FAI Media

Criminal law · Supreme Court of Pakistan

کیا کال ریکارڈنگ عدالت میں ثبوت بن سکتی ہے؟

مختصر جواب

فضل محمود بنام سرکار، سپریم کورٹ آف پاکستان، 2026 SCMR 350، جیل پٹیشن نمبر 217 برائے 2021 اور کریمنل پٹیشن نمبر 372 برائے 2022، فیصلہ 27 اکتوبر 2025۔ بینچ: جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان۔ اصول: اشتیاق احمد مرزا بنام وفاق پاکستان، PLD 2019 SC 675۔

Fazal Mehmood v. The State · Supreme Court of Pakistan · 2026 SCMR 350 · decided 27 October 2025

By the FAI Legal editorial desk · 23 October 2026 · 7 min read

ہاں، مگر صرف تب جب ثابت ہو جائے کہ وہ اصلی ہے۔ کال ریکارڈنگ یا ویڈیو صرف پاس ہونے سے ثبوت نہیں بن جاتی: سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ کسی آڈیو ٹیپ یا ویڈیو پر تب تک بھروسہ نہیں کیا جا سکتا جب تک ثابت نہ ہو کہ وہ اصلی ہے اور اس میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔ اکتوبر 2025 میں عدالت نے کراچی کے ایک آدمی کو بری کر دیا جسے موت کی سزا ہوئی تھی؛ اس کے خلاف سی سی ٹی وی ویڈیو کبھی ثابت ہی نہیں کی گئی، اور باقی مقدمہ بھی کمزور تھا (2026 SCMR 350)۔

آسان الفاظ میں: بتائیں ریکارڈنگ کہاں سے آئی، اصل سنبھال کر رکھیں، اور لیبارٹری کی رپورٹ لیں کہ کسی نے اسے بدلا نہیں۔ جو سی سی ٹی وی ویڈیو یہ جانچ پوری کر لے، وہ اکیلی بھی مضبوط ثبوت ہے (PLD 2026 SC 251، پیرا 9 اور 16)۔

اہم نکات

  • قانون عدالت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ فون اور کیمرے جیسے جدید آلات سے آنے والا ثبوت قبول کرے (قانونِ شہادت آرڈر 1984، آرٹیکل 164)۔ یہ عدالت کی مرضی ہے، اور ریکارڈنگ کو پھر بھی باقی ثبوت کی طرح ثابت کرنا پڑتا ہے (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔
  • کسی آڈیو ٹیپ یا ویڈیو پر تب تک بھروسہ نہیں ہو سکتا جب تک ثابت نہ ہو کہ وہ اصلی ہے اور اس میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی۔ فرانزک جانچ کے بغیر اس پر بھروسہ کرنا دن بدن خطرناک ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ آواز اور تصویر بدلنا آسان ہو گیا ہے (PLD 2019 SC 675، پیرا 8 اور 11)۔
  • سی سی ٹی وی کے لیے سپریم کورٹ دو باتیں پوچھتی ہے: ویڈیو کیسے حاصل ہوئی، اور فرانزک رپورٹ کہ اسے بدلا نہیں گیا۔ جو ویڈیو دونوں پوری کرے، اسے کسی اور ثبوت کے سہارے کی ضرورت نہیں (PLD 2026 SC 251، پیرا 9 اور 16)۔
  • 2026 SCMR 350 میں سی سی ٹی وی ناکام رہی: کیمرے کو جائے واردات سے جوڑنے والی کوئی چیز نہیں تھی، نہ ثبوت کہ ریکارڈنگ بغیر رکے چلی یا اس کی گھڑی ٹھیک تھی، نہ ثبوت کہ اس میں ایڈیٹنگ نہیں ہوئی، کوئی فرانزک رپورٹ نہیں، کسی کی پہچان کے لیے بہت دھندلی، اور عدالت میں یو ایس بی پر وائرس آیا۔ باقی مقدمہ بھی کمزور تھا، اس لیے آدمی بری ہو گیا (پیرا 7 تا 12)۔
  • اپنی ریکارڈنگ کے لیے: اصل فون سنبھال کر رکھیں، اسے نہ کاٹیں نہ ایڈٹ کریں، جس نے ریکارڈ کیا وہ عدالت آئے، فرانزک ٹیسٹ کی درخواست دیں، اور باقاعدہ درخواست کے ساتھ جلدی پیش کریں (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔

کیا کال ریکارڈنگ عدالت میں ثبوت بن سکتی ہے؟

ہاں، بن سکتی ہے۔ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کا آرٹیکل 164 عدالت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ جدید آلات یا طریقوں، جیسے فون اور کیمرے، سے سامنے آنے والا ثبوت پیش کرنے دے۔ مگر یہ صرف دروازہ کھولتا ہے۔ اس کے بعد ریکارڈنگ کو عام طریقے سے، باقی ثبوت کی طرح، ثابت کرنا پڑتا ہے (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔

سپریم کورٹ نے 2019 میں اس کی وجہ بتائی: ٹیکنالوجی نے آواز یا تصویر کو ایڈٹ کرنا، بدلنا یا جوڑ توڑ کرنا بہت آسان بنا دیا ہے، اس لیے فرانزک جانچ کے بغیر کسی آڈیو ٹیپ یا ویڈیو پر بھروسہ کرنا دن بدن خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ فوجداری مقدمے میں ریکارڈنگ کے اصلی ہونے پر کوئی بھی حقیقی شک اس کی ساکھ ختم کر سکتا ہے (PLD 2019 SC 675، پیرا 8)۔

کراچی، 2015: مقدمہ

نومبر 2015 کی ایک رات کراچی کی ایک مسجد و مدرسہ کے کمرہ نمبر 4 میں، جہاں تقریباً پچیس طالب علم سوتے تھے، ایک آدمی کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے سر پر سیمنٹ کا بلاک مارا گیا تھا۔ جس آدمی کا بستر اس کے پاس تھا، اسے ملزم نامزد کیا گیا (ایف آئی آر 314/2015، تھانہ بہادرآباد؛ 2026 SCMR 350، پیرا 2 اور 8)۔

کوئی عینی گواہ نہیں تھا۔ مقدمہ حالات پر کھڑا تھا: ایک گواہ نے اس رات ملزم کو کمرے میں دیکھا تھا، وہ تقریباً ایک سال تک نہیں ملا اور اشتہاری قرار دیا گیا، پھر اس نے خود کو پیش کیا، اس کے تکیے کے نیچے سے ایک چاقو ملا، اور پولیس نے یو ایس بی پر ایک سی سی ٹی وی ویڈیو پیش کی (پیرا 2، 3، 6 اور 10)۔

کراچی ایسٹ کی ٹرائل کورٹ نے 8 نومبر 2019 کو اسے قتل کا مجرم قرار دے کر موت کی سزا سنائی۔ سندھ ہائی کورٹ نے 5 اپریل 2021 کو سزا برقرار رکھی مگر موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا (پیرا 1)۔

سپریم کورٹ کو ویڈیو میں کیا کمی ملی

27 اکتوبر 2025 کو جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے اس کی درخواست سنی۔ سی سی ٹی وی کے بارے میں عدالت نے کہا: کوئی نقشہ کیمرے کے منظر کو جائے واردات سے نہیں ملاتا تھا، کچھ نہیں دکھاتا تھا کہ ریکارڈنگ بغیر رکے چلی یا اس کی گھڑی ٹھیک تھی، کچھ نہیں دکھاتا تھا کہ اس میں ایڈیٹنگ نہیں ہوئی، اور اس کے اصلی ہونے پر کوئی فرانزک رپورٹ نہیں تھی (پیرا 7)۔

خود دیکھنے میں بھی فوٹیج کام کی نہیں تھی: تصویر کا معیار، زاویے اور روشنی ایسے نہیں تھے کہ کسی کو بغیر شک کے پہچانا جا سکے، اور اس میں نہ واردات دکھائی دیتی تھی نہ ہتھیار (پیرا 7)۔ ایک گواہ نے کہا کہ ویڈیو میں ملزم بس کوئی بھاری چیز اٹھائے نظر آتا ہے جو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی؛ دوسروں نے اسے سیمنٹ کا بلاک کہا۔ اور جب بھی یو ایس بی چلائی گئی، عدالت کے کمپیوٹر نے بتایا کہ اس میں وائرس ہے (پیرا 9)۔

باقی مقدمہ بھی کمزور تھا۔ پچیس لوگوں کے مشترکہ کمرے میں نظر آنا کچھ ثابت نہیں کرتا تھا؛ چاقو پر خون تھا مگر زخم کسی بھاری چیز کے تھے، چاقو کے نہیں؛ اور کوئی وجۂ عناد ثابت نہیں ہوئی (پیرا 8، 10 اور 11)۔ عدالت نے شک کا فائدہ دے کر اسے بری کر دیا اور رہائی کا حکم دیا، اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو (پیرا 12)۔

ریکارڈنگ کے لیے سپریم کورٹ کی کسوٹی (قانون کے طلبہ اور وکلاء کے لیے)

بنیادی فیصلہ اشتیاق احمد مرزا بنام وفاق پاکستان، PLD 2019 SC 675 ہے، جو 23 اگست 2019 کو چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال نے سنایا۔ پرانے فیصلوں کا جائزہ لے کر عدالت نے وہ شرطیں گنوائیں جن پر عدالتیں کسی آڈیو ٹیپ یا ویڈیو پر بھروسہ کرنے سے پہلے اصرار کرتی ہیں (پیرا 11)۔ مختصراً:

اصلی اور درست: ثابت ہو کہ وہ اصلی ہے اور اس میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی، اس کی درستی ثابت ہو، اور براہ راست یا حالاتی ثبوت سے چھیڑ چھاڑ کا امکان رد ہو۔ وہ گفتگو یا واقعے کا اصل ریکارڈ ہو، جیسے وہ ہوا۔

ریکارڈ کرنے والا: اسے گواہ کے طور پر پیش کیا جائے، وہ خود ریکارڈنگ پیش کرے اور آوازیں یا لوگ پہچانے؛ جو وہاں موجود تھے وہ بھی گواہی دے سکتے ہیں۔ ریکارڈ کرنے والا ایسا شخص نہ ہو جس نے ثبوت حاصل کرنے کے لیے جال بچھا کر ریکارڈنگ کی ہو۔

عدالت میں: ریکارڈنگ عدالت میں چلائی جائے، صاف سنی یا دیکھی جا سکے، مقدمے سے متعلق ہو، اور باقاعدہ درخواست کے ذریعے پیش ہو۔ اس کا ذریعہ، اور پیش کرنے والے کو وہ کب ملی، بتایا جائے؛ بننے سے لے کر عدالت تک اس کی محفوظ تحویل ثابت ہو؛ اور اس کا کوئی بھی تحریری متن آزاد نگرانی میں تیار ہو۔ مقدمے میں دیر سے پیش کی گئی ریکارڈنگ کو شک کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔

لیبارٹری: پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے تجزیہ کار کی فرانزک رپورٹ خود بخود ثبوت میں قابلِ قبول ہے، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی ایکٹ 2007 کی دفعہ 9(3) کے تحت (پیرا 11)۔

سی سی ٹی وی کے لیے عدالت نے بعد میں اصل بات دو قدموں میں رکھی: ویڈیو کیسے حاصل ہوئی یا اس کا ذریعہ کیا ہے، اور فرانزک رپورٹ کہ اسے بدلا نہیں گیا (PLD 2026 SC 251، پیرا 9، سرکار بنام احمد عمر شیخ، 2021 SCMR 873 کی بنیاد پر)۔ جو فوٹیج دونوں پوری کرے وہ بنیادی ثبوت ہے اور اسے کسی تائید کی ضرورت نہیں (پیرا 16)۔

جب ویڈیو کام آتی ہے

صحیح طرح ثابت ہو تو ریکارڈنگ مقدمہ جتوا سکتی ہے۔ 20 مئی 2025 کو فیصل ہونے والی قتل کی ایک اپیل میں سی سی ٹی وی فوٹیج فرانزک جانچ کے لیے بھیجی گئی تھی؛ رپورٹ نے تصدیق کی کہ اس میں کسی طرح کی ایڈیٹنگ نہیں ہوئی اور اس میں نظر آنے والے شخص کا چہرہ ملزم سے ملتا ہے۔ ریکارڈنگ خود بخود بنی تھی، کسی کے چلائے بغیر۔ باقی ثبوت کے ساتھ سپریم کورٹ نے قتل کی سزا برقرار رکھی (PLD 2026 SC 251، پیرا 15 تا 17)۔

یہی کسوٹی فوجداری مقدمات سے باہر بھی لاگو ہوتی ہے۔ 2021 میں سپریم کورٹ نے ایئرپورٹ کے ایک کسٹمز اہلکار کی وہ سزا بحال کرنے سے انکار کیا جو صرف سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر دی گئی تھی: فوٹیج کبھی فرانزک لیبارٹری بھیجی ہی نہیں گئی، اور جن مسافروں نے مبینہ طور پر اسے پیسے دیے وہ انکوائری میں شامل ہی نہیں کیے گئے (ممبر ایڈمنسٹریشن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو بنام میاں خان، 2021 SCMR 1077، پیرا 5)۔

اگر آپ کے پاس ریکارڈنگ ہے تو کیا کریں

اصل سنبھال کر رکھیں: جس فون پر ریکارڈنگ بنی، یا سی سی ٹی وی کا ریکارڈر خود۔ عدالت اصل ریکارڈ دیکھتی ہے جیسا وہ بنا تھا، اس لیے اسے نہ کاٹیں، نہ ایڈٹ کریں، نہ فلٹر لگائیں، اور محفوظ رکھیں (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔

لکھ لیں کس نے ریکارڈ کیا، کس آلے پر، کب اور کہاں۔ جس نے ریکارڈ کیا وہ عدالت آنے، ریکارڈنگ پیش کرنے اور یہ بتانے کے لیے تیار ہو کہ آوازیں کس کی ہیں (پیرا 11)۔ سی سی ٹی وی کے لیے نوٹ کریں کہ کیمرہ کہاں لگا ہے اور اس کی گھڑی ٹھیک ہے یا نہیں: کراچی والے مقدمے میں عدالت نے کیمرے کے منظر سے ملتا نقشہ، بغیر رکے ریکارڈنگ کا ثبوت اور گھڑی دیکھی (2026 SCMR 350، پیرا 7)۔

فرانزک جانچ کی درخواست دیں، اور ریکارڈنگ باقاعدہ درخواست کے ساتھ جلدی پیش کریں۔ دیر سے پیش کی گئی ریکارڈنگ کو شک کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔ پھر کسی وکیل سے بات کریں: ریکارڈنگ کیسے پیش ہو، یہ مقدمے کی قسم اور عدالت پر منحصر ہے۔

اگر ریکارڈنگ آپ کے خلاف استعمال ہو

وہی سوال پوچھیں جو سپریم کورٹ پوچھتی ہے۔ ریکارڈ کس نے کیا، اور یہ عدالت تک کیسے پہنچی؟ کیا یہ اصل ہے؟ کیا فرانزک رپورٹ ہے؟ کیا اس میں واقعی کسی کو پہچانا جا سکتا ہے؟ کیا یہ محفوظ رکھی گئی، اور وقت پر پیش ہوئی؟ جو ریکارڈنگ اصلی ثابت نہ ہو، اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا (PLD 2019 SC 675، پیرا 11؛ 2026 SCMR 350، پیرا 7)۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
نومبر 2015 میں کراچی کی ایک مسجد و مدرسہ میں، پچیس طالب علموں کے مشترکہ کمرے میں، رات کو ایک آدمی قتل ہوا۔ جس آدمی کا بستر اس کے پاس تھا اس پر قتل کا مقدمہ بنا۔ عینی گواہ نہ ہونے پر استغاثہ نے حالات پر انحصار کیا، جن میں یو ایس بی پر ایک سی سی ٹی وی ویڈیو بھی تھی۔ 2019 میں اسے موت کی سزا ہوئی؛ 2021 میں سندھ ہائی کورٹ نے اسے عمر قید کر دیا۔
سوال
کیا سی سی ٹی وی ویڈیو، باقی حالات کے ساتھ مل کر، بغیر شک کے اس کا جرم ثابت کرتی تھی؟
عدالت کا فیصلہ
نہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج قابلِ اعتماد نہیں تھی: کیمرے کو جگہ سے جوڑنے والی کوئی چیز نہیں، نہ بغیر رکے ریکارڈنگ کا ثبوت، نہ گھڑی کا، نہ ایڈیٹنگ نہ ہونے کا، کوئی فرانزک رپورٹ نہیں، اور تصویر سے کسی کی پہچان نہیں ہو سکتی تھی۔ باقی حالات بھی کمزور تھے، اس لیے شک کا فائدہ دے کر اسے بری اور رہا کیا گیا (پیرا 7 تا 12)۔
وجہ
عدالت کسی ریکارڈنگ پر تب ہی بھروسہ کرتی ہے جب ثابت ہو کہ وہ اصلی ہے اور اس میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔ صرف حالات پر کھڑے مقدمے میں زنجیر کی ہر کڑی مضبوط ہونی چاہیے؛ ایک کڑی ٹوٹے تو پوری زنجیر ٹوٹ جاتی ہے (2026 SCMR 350، پیرا 6)۔
حدود
یہ فیصلہ نہیں کہتا کہ ریکارڈنگ بیکار ہے۔ جو فوٹیج فرانزک رپورٹ اور ذریعے کی وضاحت سے ثابت ہو، وہ بنیادی ثبوت ہے اور اسے تائید کی ضرورت نہیں (PLD 2026 SC 251، پیرا 9 اور 16)۔ بریت پورے ریکارڈ پر ہوئی، صرف ویڈیو پر نہیں۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“No audio tape or video can be relied upon by a court until the same is proved to be genuine and not tampered with or doctored.”

ترجمہ: کوئی عدالت کسی آڈیو ٹیپ یا ویڈیو پر تب تک بھروسہ نہیں کر سکتی جب تک ثابت نہ ہو کہ وہ اصلی ہے اور اس میں چھیڑ چھاڑ یا ردوبدل نہیں ہوا۔

PLD 2019 SC 675, para 11

“there is no proof of continuous recording, time-sync or system clocks nor any demonstration that the footage is free from edits or overlays”

ترجمہ: نہ مسلسل ریکارڈنگ کا کوئی ثبوت ہے، نہ وقت ملانے یا نظام کی گھڑیوں کا، نہ یہ دکھایا گیا کہ فوٹیج ایڈیٹنگ یا اوپر جوڑی گئی چیزوں سے پاک ہے۔

2026 SCMR 350, para 7

“it has also come on record that whenever the USB was attempted to be played, the court computer flagged it as virus-infected”

ترجمہ: یہ بھی ریکارڈ پر آیا کہ جب بھی یو ایس بی چلانے کی کوشش کی گئی، عدالت کے کمپیوٹر نے اسے وائرس زدہ بتایا۔

2026 SCMR 350, para 9

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Qanun-e-Shahadat Order, 1984 Article 164

قانونِ شہادت آرڈر 1984، آرٹیکل 164: جن مقدمات میں عدالت مناسب سمجھے، وہ ایسا ثبوت پیش کرنے کی اجازت دے سکتی ہے جو جدید آلات یا طریقوں کی وجہ سے سامنے آیا ہو۔ سپریم کورٹ اس کی ایک شرط بھی نقل کرتی ہے: جدید آلات یا طریقوں کی بنیاد پر سزا قانونی ہو سکتی ہے (PLD 2019 SC 675، پیرا 9)۔

Qanun-e-Shahadat Order, 1984 Article 73, Explanations 3 and 4; Article 78-A

قانونِ شہادت آرڈر 1984، آرٹیکل 73، وضاحت 3 اور 4؛ آرٹیکل 78-الف: کمپیوٹر نظام کا پرنٹ آؤٹ صرف الیکٹرانک ہونے کی وجہ سے بنیادی ثبوت سے محروم نہیں ہوتا، اگر نظام ٹھیک کام کر رہا تھا۔ اگر کوئی شخص اپنے نام منسوب الیکٹرانک دستاویز سے انکار کرے تو اس پر لاگو حفاظتی طریقہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریکارڈنگ بیکار ہے۔ اصلی ثابت ہونے والی ریکارڈنگ مضبوط ثبوت ہو سکتی ہے، اور جو سی سی ٹی وی ویڈیو دو قدموں والی کسوٹی پوری کرے اسے کسی اور ثبوت کے سہارے کی ضرورت نہیں (PLD 2026 SC 251، پیرا 16)۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی کا مقدمہ صرف ویڈیو پر ختم ہوا۔ عدالت نے اس لیے بری کیا کہ پورے مقدمے میں، صرف ویڈیو میں نہیں، معقول شک باقی تھا (2026 SCMR 350، پیرا 7 تا 12)۔
  • یہ فیصلہ یہ طے نہیں کرتا کہ کسی کو بتائے بغیر اس کی ریکارڈنگ کرنا قانونی ہے یا نہیں۔ یہ الگ سوال ہے جس کا جواب یہ صفحہ نہیں دیتا۔
  • یہ نہیں کہا گیا کہ ہر مقدمے میں ہر ریکارڈنگ کے لیے فرانزک رپورٹ لازمی ہے۔ فیصلہ عدالت کرتی ہے؛ مگر اس کے بغیر ریکارڈنگ پر بھروسہ کرنا دن بدن خطرناک ہوتا جا رہا ہے (PLD 2019 SC 675، پیرا 8)۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کیا پاکستان میں کال ریکارڈنگ عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے؟

ہاں، اگر عدالت اجازت دے اور وہ ثابت ہو۔ قانونِ شہادت کا آرٹیکل 164 عدالت کو جدید آلات کا ثبوت قبول کرنے دیتا ہے، مگر کسی آڈیو ٹیپ پر تب تک بھروسہ نہیں ہو سکتا جب تک ثابت نہ ہو کہ وہ اصلی ہے اور اس میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی: اصل ریکارڈنگ، کس نے بنائی، اس کا ذریعہ، محفوظ تحویل، اور بہتر ہے کہ فرانزک رپورٹ بھی (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔

کیا سی سی ٹی وی فوٹیج پاکستان میں ثبوت کے طور پر قابلِ قبول ہے؟

ہاں۔ سپریم کورٹ پوچھتی ہے کہ فوٹیج کیسے حاصل ہوئی، اور فرانزک رپورٹ مانگتی ہے کہ اسے بدلا نہیں گیا؛ جو فوٹیج دونوں پوری کرے وہ بنیادی ثبوت ہے اور اسے تائید کی ضرورت نہیں (PLD 2026 SC 251، پیرا 9 اور 16)۔ جو فوٹیج یہ پوری نہ کرے، کسی کی پہچان کے لیے بہت دھندلی ہو یا جگہ سے جڑی نہ ہو، رد ہو سکتی ہے (2026 SCMR 350، پیرا 7)۔

کیا واٹس ایپ چیٹ یا اسکرین شاٹ ثبوت بن سکتے ہیں؟

الیکٹرانک ریکارڈ ثبوت بن سکتا ہے، مگر اسے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ کمپیوٹر نظام کا پرنٹ آؤٹ صرف الیکٹرانک ہونے کی وجہ سے بنیادی ثبوت سے محروم نہیں ہوتا، اگر نظام ٹھیک کام کر رہا تھا (قانونِ شہادت، آرٹیکل 73، وضاحت 3)، اور اگر کوئی شخص اپنے نام منسوب الیکٹرانک دستاویز سے انکار کرے تو اس پر لاگو حفاظتی طریقہ ثابت کرنا پڑتا ہے (آرٹیکل 78-الف)۔ اصل فون سنبھال کر رکھیں اور دکھانے کے لیے تیار رہیں کہ پیغامات کہاں سے آئے۔

کیا میری ریکارڈنگ کے لیے فرانزک رپورٹ ضروری ہے؟

قانون یہ نہیں کہتا کہ ہر ریکارڈنگ کے لیے لازمی ہے، مگر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فرانزک جانچ کے بغیر کسی آڈیو ٹیپ یا ویڈیو پر بھروسہ کرنا دن بدن خطرناک ہوتا جا رہا ہے، اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ خود بخود قابلِ قبول ہے (PLD 2019 SC 675، پیرا 8 اور 11)۔

ریکارڈنگ ثابت کرنے کے لیے عدالت میں کس کو آنا ہوتا ہے؟

جس نے ریکارڈنگ بنائی اسے گواہ کے طور پر پیش ہونا چاہیے، وہ خود ریکارڈنگ پیش کرے اور آوازیں یا لوگ پہچانے؛ جو وہاں موجود تھے وہ بھی گواہی دے سکتے ہیں (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔ خود بخود ریکارڈ کرنے والے سی سی ٹی وی کے لیے اصل بات یہ ہے کہ فوٹیج کیسے حاصل ہوئی اور اس کی فرانزک رپورٹ (PLD 2026 SC 251، پیرا 9 اور 15)۔

اگر کوئی میرے خلاف ریکارڈنگ استعمال کرے تو کیا کروں؟

پوچھیں کہ کیا وہ ثابت ہوئی ہے: اس کا ذریعہ، اصل ریکارڈنگ، فرانزک رپورٹ، کس نے ریکارڈ کی، کیا اس میں کسی کو پہچانا جا سکتا ہے، اور کیا وہ درخواست کے ساتھ وقت پر پیش ہوئی۔ جو ریکارڈنگ اصلی ثابت نہ ہو، اس پر بھروسہ نہیں ہو سکتا (PLD 2019 SC 675، پیرا 11)۔ جلد کسی وکیل سے بات کریں۔

ماخذ

  • Fazal Mehmood v. The State, 2026 SCMR 350 (Supreme Court of Pakistan, 27 October 2025), paras 1, 2, 3, 6, 7, 8, 9, 10, 11, 12, 14
    CCTV footage with no proof of continuous recording, time-sync or freedom from edits, no forensic report and no clear identification did not inspire confidence; with the other circumstances weak, the accused was acquitted on the benefit of the doubt. verified against full text
  • Ishtiaq Ahmed Mirza v. Federation of Pakistan, PLD 2019 SC 675 (Supreme Court of Pakistan, 23 August 2019), paras 8, 9, 11
    The requirements for relying on an audio tape or video: proved genuine and not tampered with, the actual record, the person recording produced, played in court, safe custody, source disclosed, a formal application; a forensic report of the Punjab Forensic Science Agency is admissible on its own. verified against full text
  • Zahir Zakir Jaffar v. The State, PLD 2026 SC 251 (Supreme Court of Pakistan, 20 May 2025), paras 9, 15, 16, 17
    The two-step test for CCTV: how the video was obtained, and a forensic report that it was not altered; footage that passes it is primary evidence and needs no corroboration. verified against full text
  • Member (Administration), Federal Board of Revenue v. Mian Khan, 2021 SCMR 1077 (Supreme Court of Pakistan), paras 5, 6
    CCTV footage never sent for a forensic test cannot be the legal basis for proceeding against a person; the penalty stayed set aside. verified against full text
  • Qanun-e-Shahadat Order, 1984, Articles 73, 78-A and 164 text checked in FAI Statute Search, 23 October 2026 (Article 164's proviso as quoted in PLD 2019 SC 675, para 9) Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

کیا کال ریکارڈنگ عدالت میں ثبوت بن سکتی ہے؟

ہاں، مگر صرف تب جب ثابت ہو کہ وہ اصلی ہے۔ صرف ریکارڈنگ پاس ہونے سے کیس نہیں جیتا جاتا (سپریم کورٹ، PLD 2019 SC 675)۔

کیس: کراچی، 2015۔ ایک کمرے میں جہاں پچیس طالب علم سوتے تھے، رات کو ایک آدمی قتل ہوا۔ پاس سونے والے آدمی کو موت کی سزا ہوئی، پھر عمر قید۔

سی سی ٹی وی ویڈیو: اندھیری، نہ بغیر رکے ریکارڈنگ کا ثبوت، نہ گھڑی کا، کوئی لیبارٹری رپورٹ نہیں، اور عدالت میں یو ایس بی پر وائرس۔ اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ نے باقی کمزوریوں کے ساتھ اسے بری کر دیا (2026 SCMR 350)۔

پہلے دو باتیں: ریکارڈنگ کہاں سے آئی، اور لیبارٹری رپورٹ کہ کسی نے اسے بدلا نہیں (PLD 2026 SC 251)۔

آپ کے پاس ریکارڈنگ ہے؟ اصل فون سنبھالیں، نہ کاٹیں نہ ایڈٹ کریں، جس نے ریکارڈ کیا وہ عدالت آئے، لیبارٹری ٹیسٹ مانگیں، اور جلدی پیش کریں۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر چلتا ہے۔ اپنے معاملے پر کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ یہ صفحہ پڑھنے سے وکیل اور مؤکل کا تعلق قائم نہیں ہوتا۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید