ سیلز مین ورک مین نہیں۔
گریجویٹی کیسے بنتی ہے؟
ہر مکمل سال، یا چھ ماہ سے زیادہ حصے، پر تیس دن کی اجرت؛ مقررہ اجرت پر آخری مہینے کی اجرت، پیس ریٹ پر پچھلے بارہ مہینوں کی سب سے زیادہ تنخواہ۔
مجھے مس کنڈکٹ پر نکالا گیا۔ کیا گریجویٹی ملے گی؟
اسٹینڈنگ آرڈر 12(6) کے تحت نہیں، وہ مس کنڈکٹ کو باہر رکھتا ہے۔ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم، آجر کے حصے سمیت، 12(7) کے تحت پھر بھی ملتی ہے۔
ماخذ
- Getz Pharma (Pvt.) Limited, Karachi v. Muhammad Nafees and others, 2021 SCMR 1785 (Supreme Court of Pakistan, 24 March 2021), paras 2-5, 7, 9-12, 14-21
Salesmen are not workmen under the Standing Orders Ordinance 1968; contractual gratuity is not 'payable under any law' under s.15 Payment of Wages Act; gratuity and provident fund claims dismissed. verified against full text - Syed Matloob Hassan v. Brooke Bond Pakistan Limited, 1992 SCMR 227 (Supreme Court of Pakistan)
A salesman is not a workman under the Standing Orders Ordinance (as described in 2021 SCMR 1785, paras 15-16). cited through 2021 SCMR 1785 - Industrial and Commercial Employment (Standing Orders) Ordinance, 1968, Sched., S.O. 12(6), 12(7) text checked in FAI Statute Search
Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.
ریل میں کیا کہا گیا
ریل کے الفاظ پڑھیں
کیا کمپنی آپ کی گریجویٹی روک سکتی ہے؟
ہمیشہ نہیں۔ قانون گریجویٹی ورک مین کو دیتا ہے؛ سپریم کورٹ نے سیلز منیجرز کو ورک مین نہیں مانا (2021 SCMR 1785)۔
قانون: جو ورک مین (ہاتھ کا یا کلرکی کام) استعفیٰ دے، یا مس کنڈکٹ کے سوا کسی وجہ سے نکالا جائے، اسے ہر سال کی نوکری پر تیس دن کی اجرت بطور گریجویٹی ملتی ہے (اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968، اسٹینڈنگ آرڈر 12(6))۔
کیس: ایک دوا ساز کمپنی کے تین سیلز منیجر، بارہ سال یا زیادہ کی نوکری۔ ایک نے استعفیٰ دیا، دو برطرف ہوئے۔ ویجز اتھارٹی نے گریجویٹی دلوا دی، ایک کی ہی ساڑھے پندرہ لاکھ روپے۔ ہائی کورٹ نے مان لیا۔
سپریم کورٹ (مارچ 2021): سیلز مین ورک مین نہیں۔ ویجز اتھارٹی صرف وہ گریجویٹی دلوا سکتی ہے جو کسی قانون کے تحت واجب ہو؛ کنٹریکٹ قانون نہیں۔ گریجویٹی کے دعوے خارج۔
دیکھیں: کیا آپ ورک مین ہیں؟ آپ کا کنٹریکٹ کیا کہتا ہے؟ صوبوں کے اپنے اسٹینڈنگ آرڈرز قوانین بھی ہیں۔
یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر چلتا ہے۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.





