FAI Media

Workplace · Supreme Court of Pakistan

مرحوم ملازم کا کوٹہ: کیا شادی شدہ بیٹی یہ حق کھو دیتی ہے؟

مختصر جواب

زاہدہ پروین بنام حکومتِ خیبر پختونخوا، سپریم کورٹ آف پاکستان، PLD 2025 SC 529، فیصلہ 17 مارچ 2025۔

Zahida Parveen v. Government of Khyber Pakhtunkhwa · Supreme Court of Pakistan · PLD 2025 SC 529 · decided 17 March 2025

By the FAI Legal editorial desk · 12 October 2026 · 5 min read

نہیں۔ شادی شدہ بیٹی بھی مرحوم والد کی اولاد ہی ہے۔ PLD 2025 SC 529 میں سپریم کورٹ نے وہ سرکاری خط امتیازی اور غیر قانونی قرار دیا جس نے شادی شدہ بیٹیوں کو مرحوم ملازم کے کوٹے سے نکالا جبکہ شادی شدہ بیٹے اہل رہے، اور استانی کی نوکری تمام واجبات کے ساتھ بحال کی۔

ایک ضروری بات: ستمبر 2024 میں سپریم کورٹ نے آئندہ کے لیے ایسی کوٹہ تقرریاں ختم کر دیں (PLD 2024 SC 1276)۔ جو نوکریاں پہلے دی جا چکیں وہ متاثر نہیں، اسی لیے اس کی نوکری برقرار ہے۔

اہم نکات

  • خیبر پختونخوا کا قاعدہ 10(4) دورانِ ملازمت فوت یا مستقل معذور ہونے والے سرکاری ملازم کے "بچوں میں سے ایک" کی تقرری کی اجازت دیتا تھا۔ اس میں شادی کا کوئی ذکر نہیں۔
  • سیکشن افسر کا خط قانون کے تحت بنے قاعدے کو محدود نہیں کر سکتا؛ قاعدہ صرف بنانے والی اتھارٹی بدل سکتی ہے (پیرا 5 اور 6)۔
  • شادی شدہ بیٹی کو نکالنا اور شادی شدہ بیٹے کو رکھنا آئین کے آرٹیکل 25 اور 27 کے خلاف ہے (پیرا 6)۔
  • جنرل پوسٹ آفس بنام محمد جلال (PLD 2024 SC 1276، 26 ستمبر 2024) نے میرٹ کے بغیر کوٹہ تقرریاں ختم کیں، مگر پہلے کی تقرریاں برقرار رکھیں (زاہدہ پروین، پیرا 11)۔

کرک، 2023: تقرری، پھر شادی کی وجہ سے برطرفی

زاہدہ پروین 17 مارچ 2023 کو ضلع کرک کے ایک سرکاری گرلز اسکول میں قاعدہ 10(4) کے تحت مرحوم ملازم کے کوٹے پر پرائمری اسکول ٹیچر مقرر ہوئیں۔ 15 مئی 2023 کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے بغیر تقرری واپس لے لی (پیرا 1)۔

وجہ 2020 کا ایک وضاحتی خط تھا کہ شادی کرنے والی بیٹی یہ حق کھو دیتی ہے۔ 2023 کے ایک اور خط میں کہا گیا کہ شادی شدہ بیٹی صرف شوہر سے علیحدگی اور والدین پر انحصار کی صورت میں اہل ہو گی۔ محکمانہ اپیل کا جواب نہ آیا اور سروس ٹریبونل نے 3 جون 2024 کو اپیل خارج کر دی۔

قاعدہ اصل میں کیا کہتا ہے

قاعدہ 10(4): اگر سرکاری ملازم دورانِ ملازمت فوت یا مستقل معذور ہو جائے تو مجاز اتھارٹی اس کے بچوں میں سے ایک کو، یا بچہ کم عمر ہو تو بیوہ کو، کم از کم اہلیت کی شرط پر گریڈ 1 سے 10 کی آسامی پر مقرر کر سکتی ہے (پیرا 4)۔

عدالت نے کہا کہ الفاظ سب بچوں کو شامل کرتے ہیں، اور شادی شدہ بیٹی بھی "بچوں میں سے ایک" ہے؛ صرف شادی کی بنیاد پر اسے نکالا نہیں جا سکتا (پیرا 4)۔

سپریم کورٹ نے نوکری کیوں بحال کی

اول، اختیار: محکمہ اسٹیبلشمنٹ کو وضاحتی خط کے ذریعے قاعدہ بدلنے کا اختیار نہیں تھا؛ یہ اختیار گورنر کا ہے (پیرا 5 اور 6)۔

دوم، برابری: خط نے شادی شدہ بیٹی کو نکالا مگر شادی شدہ بیٹے کو رہنے دیا۔ عدالت کے مطابق شادی شدہ بیٹے اور شادی شدہ بیٹی میں کوئی معقول فرق نہیں، اس لیے یہ آرٹیکل 25، 27 اور 14 کے خلاف ہے (پیرا 6)۔

دونوں خط امتیازی اور غیر قانونی قرار پائے، ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم ہوا، اور محکمے کو تمام واجبات کے ساتھ نوکری بحال کرنے کا حکم ملا (پیرا 10)۔ عدالت نے ٹریبونل کے اس جملے پر بھی تنقید کی کہ شادی شدہ بیٹی شوہر کی ذمہ داری بن جاتی ہے (پیرا 12)۔

ایک بات اور: نئے کوٹے ختم ہو چکے

جنرل پوسٹ آفس بنام محمد جلال (PLD 2024 SC 1276، 26 ستمبر 2024) میں سپریم کورٹ نے فوت یا معذور ہو کر ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازم کے خاندان کو کھلے اشتہار اور میرٹ کے بغیر نوکری دینے والے قواعد اور پالیسیاں امتیازی اور آئین کے خلاف قرار دیں۔

یہ فیصلہ پہلے سے دی گئی تقرریوں پر لاگو نہیں، اور شہید اہلکاروں اور دہشت گردی میں جاں بحق ملازمین کے ورثا کے پیکج بھی برقرار ہیں۔ زاہدہ پروین کی تقرری 2023 کی تھی، اس لیے اس فیصلے کا اثر نہیں ہوا (پیرا 11)۔ پرانی پالیسی کے تحت زیرِ التوا درخواستوں کے لیے ایاز علی (2026 SCMR 42) دیکھیں۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
مرحوم سرکاری ملازم کی بیٹی مارچ 2023 میں کرک میں کوٹے پر پرائمری ٹیچر لگی۔ مئی 2023 میں نوٹس کے بغیر تقرری واپس لے لی گئی کیونکہ وہ شادی شدہ تھی۔ سروس ٹریبونل نے اپیل خارج کی۔
سوال
کیا ایک انتظامی وضاحت شادی شدہ بیٹیوں کو قاعدہ 10(4) سے نکال سکتی ہے جبکہ شادی شدہ بیٹے اہل رہیں؟
عدالت کا فیصلہ
نہیں۔ شادی شدہ بیٹی بھی بچوں میں سے ایک ہے۔ خطوط امتیازی اور غیر قانونی؛ برطرفی کالعدم؛ نوکری تمام واجبات کے ساتھ بحال۔
وجہ
انتظامی خط قانونی قاعدہ نہیں بدل سکتا، اور بیٹی اور بیٹے میں شادی کی بنیاد پر فرق کا قاعدے کے مقصد سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے یہ آرٹیکل 25 اور 27 کے خلاف ہے۔
حدود
یہ مقدمہ خیبر پختونخوا کے قاعدہ 10(4) اور PLD 2024 SC 1276 سے پہلے کی تقرری کا ہے۔ اس سے نئی کوٹہ تقرریاں بحال نہیں ہوتیں۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“No intelligible differentia is discernible between a married son and a married daughter that would justify such exclusion”

ترجمہ: شادی شدہ بیٹے اور شادی شدہ بیٹی میں کوئی ایسا معقول فرق نظر نہیں آتا جو اس اخراج کو جائز ٹھہرائے۔

PLD 2025 SC 529, para 6

“A married daughter remains equally a child of her deceased parent”

ترجمہ: شادی شدہ بیٹی بھی اپنے مرحوم والدین کی اسی طرح اولاد ہے۔

PLD 2025 SC 529, para 7

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973 Art. 25(2)

آرٹیکل 25(2): جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہو گا۔

Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973 Art. 27

آرٹیکل 27: سرکاری ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ۔

Khyber Pakhtunkhwa Civil Servants (Appointment, Promotion and Transfer) Rules, 1989 Rule 10(4)

قاعدہ 10(4): دورانِ ملازمت وفات یا مستقل معذوری پر ملازم کے بچوں میں سے ایک کی گریڈ 1 سے 10 میں تقرری؛ PLD 2024 SC 1276 نے آئندہ کے لیے ختم کیا۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ آج کوئی کوٹے پر نوکری لے سکتا ہے۔ ستمبر 2024 سے نئی کوٹہ تقرریاں ختم ہیں (PLD 2024 SC 1276)۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کوٹہ تقرری درست تھی۔ قاعدے کی شرائط، جیسے کم از کم اہلیت، پوری کرنا ضروری تھا۔
  • یہ دوسرے صوبوں کے قواعد کا براہِ راست فیصلہ نہیں، اگرچہ آرٹیکل 25 اور 27 کی برابری کی دلیل پورے ملک پر لاگو ہے۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کیا شادی شدہ بیٹی مرحوم ملازم کا کوٹہ لے سکتی ہے؟

خیبر پختونخوا کے قاعدہ 10(4) کے تحت ہاں: PLD 2025 SC 529 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ شادی شدہ بیٹی بھی اولاد ہے۔ ستمبر 2024 سے نئی کوٹہ تقرریاں ختم ہیں، مگر پہلے دی گئی نوکریاں برقرار ہیں۔

کیا مرحوم ملازم کا کوٹہ اب بھی ملتا ہے؟

نئی تقرریوں کے لیے نہیں۔ PLD 2024 SC 1276 نے میرٹ کے بغیر ایسی تقرریاں ختم کیں، مگر پہلے کی تقرریاں اور شہدا و دہشت گردی کے متاثرین کے پیکج برقرار رکھے۔

سن کوٹہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا ہے؟

جنرل پوسٹ آفس بنام محمد جلال، PLD 2024 SC 1276 (26 ستمبر 2024): ایسے کوٹے آرٹیکل 25 اور 27 کے خلاف قرار پائے۔

میری درخواست ستمبر 2024 سے پہلے کی ہے اور زیرِ التوا ہے، اب کیا؟

ایاز علی (2026 SCMR 42) میں سپریم کورٹ نے زیرِ التوا درخواستیں اس وقت کی پالیسی کے مطابق فیصلے کے لیے واپس بھیجیں۔ حقائق مختلف ہوتے ہیں، سروس کے وکیل سے بات کریں۔

ماخذ

  • Zahida Parveen v. Government of Khyber Pakhtunkhwa, PLD 2025 SC 529 (Supreme Court of Pakistan, 17 March 2025), paras 1, 4-7, 10-12
    Married daughter is 'one of the children' under Rule 10(4); exclusion letters void; job restored with back benefits. verified against full text
  • General Post Office, Islamabad v. Muhammad Jalal, PLD 2024 SC 1276 (Supreme Court of Pakistan, 26 September 2024)
    Quota appointments for families of deceased or invalidated civil servants without open merit struck down; appointments already made unaffected. verified against full text
  • Ayaz Ali v. Federation of Pakistan, 2026 SCMR 42 (Supreme Court of Pakistan, 17 July 2025)
    Pending applications under an earlier bank policy remanded to be decided under that policy. headnote checked
  • Government of Khyber Pakhtunkhwa v. Tahir Mushtaq, 2024 SCMR 2069 (Supreme Court of Pakistan, 12 September 2024)
    Reserving jobs for children of retiring government servants offends Articles 25 and 27. headnote checked
  • Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973, Art. 25, Art. 27 text checked in FAI Statute Search, 12 October 2026

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

کیا شادی کے بعد بیٹی مرحوم والد کے کوٹے کی نوکری کھو دیتی ہے؟

نہیں۔ سپریم کورٹ نے شادی شدہ بیٹی کی نوکری تمام واجبات کے ساتھ بحال کی (PLD 2025 SC 529)۔

کیس: کرک، 2023۔ مرحوم سرکاری ملازم کی بیٹی کوٹے پر پرائمری ٹیچر لگی؛ دو مہینے بعد بغیر نوٹس کے نکال دی گئی، کیونکہ وہ شادی شدہ تھی۔

قاعدہ: "بچوں میں سے ایک"۔ شادی کا کوئی ذکر نہیں۔ آئین کا آرٹیکل 25: جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں۔

سپریم کورٹ (مارچ 2025): شادی شدہ بیٹا اہل ہے تو شادی شدہ بیٹی کیوں نہیں؟ وہ خط امتیازی اور غیر قانونی۔

ایک بات اور: ستمبر 2024 سے نئی کوٹہ نوکریاں ختم ہیں (PLD 2024 SC 1276)، مگر پہلے دی گئی نوکریاں برقرار ہیں۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر چلتا ہے۔ اپنے معاملے پر کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ یہ صفحہ پڑھنے سے وکیل اور مؤکل کا تعلق قائم نہیں ہوتا۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید