Criminal law · Sindh High Court
غیرت کے نام پر قتل۔ اگر گھر والے معاف کر دیں تو کیا قاتل آزاد ہو جاتا ہے؟
مختصر جواب
نہیں۔ 2016 سے تعزیراتِ پاکستان کہتی ہے کہ ورثا معاف بھی کر دیں تو سزا عمر قید ہے، اور 2024 میں سندھ ہائی کورٹ نے ایسے خاندان کا صلح نامہ مسترد کر دیا جو شروع سے خاموش رہا۔
Arbelo alias Arbab Kosh v. The State · Sindh High Court (Sukkur Bench) · 2024 PCrLJ 2028 · decided 31 May 2024
By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ قتل کے مقدمے میں گھر والوں کی معافی سب کچھ ختم کر دیتی ہے، چاہے کسی عورت کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہو۔ تعزیراتِ پاکستان میں ورثا قصاص معاف کر سکتے ہیں یا صلح کر سکتے ہیں، لیکن 2016 سے غیرت کے نام پر قتل کے لیے قانون نے واضح حد مقرر کر دی ہے۔
یہ بات گھرانوں، پولیس افسران، پراسیکیوٹرز اور وکلا کے لیے اہم ہے جو آج بھی صلح کو ایسے مقدمے کا اختتام سمجھتے ہیں۔
اہم نکات
- 2016 کی ترمیم کے بعد تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 311 کہتی ہے کہ قصاص معاف ہونے یا صلح کے بعد بھی، اگر قتل غیرت کے نام پر یا اس کے بہانے کیا گیا ہو تو سزا عمر قید ہے۔
- قانون غیرت کے نام پر جرم کو فساد فی الارض میں شمار کرتا ہے (دفعہ 299(ee))، اور اس سے مراد کاروکاری، سیاہ کاری اور ایسی رسمیں ہیں (دفعہ 299(ii))۔
- 2024 PCrLJ 2028 میں سندھ ہائی کورٹ نے ان ورثا کا صلح نامہ ماننے سے انکار کر دیا جنہوں نے قتل کی رپورٹ تک درج نہیں کروائی تھی، اور اپیلیں میرٹ پر سننے کا حکم دیا۔
- سپریم کورٹ نے 2024 SCMR 1584 میں کہا کہ نہ ملک کا قانون اور نہ مذہب نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیتا ہے۔
ایک سطر میں اصول
گھر والے معاف کر سکتے ہیں، مگر معافی اب غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کو آزاد نہیں کرتی۔ دفعہ 311 کے تحت قصاص معاف ہونے یا صلح کے بعد بھی عدالت تعزیر کے طور پر سزا دیتی ہے، اور 2016 سے غیرت کے نام پر یا اس کے بہانے کیے گئے جرم کی سزا عمر قید مقرر ہے۔
اس کیس میں کیا ہوا
یکم ستمبر 2021 کو گھوٹکی کے تھانہ وستی جیون شاہ کی حدود میں، اطلاع ملنے پر پولیس کی گشت ایک گھر پہنچی۔ ان کے سامنے ایک مسلح شخص نے اپنی انیس بیس سال کی سوتیلی بہن کو ایک تعلق کا الزام لگا کر گھسیٹ کر باہر نکالا اور گولی مار دی۔ وہ موقع پر دم توڑ گئی۔
اس کے خاندان سے کوئی رپورٹ درج کروانے نہیں آیا۔ پولیس کے ایک افسر نے ریاست کی طرف سے ایف آئی آر درج کی۔
18 اگست 2023 کو ٹرائل کورٹ نے اسے دفعہ 302(ب) کے تحت عمر قید (تعزیر) اور ورثا کو دس لاکھ روپے معاوضے کی سزا دی۔ اپیل کے دوران ورثا نے کہا کہ انہوں نے اسے معاف کر دیا ہے، قصاص اور دیت معاف کر دی ہے، اور عدالت صلح منظور کرے۔
عدالت نے صلح کیوں مسترد کی
سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے 31 مئی 2024 کو صلح کی درخواستوں کا فیصلہ کیا۔
عدالت نے کہا کہ خاندان خاموش تماشائی بنا رہا؛ کسی نے نہ قتل کی رپورٹ کی، نہ مقدمے کا ساتھ دیا۔ عدالت کے مطابق مقتولہ کے ساتھ شروع سے ان کے بے حس رویے نے انہیں اس کے قتل پر صلح کرنے کا اہل نہیں چھوڑا۔
صلح کی درخواستیں خارج کر دی گئیں اور اپیلیں میرٹ پر سننے کا حکم دیا گیا۔ یہ حکم خود اپیل کا فیصلہ نہیں ہے۔
نام نہاد غیرت کے قتل پر سپریم کورٹ
گیارہ دن بعد، محمد علی مہر بنام ریاست (2024 SCMR 1584، 11 جون 2024) میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ نہ ملک کا قانون اور نہ مذہب نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیتا ہے، یہ سیدھا سادہ قتل ہے، اور اسے فساد فی الارض سمجھا جاتا ہے۔
کیس ایک نظر میں
- حقائق
- گھوٹکی، یکم ستمبر 2021: پولیس گشت کے سامنے ملزم نے مبینہ تعلق پر اپنی سوتیلی بہن (19/20) کو گولی مار دی۔ خاندان نے رپورٹ تک نہیں کی؛ ایف آئی آر پولیس نے درج کی۔ 18 اگست 2023 کو دفعہ 302(ب) کے تحت عمر قید۔ اپیل کے دوران ورثا نے معاف کر کے صلح کی درخواستیں دیں۔
- سوال
- کیا وہ ورثا جو خاموش رہے اور مقدمے کی پیروی نہیں کی، غیرت کے نام پر قتل میں صلح کر سکتے ہیں؟
- عدالت کا فیصلہ
- صلح کی درخواستیں خارج؛ شروع سے ورثا کے رویے نے انہیں صلح کا اہل نہیں چھوڑا۔ اپیلیں میرٹ پر سنی جائیں گی۔
- وجہ
- خاندان خاموش تماشائی بنا رہا اور قتل کی رپورٹ تک نہیں کی۔ قانون غیرت کے نام پر جرم کو فساد فی الارض مانتا ہے، اور دفعہ 311 ایسے مقدمات میں معافی یا صلح کے بعد عمر قید مقرر کرتی ہے۔
- حدود
- یہ زیرِ التوا اپیل میں صلح کی درخواستوں پر حکم تھا، سزا پر حتمی فیصلہ نہیں۔ عمر قید والی شرط صرف غیرت کے نام پر یا اس کے بہانے کیے گئے جرم پر لاگو ہوتی ہے؛ دوسرے قتل کے مقدمات میں معافی اور صلح کے عام اصول لاگو ہوتے ہیں۔
عدالت کے اپنے الفاظ
“Neither the law of the land nor religion permits so-called honour killing which amounts to murder simpliciter.”
ترجمہ: نہ ملک کا قانون اور نہ مذہب نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیتا ہے، جو سیدھا سادہ قتل ہے۔
2024 SCMR 1584, para 11
جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے
قصاص معاف ہونے یا صلح کے بعد قتلِ عمد میں تعزیر۔ 2016 کی ترمیم کے بعد شرط: اگر جرم غیرت کے نام پر یا اس کے بہانے کیا گیا ہو تو سزا عمر قید ہوگی۔
فساد فی الارض میں غیرت کے نام پر یا اس کے بہانے کیا گیا جرم شامل ہے، یعنی کاروکاری، سیاہ کاری یا ایسی رسمیں۔
قتلِ عمد کی سزا بطور تعزیر؛ اسی دفعہ کے تحت ملزم کو سزا ہوئی۔
اس کا کیا مطلب نہیں
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ قتل میں کبھی معافی نہیں ہو سکتی۔ معافی اور صلح اب بھی قانون میں موجود ہیں؛ 2016 کی شرط غیرت کے نام پر قتل کے لیے عمر قید مقرر کرتی ہے۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کیس میں اپیل کا حتمی فیصلہ ہو گیا۔ عدالت نے صرف صلح مسترد کی اور اپیلیں میرٹ پر سننے کا حکم دیا۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاندان کے اندر ہر قتل غیرت کا قتل ہے۔ جرم غیرت کے نام پر ہوا یا نہیں، یہ عدالت شہادت دیکھ کر طے کرتی ہے۔
لوگ کیا پوچھتے ہیں
غیرت کے نام پر قتل میں گھر والے معاف کر دیں تو کیا ہوتا ہے؟
2016 کی ترمیم کے بعد دفعہ 311 کے تحت عدالت پھر بھی سزا دیتی ہے، اور اگر جرم غیرت کے نام پر یا اس کے بہانے کیا گیا ہو تو سزا عمر قید ہے۔
اگر خاندان مقدمہ درج نہ کروائے تو کیا پولیس درج کر سکتی ہے؟
جی ہاں۔ اس کیس میں خاندان سے کسی نے رپورٹ نہیں کی، اور پولیس نے ریاست کی طرف سے ایف آئی آر درج کی۔
کوئی غیرت کے نام پر کسی عورت کو دھمکی دے رہا ہے، میں کیا کروں؟
اگر کسی کی جان کو خطرہ ہو تو فوراً 15 پر پولیس کو کال کریں، پھر تحفظ اور قانونی اقدامات کے لیے وکیل سے بات کریں۔
ماخذ
- Arbelo alias Arbab Kosh v. The State, 2024 PCrLJ 2028 (Sindh High Court (Sukkur Bench), 31 May 2024), paras 1, 2, 4, 5, 7, 11, 13
Compromise refused: heirs who stayed silent from the outset are incompetent to compound the murder; appeals to be heard on merits. verified against full text Sindh High Court (judgment PDF) - Muhammad Ali Mahar v. The State, 2024 SCMR 1584 (Supreme Court of Pakistan, 11 June 2024), paras 11
Neither the law of the land nor religion permits so-called honour killing; it is regarded as fasad-fil-arz. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF) - Pakistan Penal Code, 1860, ss.299(ee), 299(ii), 311 text checked in FAI Statute Search (current, as amended in 2016) Pakistan Code
Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.
ریل میں کیا کہا گیا
ریل کے الفاظ پڑھیں
سنا ہے، غیرت کے نام پر قتل ہو اور گھر والے معاف کر دیں، تو قاتل آزاد؟ غلط۔
قانون: 2016 سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 311 کہتی ہے کہ اگر قتل غیرت کے نام پر یا اس کے بہانے کیا گیا ہو، تو قصاص معاف ہونے یا صلح کے بعد بھی سزا عمر قید ہے۔ قانون غیرت کے نام پر جرم کو فساد فی الارض میں شمار کرتا ہے (دفعہ 299)۔
کیس: ستمبر 2021، گھوٹکی۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی گشت ایک گھر پہنچی۔ ان کے سامنے ایک شخص نے اپنی انیس بیس سال کی سوتیلی بہن کو، ایک لڑکے سے تعلق کا الزام لگا کر، گھسیٹ کر باہر نکالا اور گولی مار دی۔ وہ موقع پر دم توڑ گئی۔
گھر سے کسی نے رپورٹ تک درج نہیں کروائی؛ مقدمہ پولیس نے خود درج کیا۔ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا دی۔ اپیل کے دوران گھر والوں نے اسے معاف کر دیا اور صلح نامہ پیش کیا۔
سندھ ہائی کورٹ (مئی 2024): جو گھر والے شروع سے خاموش تماشائی بنے رہے، ان کا یہ رویہ انہیں اس قتل کو معاف کرنے کا اہل نہیں چھوڑتا۔ صلح کی درخواستیں مسترد؛ اپیل اب میرٹ پر سنی جائے گی (2024 PCrLJ 2028)۔
سپریم کورٹ (جون 2024): "نہ ملک کا قانون اور نہ مذہب نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیتا ہے" (2024 SCMR 1584)۔
یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.





