FAI Media

Criminal law · Supreme Court of Pakistan

کیا عدالت میں بچے کی بات مانی جاتی ہے؟

مختصر جواب

ہاں۔ قانونِ شہادت کے تحت ہر شخص، بچہ بھی، گواہی دینے کا اہل ہے، جب تک عدالت یہ نہ سمجھے کہ وہ سوال نہیں سمجھ سکتا یا سمجھداری سے جواب نہیں دے سکتا۔ 2020 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے دس سال کی بچی کی گواہی رد کر کے صریح غلطی کی۔

Raja Khurram Ali Khan v. Tayyaba Bibi · Supreme Court of Pakistan · PLD 2020 SC 146 · decided 10 January 2020

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 4 min read

جب کسی بچے کو نقصان پہنچتا ہے تو گھر والوں سے اکثر کہا جاتا ہے کہ عدالت جانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ بچے کی بات کوئی نہیں مانے گا۔

یہ بات والدین کے لیے، ہر اس شخص کے لیے جو کسی بچے پر ظلم ہوتا دیکھے، اور ان بچوں کے لیے اہم ہے جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔

اہم نکات

  • قانونِ شہادت آرڈر 1984 کا آرٹیکل 3: ہر شخص گواہی دینے کا اہل ہے، جب تک عدالت یہ نہ سمجھے کہ کم عمری، بہت زیادہ بڑھاپا، بیماری یا ایسی کوئی وجہ اسے سوال سمجھنے یا سمجھداری سے جواب دینے سے روکتی ہے۔
  • صرف عمر کی وجہ سے بچہ نااہل نہیں ہوتا۔ معیار یہ ہے کہ بچہ سوال سمجھے اور سمجھداری سے جواب دے۔
  • سپریم کورٹ، PLD 2020 SC 146: ٹرائل کورٹ نے دس سال کی گھریلو ملازمہ کی زبانی گواہی کو پوری طرح رد کر کے صریح غلطی کی (پیرا 76)۔
  • عدالت نے یہ بھی کہا کہ بچوں کو آرام سے اور بغیر خوف کے گواہی دینے کا موقع ملنا چاہیے، اور جج پوری گواہی کے دوران ان کی سمجھ کو جانچتا رہے (پیرا 48 اور 49)۔

ایک سطر میں اصول

پاکستان میں گواہ کے لیے کوئی کم سے کم عمر مقرر نہیں۔ اگر عدالت مطمئن ہو کہ بچہ سوال سمجھتا ہے اور سمجھداری سے جواب دے سکتا ہے تو وہ گواہی دے سکتا ہے، اور اس کی گواہی کو باقی شہادت کی طرح پرکھا جاتا ہے۔

اس کیس میں کیا ہوا

دسمبر 2016 میں اسلام آباد میں دس سال کی ایک بچی ایک گھر میں گھریلو ملازمہ تھی (پیرا 71)۔

میڈیکل بورڈ نے اس کے جسم پر بائیس زخم پائے (پیرا 7)۔

چار ہمسایوں نے گواہی دی، تصویروں کا فرانزک رپورٹ میں جائزہ لیا گیا، اور برتن برآمد ہوئے (پیرا 64 سے 66)۔

ٹرائل کورٹ نے کیا کیا

ٹرائل کورٹ نے بچی کی اپنی زبانی گواہی کو پوری طرح نظر انداز کر دیا۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے 10 جنوری 2020 کو فیصلہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے بچی کی زبانی گواہی کو پوری طرح رد کر کے صریح غلطی کی (پیرا 76)، اور پیرا 78 میں یہی بات دہرائی۔ اس کی گواہی کی تائید طبی شہادت اور چار آزاد گواہوں سے ہوتی تھی۔

سزائیں برقرار رہیں: گھر کی خاتون کی پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 337-A(i)، 337-F(i) اور 328-A (بچے پر ظلم) کے تحت، اور اس کے شوہر کی دفعات 328-A اور 201 کے تحت۔

عدالت نے یہ بھی بتایا کہ بچوں کی گواہی کیسے ہونی چاہیے: جج پوری گواہی کے دوران جانچتا رہے کہ بچہ بات سمجھ رہا ہے، اور عدالتیں اسکرین یا بند کمرہ عدالت جیسے طریقے اپنا سکتی ہیں تاکہ بچہ آرام سے اور بغیر خوف کے گواہی دے سکے (پیرا 48 اور 49)۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
اسلام آباد میں ایک گھر میں کام کرنے والی دس سال کی بچی دسمبر 2016 میں بائیس زخموں کے ساتھ ملی، جیسا کہ میڈیکل بورڈ نے درج کیا۔ چار ہمسایوں نے گواہی دی، تصویروں کا فرانزک جائزہ ہوا اور برتن برآمد ہوئے۔ ٹرائل کورٹ نے بچی کی اپنی گواہی پوری طرح رد کر دی۔
سوال
کیا ٹرائل کورٹ کا بچی کی زبانی گواہی رد کرنا درست تھا؟
عدالت کا فیصلہ
نہیں۔ ٹرائل کورٹ نے اس کی گواہی پوری طرح رد کر کے صریح غلطی کی۔ سزائیں برقرار رہیں۔
وجہ
قانونِ شہادت کے آرٹیکل 3 کے تحت بچہ گواہی کا اہل ہے اگر سوال سمجھے اور سمجھداری سے جواب دے۔ اس کے بیان کی تائید طبی شہادت اور چار آزاد گواہوں سے ہوئی۔ بچے کی سمجھ کو پوری گواہی کے دوران جانچا جائے، اور بچوں کو بغیر خوف کے گواہی کا موقع ملے۔
حدود
ہر کیس میں بچے کی گواہی کو عدالت پرکھتی ہے۔ اس فیصلے میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر بچے کی بات لازماً مانی جائے؛ یہ کہا گیا ہے کہ اہل بچے کی گواہی کو یونہی رد نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“The trial Court blatantly erred in completely discarding the oral testimony of Tayyaba Bibi.”

ترجمہ: ٹرائل کورٹ نے طیبہ بی بی کی زبانی گواہی کو مکمل طور پر رد کر کے صریح غلطی کی۔

PLD 2020 SC 146, para 76

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Qanun-e-Shahadat Order, 1984 Art. 3

ہر شخص گواہی دینے کا اہل ہے، جب تک عدالت یہ نہ سمجھے کہ کم عمری، بہت زیادہ بڑھاپا، جسمانی یا ذہنی بیماری، یا اسی طرح کی کوئی اور وجہ اسے سوال سمجھنے یا ان کا سمجھداری سے جواب دینے سے روکتی ہے۔

Pakistan Penal Code, 1860 s.328-A

بچے پر ظلم۔ ان جرائم میں سے ایک جن میں PLD 2020 SC 146 میں سزائیں برقرار رہیں۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کی گواہی خود بخود مان لی جاتی ہے۔ عدالت کو مطمئن ہونا ہوتا ہے کہ بچہ سوال سمجھتا ہے اور سمجھداری سے جواب دیتا ہے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کی بات ماننے کے لیے دوسرے گواہ لازمی ہیں۔ البتہ اس کیس میں بچی کے بیان کی تائید طبی شہادت اور چار آزاد گواہوں سے ہوئی۔
  • اس فیصلے میں کوئی کم سے کم عمر مقرر نہیں ہوئی۔ آرٹیکل 3 کوئی عمر نہیں بتاتا؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ گواہ سمجھ کر سمجھداری سے جواب دے سکتا ہے یا نہیں۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کیا پاکستان میں گواہ کے لیے کوئی کم سے کم عمر ہے؟

قانونِ شہادت کے آرٹیکل 3 میں کوئی عمر نہیں لکھی۔ ہر شخص گواہی کا اہل ہے، جب تک عدالت یہ نہ سمجھے کہ کم عمری یا ایسی کوئی وجہ اسے سوال سمجھنے یا سمجھداری سے جواب دینے سے روکتی ہے۔

کیا عدالت عمر کی وجہ سے بچے کی گواہی نظر انداز کر سکتی ہے؟

PLD 2020 SC 146 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے دس سال کی بچی کی زبانی گواہی پوری طرح رد کر کے صریح غلطی کی۔

بچے کی گواہی کیسے ہونی چاہیے؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ جج پوری گواہی کے دوران بچے کی سمجھ جانچتا رہے، اور اسکرین یا بند کمرہ عدالت جیسے طریقے بچے کو آرام سے اور بغیر خوف کے گواہی دینے میں مدد دے سکتے ہیں (پیرا 48 اور 49)۔

ماخذ

  • Raja Khurram Ali Khan v. Tayyaba Bibi, PLD 2020 SC 146 (Supreme Court of Pakistan, 10 January 2020), paras 7, 48, 49, 64 to 66, 71, 76, 78
    Trial court blatantly erred in completely discarding a child witness's testimony; convictions maintained; guidance on recording child evidence without fear. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)
  • Qanun-e-Shahadat Order, 1984, Art. 3 text checked in FAI Statute Search Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، بچے کی گواہی عدالت میں نہیں مانی جاتی؟ غلط۔

قانونِ شہادت آرٹیکل 3: ہر شخص گواہی دے سکتا ہے، جب تک عدالت یہ نہ سمجھے کہ کم عمری، بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے وہ سوال سمجھنے یا سمجھداری سے جواب دینے کے قابل نہیں۔

دسمبر 2016، اسلام آباد: دس سال کی طیبہ ایک گھر میں ملازمہ تھی۔ میڈیکل بورڈ کو اس کے جسم پر 22 زخم ملے۔

ٹرائل کورٹ نے اس کی گواہی کو پوری طرح نظر انداز کر دیا۔ سپریم کورٹ (جنوری 2020) نے کہا کہ یہ سنگین غلطی تھی، کیونکہ اس کی گواہی کی تائید میڈیکل ثبوت اور چار آزاد گواہوں سے ہوتی تھی۔ سزائیں برقرار رہیں (PLD 2020 SC 146)۔

عدالت نے یہ بھی کہا: بچوں کی گواہی آرام سے اور بغیر خوف کے ریکارڈ ہو، اور جج پوری گواہی کے دوران دیکھے کہ بچہ سوال سمجھ رہا ہے۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید