Property and inheritance · Supreme Court of Pakistan
گھر والوں نے گھر پر قبضہ کر لیا؟ واپس کیسے لیں
مختصر جواب
سپریم کورٹ آف پاکستان، نیاز احمد بنام اعجاز احمد، PLD 2024 SC 1152، فیصلہ 15 جولائی 2024۔ حد: عباس آصف زمان بنام ریاست، فوجداری درخواست نمبر 61-K/2025، فیصلہ 15 اکتوبر 2025۔ قانون: ناجائز بے دخلی ایکٹ 2005، دفعات 2 تا 8۔
Niaz Ahmed and another v. Aijaz Ahmed and others · Supreme Court of Pakistan · PLD 2024 SC 1152 · decided 15 July 2024
By the FAI Legal editorial desk · 25 October 2026 · 8 min read
جی ہاں، قبضے کا قانون گھر والوں پر بھی لگتا ہے۔ ناجائز بے دخلی ایکٹ 2005 صرف قبضہ مافیا کے لیے نہیں: جولائی 2024 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ "ہر ناجائز قابض" پر لگتا ہے، اور کراچی کے ایک شخص کو اس کے اپنے گھر کی اوپر والی منزل واپس دلانے کا حکم برقرار رکھا، جس پر اس کے بھائی اور بھابھی نے تالے توڑ کر قبضہ کیا تھا (PLD 2024 SC 1152)۔
آسان الفاظ میں: اگر کوئی بھی، چاہے رشتہ دار ہو، بغیر کسی حق کے زبردستی آپ کے گھر یا زمین پر قبضہ کر لے تو آپ سیدھا سیشن کورٹ میں شکایت کر سکتے ہیں۔ قانون عدالت سے کہتا ہے کہ ساٹھ دن میں فیصلہ کرے، اور مقدمے کے دوران اگر پہلی نظر میں قابض کا کوئی حق نہ بنے تو عدالت کو آپ کو واپس گھر دلانا ہے۔ ایک شرط: اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ جو گھر والے آپ کی اجازت سے رہتے تھے اور کوئی زبردستی نہیں ہوئی، ان کا معاملہ سول کورٹ میں جائے گا (فوجداری درخواست نمبر 61-K/2025)۔
اہم نکات
- ناجائز بے دخلی ایکٹ 2005 کی دفعہ 3: کوئی بھی شخص بغیر قانونی حق کے کسی جائیداد میں اس نیت سے داخل نہیں ہو گا کہ مالک یا قابض کو بے دخل کرے، ہتھیا لے، قابو کرے یا قبضہ کرے۔ سزا دس سال تک قید اور جرمانہ، اور متاثرہ شخص کو معاوضہ (دفعہ 3(2))۔ 2017 سے، دوسری زبردستی اور ناجائز بے دخلی پر تین سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں (دفعہ 3(3))۔
- یہ قانون مالک اور جائز طور پر رہنے والے کی حفاظت کرتا ہے (دفعہ 2)۔ یہ صرف قبضہ مافیا تک محدود نہیں: سپریم کورٹ نے اس دلیل کو "غلط فہمی" کہا اور فرمایا کہ یہ قانون "ہر ناجائز قابض" پر لگتا ہے (PLD 2024 SC 1152، پیرا 8)، گھر والوں سمیت (پیرا 4 اور 22)۔
- شکایت سیشن کورٹ میں ہوتی ہے، تھانے میں ایف آئی آر نہیں۔ عدالت پولیس سے پندرہ دن میں تفتیش کی رپورٹ منگوا سکتی ہے، اور کسی بھی مرحلے پر ملزم کی گرفتاری کا حکم دے سکتی ہے (دفعات 4 اور 5)۔
- مقدمے کے دوران اگر پہلی نظر میں قابض کا قبضہ جائز نہ لگے تو عدالت حکم دے گی کہ وہ آپ کو واپس قبضہ دے، ضرورت ہو تو پولیس کی مدد سے (دفعہ 7)۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسی صورت میں عدالت یہ ریلیف دینے کی "پابند" ہے (پیرا 13)، اور سول مقدمہ چلنا کوئی رکاوٹ نہیں (پیرا 11)۔
- حد: جہاں رشتہ دار آپ کی رضامندی سے گھر میں رہتے تھے اور کوئی زبردستی نہیں ہوئی، وہاں یہ قانون نہیں لگتا؛ اس کے لیے سول کورٹ میں قبضے، تقسیم یا حکم امتناعی کا دعویٰ ہے (فوجداری درخواست نمبر 61-K/2025، پیرا 9 اور 10)۔ جھوٹی شکایت پر پانچ لاکھ روپے تک کا ہرجانہ ہو سکتا ہے (دفعہ 5(4))۔
گھر والوں نے گھر پر قبضہ کر لیا؟ مختصر جواب
جو بھی بغیر حق کے آپ کا گھر ہتھیا لے، اس کے خلاف قبضے کا قانون استعمال ہو سکتا ہے، گھر والوں سمیت۔ اس قانون کا اصل نام ناجائز بے دخلی ایکٹ 2005 ہے۔ دفعہ 3 کہتی ہے کہ کوئی بھی بغیر قانونی حق کے کسی جائیداد میں قبضے کی نیت سے داخل نہیں ہو گا، اور سزا دس سال تک قید اور جرمانہ ہے، ساتھ متاثرہ شخص کو معاوضہ۔
جولائی 2024 میں سپریم کورٹ نے یہ دلیل رد کر دی کہ یہ قانون صرف قبضہ مافیا کے لیے ہے اور گھر والوں پر نہیں لگتا۔ عدالت نے اسے "غلط فہمی" کہا اور فرمایا کہ یہ قانون "ہر ناجائز قابض" پر لگتا ہے (PLD 2024 SC 1152، پیرا 8)۔ عدالت نے وہ حکم بھی برقرار رکھا جو مقدمہ چلتے ہوئے ہی دیا گیا تھا، کہ کراچی کے ایک شخص کو اس کے گھر کی اوپر والی منزل واپس دی جائے۔ گھر والوں کے لیے ایک حد اہم ہے: اگر رشتہ دار آپ کی اجازت سے رہتے تھے اور زبردستی نہیں ہوئی، تو اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ صحیح جگہ سول کورٹ ہے۔
کراچی، 2020: اوپر کی منزل
تین بھائی۔ ان میں سے ایک، جو غیر شادی شدہ اور معذور تھا، نے شاہ فیصل کالونی کراچی میں چار منزلہ گھر خریدا اور ایک دوسرے بھائی کے ساتھ رہتا تھا۔ 30 ستمبر 2008 کو اس نے رجسٹرڈ کاغذ کے ذریعے، زبانی ہبہ کی تصدیق کر کے، یہ گھر اسی بھائی کے نام کر دیا؛ 2015 میں اس کا انتقال ہو گیا۔ جس بھائی کو گھر ملا وہ مالک کی حیثیت سے وہیں رہتا رہا (PLD 2024 SC 1152، پیرا 2)۔
7 نومبر 2020 کو، جب مالک گھر پر نہیں تھا، تیسرا بھائی اور اس کی بیوی تالے توڑ کر چوتھی منزل پر قابض ہو گئے۔ مالک پولیس کے پاس گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اس نے ایڈیشنل سیشن جج کراچی ایسٹ کے سامنے ناجائز بے دخلی ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت شکایت کی، ساتھ دفعہ 7 کی درخواست۔ 18 ستمبر 2021 کو عدالت نے درخواست منظور کی اور بھائی اور بھابھی کو چوتھی منزل واپس کرنے کا حکم دیا۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-K کے تحت ان کی بریت کی درخواست 22 اکتوبر 2022 کو خارج ہوئی، اور سندھ ہائی کورٹ نے 23 فروری 2024 کو ان کی دونوں درخواستیں خارج کر دیں (پیرا 1 اور 2)۔
جولائی 2024 میں سپریم کورٹ نے کیا کہا
سپریم کورٹ میں بھائی کی دلیل تھی کہ گھر وراثتی ہے، وارثوں کے خلاف یہ مقدمہ نہیں بنتا، اور یہ قانون صرف قبضہ مافیا یا زمین ہتھیانے والوں کے لیے ہے، گھر والوں کے لیے نہیں (پیرا 4)۔ عدالت نے یہ نہیں مانا۔ یہ قانون مالک اور جائز قابض کی حفاظت کرتا ہے؛ مقدمہ بنانے کے لیے شکایت کنندہ کو پہلی نظر میں دکھانا ہوتا ہے کہ وہ مالک یا جائز قابض تھا، ملزم بغیر قانونی حق کے داخل ہوا، اور اس کی نیت قبضہ کرنے کی تھی (پیرا 6 اور 7)۔ یہ دلیل کہ قانون صرف زمین ہتھیانے والوں تک محدود ہے "غلط فہمی" ہے (پیرا 8)۔
دونوں فریقوں کے درمیان سول مقدمہ بھی شکایت کو نہیں روکتا: عدالت نے اپنے پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ (2016 SCMR 1931) نقل کیا کہ کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لے کر مالک کو بے دخل کرے اور پھر سول مقدمے کی آڑ نہیں لے سکتا (پیرا 11)۔ عبوری حکم کے بارے میں عدالت نے کہا کہ دفعہ 7 مقدمے کے دوران لاگو ہوتی ہے، "پہلی نظر" کا معیار جرم ثابت کرنے سے ہلکا ہے، اور دفعہ لاگو ہو تو عدالت ریلیف دینے کی "پابند" ہے (پیرا 13)۔ یہاں فرد جرم لگ چکی تھی اور درخواست گزار چوتھی منزل پر اپنے قبضے کا کوئی جواز نہ دے سکے (پیرا 14)۔ 15 جولائی 2024 کو درخواستیں خارج ہوئیں؛ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس کی آرا عارضی ہیں اور ٹرائل کورٹ شکایت کا فیصلہ میرٹ پر کرے گی (پیرا 24)۔
قبضے کی شکایت کیسے چلتی ہے، قدم بہ قدم
شکایت سیشن کورٹ میں دائر ہوتی ہے۔ یہ جرم ناقابلِ دست اندازی ہے، اس لیے تھانے میں ایف آئی آر کا معاملہ نہیں، مگر عدالت کسی بھی مرحلے پر پولیس کو ملزم کی گرفتاری کا حکم دے سکتی ہے (دفعہ 4)۔ شکایت پر عدالت پولیس سے پندرہ دن میں تفتیش کی رپورٹ منگوا سکتی ہے، یا مجسٹریٹ یا ریونیو افسر سے موقع کی انکوائری کروا سکتی ہے (دفعہ 5(1))۔
عدالت نوٹس لے لے تو روزانہ سماعت کرے گی، ساٹھ دن میں فیصلہ کرے گی اور تاخیر کی وجہ لکھے گی، اور سات دن سے زیادہ کا التوا نہیں دے گی (دفعہ 5(2) اور (3))۔ مقدمے کے دوران عدالت قابض کو عبوری ریلیف کے طور پر قبضہ واپس کرنے کا حکم دے سکتی ہے، ضرورت ہو تو طاقت اور پولیس کی مدد سے؛ جو ایس ایچ او مدد سے انکار کرے وہ بدانتظامی کا مرتکب ہے (دفعہ 7)۔ آخر میں جرم ثابت ہو تو عدالت جائیداد واپس دلاتی ہے (دفعہ 8)۔ جھوٹی، فضول یا تنگ کرنے والی شکایت پر شکایت کنندہ کو پانچ لاکھ روپے تک ہرجانہ ہو سکتا ہے (دفعہ 5(4))۔
شرط: گھر والے جو آپ کی اجازت سے رہتے تھے
15 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ نے کراچی کا ایک اور خاندانی مقدمہ نمٹایا۔ ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس کے دو بالغ بچوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔ بچے پیدائش سے والد کی اجازت سے وہیں رہتے تھے، اور ان کے مطابق والد دوسری شادی کے بعد خود گھر چھوڑ گیا تھا (فوجداری درخواست نمبر 61-K/2025، پیرا 2، 4 اور 7)۔ عدالت نے دفعہ 3 کا مقدمہ ختم کر دیا: نہ زبردستی ہوئی، نہ قبضے کی مجرمانہ نیت کا کوئی ثبوت تھا (پیرا 7، 9 اور 18)۔
عدالت نے صاف کہا کہ رشتہ داروں کو کوئی چھوٹ نہیں: قریبی رشتہ داروں کو اس قانون سے استثنیٰ حاصل نہیں۔ جہاں کسی کو زبردستی یا ڈرا دھمکا کر نکالا جائے اور باقی شرائط پوری ہوں، وہاں خونی رشتے کے باوجود فوجداری کارروائی ہو سکتی ہے (پیرا 10)۔ لیکن جہاں قبضہ رضامندی سے شروع ہوا ہو، وہاں راستہ سول ہے، جیسے قبضے، تقسیم یا حکم امتناعی کا دعویٰ، یا گھریلو تشدد کا قانون (پیرا 9)۔ عدالت کے الفاظ میں اس قانون کی دفعات حفاظت کے لیے ہیں، ہتھیار نہیں (پیرا 12)۔ والد کا گھر میں آنے جانے اور رہنے کا حق برقرار رہا (پیرا 18)۔
کوئی گھر پر قبضہ کر لے تو کیا کریں
خود تالا توڑ کر واپس نہ گھسیں اور نہ طاقت استعمال کریں؛ عدالتوں نے کہا ہے کہ کوئی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا (2016 SCMR 1931، PLD 2024 SC 1152 کے پیرا 11 میں نقل)۔ اپنی ملکیت یا جائز رہائش کا ثبوت جمع کریں: رجسٹری، ہبہ یا بیع نامہ، انتقال، کرایہ نامہ، اپنے نام کے بل۔ ٹوٹے تالوں کی تاریخ کے ساتھ تصویریں لیں، گواہوں کے نام لکھیں، اور پولیس کو اطلاع دیں تاکہ ریکارڈ بن جائے۔
پھر سیشن کورٹ میں ناجائز بے دخلی ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت شکایت دائر کریں، ساتھ دفعہ 7 کے تحت عبوری قبضے کی درخواست؛ وکیل اسے تیار کر سکتا ہے۔ اگر اندر بیٹھے لوگ گھر والے ہیں جو آپ کی اجازت سے آئے تھے، تو راستہ سول کورٹ ہے: قبضے کا دعویٰ (قانون دادرسی خاص 1877، دفعہ 9، یا عام دعویٰ)، تقسیم یا حکم امتناعی۔ اگر گھر ابھی سب وارثوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور بٹا نہیں، تو پہلے مشورہ کریں: تقسیم تک ہر شریک مالک پورے گھر میں حصہ دار ہے۔ پنجاب میں اب ایک دوسرا راستہ بھی ہے: جون 2026 سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز پر مشتمل خصوصی پراپرٹی ٹریبونل صوبائی قانون کے تحت ناجائز قبضے اور فراڈ کے مقدمات سنتے ہیں؛ وکیل سے پوچھیں کہ آپ کے کیس کے لیے کون سا فورم بہتر ہے۔ 2005 کا ایکٹ پورے پاکستان میں لاگو ہے۔
قانون کے طلبہ اور وکلا کے لیے
PLD 2024 SC 1152 عملی طور پر تین باتیں طے کرتا ہے۔ اول، یہ قانون قبضہ گروپوں یا مافیا تک محدود نہیں: اس کا دائرہ "ہر ناجائز قابض" تک ہے (پیرا 8)، ممتاز حسین بنام ڈاکٹر ناصر خان (2010 SCMR 1254) اور گلشن بی بی بنام محمد صادق (PLD 2016 SC 769) کی پیروی میں، جہاں دفعہ 3(1) کے الفاظ "کوئی بھی" اور "جو کوئی" ہر مجرم پر لاگو سمجھے گئے (پیرا 9 اور 10)۔ دوم، زیر سماعت سول مقدمہ رکاوٹ نہیں (پیرا 11، شیخ محمد نسیم بنام فریدہ گل، 2016 SCMR 1931)۔ سوم، دفعہ 7 کے لیے ٹرائل کا جاری ہونا ضروری ہے، جو فرد جرم لگنے سے شروع ہوتا ہے کیونکہ نوٹس لینا ٹرائل کا آغاز نہیں (پیرا 14، حق نواز بنام ریاست، 2000 SCMR 785)، اور پہلی نظر میں یہ رائے کہ ملزم کا قبضہ جائز نہیں؛ پھر عدالت کارروائی کی پابند ہے (پیرا 13)۔
اسی فیصلے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-K کے تحت بریت کا معیار بھی دہرایا گیا: یہ کسی بھی مرحلے پر ممکن ہے، مگر صرف تب جب شہادت کا بغور جائزہ لینے کے بعد سزا کا کوئی امکان نہ ہو، اور یہ دلائل کہ گھر والے قانون سے باہر ہیں یا سول مقدمہ زیر سماعت ہے، اس معیار پر پورے نہیں اترتے (پیرا 15 تا 22)۔ فوجداری درخواست نمبر 61-K/2025 دوسرا پہلو دیتی ہے: قانون کے لیے زبردستی یا دھمکی اور مجرمانہ نیت چاہیے، اور رضامندی سے شروع ہونے والا خاندانی قبضہ اس میں نہیں آتا، اس کی جگہ سول اور حفاظتی فورم ہیں (پیرا 6 تا 10، 12 اور 17)۔ خاندانی معاملے میں شکایت سے پہلے دیکھ لیں کہ قابض کو قبضہ کیسے ملا۔
کیس ایک نظر میں
- حقائق
- شاہ فیصل کالونی کراچی کا ایک گھر 2008 میں ایک بھائی نے رجسٹرڈ کاغذ کے ذریعے دوسرے بھائی کے نام کیا اور 2015 میں فوت ہو گیا۔ 7 نومبر 2020 کو تیسرا بھائی اور اس کی بیوی تالے توڑ کر چوتھی منزل پر قابض ہو گئے۔ مالک کی شکایت پر 18 ستمبر 2021 کو عبوری حکم ہوا کہ منزل اسے واپس دی جائے؛ بریت کی درخواست اور ہائی کورٹ میں چیلنج ناکام رہے۔
- سوال
- کیا ناجائز بے دخلی ایکٹ صرف قبضہ گروپوں تک محدود ہے، کہ گھر والوں یا وارثوں پر نہ لگے؟ اور کیا دفعہ 7 کا عبوری حکم درست تھا؟
- عدالت کا فیصلہ
- نہیں۔ یہ قانون ہر ناجائز قابض پر لگتا ہے، گھر والوں سمیت، اور سول مقدمہ رکاوٹ نہیں۔ عبوری حکم درست تھا: ٹرائل شروع ہو چکا تھا، درخواست گزار قبضے کا جواز نہ دے سکے، اور دفعہ 7 کے تحت عدالت قبضہ واپس دلانے کی پابند تھی۔ اپیل کی اجازت نہیں دی گئی۔
- وجہ
- دفعات 2 اور 3 مالک اور جائز قابض کو ہر اس شخص سے بچاتی ہیں جو بغیر قانونی حق کے قبضے کی نیت سے داخل ہو (پیرا 6 اور 7)؛ سپریم کورٹ طے کر چکی ہے کہ قانون مافیا تک محدود نہیں (پیرا 8 تا 10)؛ سول اور فوجداری کارروائیاں الگ الگ ہیں (پیرا 11)؛ دفعہ 7 کا پہلی نظر کا معیار جرم ثابت کرنے سے ہلکا ہے (پیرا 12 تا 14)۔
- حدود
- آرا عارضی تھیں اور شکایت کا فیصلہ ٹرائل کورٹ میرٹ پر کرے گی (پیرا 24)۔ فوجداری درخواست نمبر 61-K/2025 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ رضامندی سے شروع ہونے والا اور بغیر زبردستی کا خاندانی قبضہ اس قانون میں نہیں آتا؛ یہ تنازعے سول یا حفاظتی فورم میں جائیں گے (پیرا 9، 10 اور 17)۔
عدالت کے اپنے الفاظ
“scope of IDA, 2005 is wide enough to cover any illegal occupant and is not limited to the mafia or Qabza Groups only”
ناجائز بے دخلی ایکٹ کا دائرہ ہر ناجائز قابض تک وسیع ہے اور یہ صرف مافیا یا قبضہ گروپوں تک محدود نہیں (PLD 2024 SC 1152، پیرا 8)۔
PLD 2024 SC 1152, para 8
“if the court finds that section 7 is applicable then it is duty bound to provide interim relief specified therein”
اگر عدالت دیکھے کہ دفعہ 7 لاگو ہے تو وہ اس میں دیا گیا عبوری ریلیف دینے کی پابند ہے (PLD 2024 SC 1152، پیرا 13)۔
PLD 2024 SC 1152, para 13
جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے
ناجائز بے دخلی ایکٹ 2005، دفعہ 3: کوئی بھی بغیر قانونی حق کے کسی جائیداد میں مالک یا قابض کو بے دخل کرنے، ہتھیانے، قابو کرنے یا قبضہ کرنے کی نیت سے داخل نہیں ہو گا؛ سزا دس سال تک قید اور جرمانہ، اور متاثرہ کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 544-A کے تحت معاوضہ؛ 2017 میں اضافہ: دوسری زبردستی اور ناجائز بے دخلی پر تین سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں۔
دفعہ 2: "عدالت" سے مراد سیشن کورٹ؛ "قابض" وہ شخص جو جائیداد پر جائز قبضے میں ہو؛ "مالک" وہ جو بے دخلی کے وقت واقعی مالک ہو؛ "جائیداد" سے مراد غیر منقولہ جائیداد۔
دفعات 4 اور 5: مقدمہ سیشن کورٹ میں شکایت پر چلتا ہے؛ جرم ناقابلِ دست اندازی ہے؛ عدالت کسی بھی مرحلے پر گرفتاری کا حکم دے سکتی ہے؛ پولیس پندرہ دن میں تفتیش کی رپورٹ دے، یا مجسٹریٹ یا ریونیو افسر موقع کی انکوائری کرے؛ روزانہ سماعت، ساٹھ دن میں فیصلہ، سات دن سے زیادہ التوا نہیں؛ جھوٹی شکایت پر پانچ لاکھ روپے تک ہرجانہ۔
دفعات 7 اور 8: مقدمے کے دوران اگر عدالت مطمئن ہو کہ کوئی شخص پہلی نظر میں جائز قبضے میں نہیں، تو عدالت عبوری ریلیف کے طور پر اسے حکم دے گی کہ مالک یا قابض کو قبضہ دے؛ عدالت مزید اقدامات، طاقت کے استعمال اور پولیس کی مدد کا حکم دے سکتی ہے، اور پولیس کا انکار بدانتظامی ہے؛ ٹرائل کے اختتام پر جائیداد واپس دلائی جا سکتی ہے (دفعہ 8)۔
قانون دادرسی خاص 1877، دفعہ 9: جو شخص اپنی رضامندی کے بغیر اور قانونی طریقے کے بغیر غیر منقولہ جائیداد سے بے دخل کیا جائے، وہ دعوے کے ذریعے قبضہ واپس لے سکتا ہے، چاہے مقابل کوئی بھی ملکیت کا دعویٰ کرے؛ وفاقی یا صوبائی حکومت کے خلاف یہ دعویٰ نہیں، اور اس کے فیصلے کے خلاف اپیل یا نظرثانی نہیں؛ ملکیت کا عام دعویٰ پھر بھی ہو سکتا ہے۔
اس کا کیا مطلب نہیں
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھر پر ہر خاندانی جھگڑا جرم ہے۔ اگر رشتہ دار آپ کی رضامندی سے رہتے تھے اور زبردستی نہیں ہوئی، تو سپریم کورٹ کے مطابق جگہ سول کورٹ ہے (فوجداری درخواست نمبر 61-K/2025، پیرا 9 اور 17)۔
- یہ مقدمہ یہ طے نہیں کرتا کہ گھر کا مالک کون ہے۔ یہ قانون ناجائز داخلے اور قبضے کے بارے میں ہے؛ ملکیت کے تنازعے سول کورٹ میں جاتے ہیں، اور سپریم کورٹ نے کہا کہ PLD 2024 SC 1152 میں اس کی آرا عارضی ہیں، فیصلہ ٹرائل کورٹ میرٹ پر کرے گی (پیرا 24)۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود تالا توڑ کر واپس گھس جائیں۔ قانون ہاتھ میں لینا وہی کام ہے جس کی عدالتیں مذمت کرتی ہیں؛ عدالت کا راستہ اپنائیں (2016 SCMR 1931، PLD 2024 SC 1152 کے پیرا 11 میں نقل)۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساٹھ دن کی ضمانت ہے۔ قانون عدالت سے کہتا ہے کہ ساٹھ دن میں فیصلہ کرے اور تاخیر کی وجہ لکھے (دفعہ 5(2))؛ کراچی کے کیس میں عبوری حکم تالے ٹوٹنے کے تقریباً دس ماہ بعد آیا۔
لوگ کیا پوچھتے ہیں
پاکستان میں اپنی جائیداد سے ناجائز قبضہ کیسے ختم کروائیں؟
سیشن کورٹ میں ناجائز بے دخلی ایکٹ 2005 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت شکایت دائر کریں، ساتھ دفعہ 7 کی درخواست۔ اگر عدالت کو پہلی نظر میں لگے کہ قابض کا قبضہ جائز نہیں، تو اسے آپ کو واپس قبضہ دلانا ہے، ضرورت ہو تو پولیس کی مدد سے۔ آپ سول کورٹ میں قبضے کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں۔
کیا بھائی یا کسی رشتہ دار کے خلاف ناجائز بے دخلی کا مقدمہ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، اگر وہ بغیر کسی قانونی حق کے داخل ہوئے یا قبضہ کیا۔ سپریم کورٹ نے یہ دلیل رد کر دی کہ یہ قانون صرف مافیا کے لیے ہے، گھر والوں کے لیے نہیں (PLD 2024 SC 1152، پیرا 4، 8 اور 22)۔ اگر وہ آپ کی اجازت سے رہتے تھے اور زبردستی نہیں ہوئی، تو راستہ سول کورٹ ہے (فوجداری درخواست نمبر 61-K/2025)۔
پاکستان میں ناجائز قبضے کی سزا کیا ہے؟
قبضے کی نیت سے بغیر قانونی حق کے داخل ہونے پر دس سال تک قید اور جرمانہ، ساتھ متاثرہ کو معاوضہ (دفعہ 3(2))؛ دوسری زبردستی اور ناجائز بے دخلی پر تین سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں (دفعہ 3(3))۔
ناجائز بے دخلی ایکٹ کی شکایت کہاں دائر ہوتی ہے؟
سیشن کورٹ میں (دفعہ 4)۔ یہ شکایت کا مقدمہ ہے، ایف آئی آر کا نہیں، مگر عدالت پولیس سے پندرہ دن میں تفتیش کی رپورٹ منگوا سکتی ہے (دفعہ 5(1)) اور کسی بھی مرحلے پر گرفتاری کا حکم دے سکتی ہے (دفعہ 4(3))۔
ناجائز بے دخلی کا مقدمہ کتنا وقت لیتا ہے؟
قانون کہتا ہے کہ روزانہ سماعت ہو، سات دن سے زیادہ التوا نہ ہو، اور ساٹھ دن میں فیصلہ ہو، تاخیر کی وجہ لکھی جائے (دفعہ 5(2) اور (3))۔ عملی طور پر زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اسی لیے دفعہ 7 کا عبوری حکم اہم ہے۔
کیا قبضے کا قانون صرف قبضہ مافیا کے لیے ہے؟
نہیں۔ سپریم کورٹ طے کر چکی ہے کہ ناجائز بے دخلی ایکٹ ہر ناجائز قابض پر لگتا ہے، صرف مافیا یا قبضہ گروپوں پر نہیں (PLD 2024 SC 1152، پیرا 8؛ PLD 2016 SC 769؛ 2016 SCMR 1931)۔
ماخذ
- Niaz Ahmed and another v. Aijaz Ahmed and others, PLD 2024 SC 1152 (Supreme Court of Pakistan, 15 July 2024), paras 1, 2, 4, 6-14, 22, 24
The Illegal Dispossession Act covers any illegal occupant, family included; a pending civil case is no bar; an interim order under section 7 restoring the top floor upheld. verified against full text - Abbas Asif Zaman and another v. The State and others, Criminal Petition No. 61-K of 2025 (Supreme Court of Pakistan, 15 October 2025 (heard 26 September 2025)), paras 2, 4, 6-12, 17, 18
The Act does not fit a family member's possession that began with permission and involved no force; close kin get no exemption where someone is ousted by force or intimidation. verified against the official PDF, supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/crl.p._61_k_2025.pdf (last checked 25 October 2026); approved for reporting, not yet in the FAI archive - Shaikh Muhammad Naseem v. Mst. Farida Gul, 2016 SCMR 1931 (Supreme Court of Pakistan (five member bench), 22 July 2016), paras 5
Civil and criminal proceedings are independent; a pending civil suit does not bar a complaint under the Act. as quoted by the Supreme Court in PLD 2024 SC 1152, para 11 - Mst. Gulshan Bibi and others v. Muhammad Sadiq and others, PLD 2016 SC 769 (Supreme Court of Pakistan), paras 7, 8
No precondition limits the Act to a class of offenders: section 3(1) says "anyone" and "whoever". as quoted by the Supreme Court in PLD 2024 SC 1152, para 10 - Illegal Dispossession Act, 2005, Sections 2, 3, 4, 5, 7 and 8 (as amended in 2017) text checked in FAI Statute Search, 25 October 2026 Pakistan Code
- Specific Relief Act, 1877, Section 9 text checked in FAI Statute Search, 25 October 2026 Pakistan Code
Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.
ریل میں کیا کہا گیا
ریل کے الفاظ پڑھیں
گھر پر قبضہ ہو جائے، چاہے اپنا بھائی کرے، تو کیا کریں؟
Ghar par najaiz qabza ho jaye to kya karein?
لوگ کہتے ہیں قبضے کا قانون صرف قبضہ مافیا کے لیے ہے، گھر والوں پر نہیں لگتا۔ غلط۔
کراچی، نومبر 2020: ایک شخص کے بھائی اور بھابھی نے تالے توڑ کر اس کے گھر کی چوتھی منزل پر قبضہ کر لیا۔ سیشن کورٹ نے مقدمہ چلتے ہوئے ہی منزل واپس کرنے کا حکم دیا، اور جولائی 2024 میں سپریم کورٹ نے کہا: یہ قانون ہر ناجائز قابض پر لگتا ہے، صرف مافیا پر نہیں (PLD 2024 SC 1152)۔
قبضہ ہو جائے تو:
1۔ خود تالا توڑ کر واپس نہ جائیں
2۔ رجسٹری، بل، تصویریں اور گواہ جمع کریں، اور پولیس کو اطلاع دیں
3۔ سیشن کورٹ میں ناجائز بے دخلی ایکٹ 2005 کے تحت شکایت کریں، ساتھ دفعہ 7 کی درخواست
4۔ قانون کہتا ہے ساٹھ دن میں فیصلہ، اور سزا دس سال تک
ایک شرط: جو گھر والے آپ کی اجازت سے رہتے تھے اور کوئی زبردستی نہیں ہوئی، ان کا معاملہ سول کورٹ میں جائے گا (سپریم کورٹ، اکتوبر 2025)۔
یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.






