Property and inheritance · Supreme Court of Pakistan
وقت پر کرایہ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ مالک آپ کو کبھی نہیں نکال سکتا
مختصر جواب
پنجاب کا کرایہ داری قانون بے دخلی کی چھ وجوہات بتاتا ہے، اور کرایہ نہ دینا ان میں سے صرف ایک ہے۔ نومبر 2024 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ اپنی ضرورت کا بہترین فیصلہ مالک خود کرتا ہے، اور جو کرایہ دار کہے کہ اس نے جگہ خرید لی ہے، وہ پہلے قبضہ واپس کرے۔
Salahuddin Ahmed v. Khurram Sultan Abbasi · Supreme Court of Pakistan · 2025 SCMR 1691 · decided 20 November 2024
By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read
بہت سے کرایہ دار سمجھتے ہیں کہ جب تک ہر مہینے کرایہ وقت پر دیا جائے، کوئی انہیں نکال نہیں سکتا۔ پاکستان میں کرائے کے بارے میں یہ سب سے عام غلط فہمیوں میں سے ایک ہے۔
یہ ہر گھر، فلیٹ یا دکان کے کرایہ دار کے لیے اہم ہے، اور ان مالکان کے لیے بھی جو جاننا چاہتے ہیں کہ اپنی جگہ کس بنیاد پر واپس مانگ سکتے ہیں۔
اہم نکات
- پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کی دفعہ 15 بے دخلی کی چھ وجوہات بتاتی ہے۔ کرایہ ادا نہ کرنا ان میں سے صرف ایک ہے۔
- فہرست میں پہلی وجہ: کرایہ داری کی مدت ختم ہو گئی ہو۔
- سپریم کورٹ (2025 SCMR 1691): مالک اپنی ذاتی ضرورت کا بہترین فیصلہ خود کرتا ہے اور کرایہ دار کی مرضی کا پابند نہیں۔
- جو کرایہ دار کہے کہ اس نے بیع کے معاہدے کے تحت جگہ خرید لی ہے، وہ پہلے قبضہ واپس کرے، پھر مقدمہ لڑے۔ جیت جائے تو ڈگری پر عمل کروا سکتا ہے۔
ایک سطر میں اصول
وقت پر کرایہ آپ کو بے دخلی کی ایک وجہ سے بچاتا ہے، سب سے نہیں۔ جب طے شدہ مدت ختم ہو جائے، یا کرایہ دار معاہدہ توڑے، جگہ کا غلط استعمال کرے یا تحریری اجازت کے بغیر آگے کرائے پر دے، تو مالک رینٹ ٹربیونل جا سکتا ہے۔ سندھ میں مالک کی اپنی حقیقی ضرورت بھی ایک بنیاد ہے جسے سپریم کورٹ تسلیم کرتی ہے۔
پنجاب میں چھ وجوہات
پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کی دفعہ 15 کے مطابق مالک بے دخلی مانگ سکتا ہے اگر: (الف) کرایہ داری کی مدت ختم ہو گئی ہو؛ (ب) کرایہ دار نے دفعہ 7 میں مقرر مدت کے بعد تیس دن کے اندر کرایہ ادا یا پیش نہ کیا ہو؛ (ج) معاہدے کی کسی شرط کی خلاف ورزی کی ہو؛ (د) دفعہ 13 کی کسی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی ہو؛ (ہ) جگہ اس مقصد سے مختلف کام کے لیے استعمال کی ہو جس کے لیے کرائے پر دی گئی؛ یا (و) مالک کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر آگے کرائے پر دی ہو۔
اسی ایکٹ کی دفعہ 5 کہتی ہے کہ مالک کرایہ داری معاہدے کے بغیر جگہ کرائے پر نہیں دے گا، اور معاہدہ رینٹ رجسٹرار کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اس مقدمے میں کیا ہوا
مقدمہ کراچی سے تھا۔ مالک نے سندھ رینٹڈ پریمسز آرڈیننس 1979 کے تحت بے دخلی مانگی۔ کرایہ دار نے کہا کہ اس نے فروخت کنندہ سے معاہدہ کر کے جگہ خرید لی ہے اور تعمیلِ معاہدہ کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے (پیرا 3)۔
سندھ ہائی کورٹ کراچی نے 27 ستمبر 2024 کو رینٹ اپیل کرایہ دار کے خلاف فیصلہ کی، اور کرایہ دار سپریم کورٹ گیا (پیرا 1)۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا
جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے 20 نومبر 2024 کو درخواست کا فیصلہ کیا۔
مالک کی ضرورت پر عدالت نے کہا کہ یہ صرف مالک کا انتخاب اور اختیار ہے کہ کون سی جگہ اس کے لیے بہتر ہے، کیونکہ اپنی ذاتی ضرورت کا بہترین فیصلہ وہ خود کرتا ہے اور کرایہ دار کی ہدایت پر عمل کا قانونی طور پر پابند نہیں۔ حقیقی ذاتی ضرورت بے دخلی مانگنے کی کافی وجہ ہے (پیرا 2)۔
خریداری کے دعوے پر کہا کہ جو کرایہ دار بیع کے معاہدے کی بنیاد پر مالک کی ملکیت سے انکار کرے، وہ پہلے قبضہ واپس کرنے کا پابند ہے، پھر اپنے حقِ ملکیت کا مقدمہ لڑے، اور جیتنے پر ڈگری پر عمل کروا سکتا ہے (پیرا 3)۔ مالک کی ملکیت کے خلاف ثبوت نہ ہو تو کرایہ داری کا مضبوط مفروضہ ہوتا ہے۔
مدت ختم ہونے پر عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے PLD 2018 SC 81 کا حوالہ دیا: مدت ختم ہونے کے بعد کرایہ دار رہ تو سکتا ہے، مگر مالک کی واضح رضامندی کے بغیر وہ بے دخلی کے قابل ہے (پیرا 3)۔
اپیل کی اجازت نہیں ملی اور درخواست خارج ہو گئی (پیرا 4)۔
تین مہینے پہلے بھی یہی اصول
مسرت شاہین بنام وربینا خان افروز، 2024 SCMR 1796 (8 اگست 2024) میں کراچی کی ایک کرایہ دار نے کہا کہ اس نے 2009 میں فلیٹ خریدے تھے، اور مالکن کے بے دخلی کے مقدمے کے بعد 2020 میں دعویٰ دائر کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف دعویٰ دائر کرنے سے کرایہ دار قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا؛ ملکیت کا دعویٰ کرنے والا کرایہ دار جگہ خالی کرے، مقدمہ لڑے، اور جیتنے پر قبضہ واپس لے (پیرا 8)۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی۔
کیس ایک نظر میں
- حقائق
- سندھ رینٹڈ پریمسز آرڈیننس 1979 کے تحت بے دخلی کی کارروائی۔ کرایہ دار نے کہا کہ اس نے بیع کے معاہدے کے تحت جگہ خرید لی ہے اور تعمیلِ معاہدہ کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کراچی نے 27 ستمبر 2024 کو رینٹ اپیل اس کے خلاف فیصلہ کی۔
- سوال
- کیا کرایہ دار خریداری کے دعوے کی بنیاد پر بے دخلی روک سکتا ہے، اور کیا مالک کی ذاتی ضرورت کافی بنیاد ہے؟
- عدالت کا فیصلہ
- اپنی ذاتی ضرورت کا بہترین فیصلہ مالک خود کرتا ہے، اور یہ بے دخلی کی کافی وجہ ہے۔ خریداری کا دعویٰ کرنے والا کرایہ دار پہلے قبضہ دے، پھر مقدمہ لڑے۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی۔
- وجہ
- ذاتی ضرورت، مالک کی ملکیت سے انکار کرنے والے کرایہ دار، اور مدت ختم ہونے کے بعد بغیر رضامندی رہنے والے کرایہ دار کے بارے میں سپریم کورٹ کے طے شدہ فیصلے۔
- حدود
- یہ اپیل کی اجازت نہ دینے کا مختصر حکم تھا۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مالک رینٹ کنٹرولر یا ٹربیونل کے بغیر خود نکال سکتا ہے، اور خریداری کا دعویٰ دیوانی مقدمے پر چھوڑا گیا۔ ذاتی ضرورت سندھ آرڈیننس کی بنیاد ہے؛ پنجاب ایکٹ 2009 کی اپنی چھ وجوہات ہیں۔ حکم میں یہ ذکر نہیں کہ کرایہ دار نے کرایہ ادا کیا تھا یا نہیں۔
عدالت کے اپنے الفاظ
“It is observed that it is the sole choice and prerogative of the landlord to choose the premises which better suits him as he is the best judge of his personal need and he is not under any legal obligation to act upon dictation of the tenant. Personal bona fide need has been accepted as sufficient reason to seek eviction of the tenant.”
ترجمہ: یہ صرف مالک کا انتخاب اور اختیار ہے کہ کون سی جگہ اس کے لیے بہتر ہے، کیونکہ اپنی ذاتی ضرورت کا بہترین فیصلہ وہ خود کرتا ہے اور کرایہ دار کی ہدایت پر عمل کا قانونی طور پر پابند نہیں۔ حقیقی ذاتی ضرورت بے دخلی مانگنے کی کافی وجہ مانی گئی ہے۔
2025 SCMR 1691, para 2
“it is an established principle that if a tenant denies the proprietary rights of the landlord on the ground of any agreement to sell, then he is bound to first of all deliver the possession of the premises in question and then to contest his proprietary rights in the property and if ultimately he succeeds in getting relief from the Court of competent jurisdiction and decree is passed in his favour he can enforce the same according to law with all its consequences.”
ترجمہ: اگر کرایہ دار بیع کے معاہدے کی بنیاد پر مالک کی ملکیت سے انکار کرے تو وہ پہلے قبضہ واپس کرنے کا پابند ہے، پھر اپنے حقِ ملکیت کا مقدمہ لڑے، اور اگر آخرکار عدالت سے ڈگری مل جائے تو قانون کے مطابق اس پر عمل کروا سکتا ہے۔
2025 SCMR 1691, para 3
“a tenant cannot maintain occupancy of rented premises merely because he/she has initiated a suit for declaration. In instances where the tenant asserts ownership of the property, the legally mandated procedure requires the tenant to vacate the premises, pursue the civil suit, and, upon a favorable judgment by the competent court, regain possession of the property.”
ترجمہ: کرایہ دار صرف اس لیے قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا کہ اس نے استقرارِ حق کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ ملکیت کا دعویٰ کرنے والا کرایہ دار جگہ خالی کرے، دیوانی مقدمہ لڑے، اور حق میں فیصلہ آنے پر قبضہ واپس لے۔
2024 SCMR 1796, para 8
جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے
مالک بے دخلی مانگ سکتا ہے اگر: مدت ختم ہو گئی ہو؛ دفعہ 7 کی مدت کے بعد تیس دن میں کرایہ ادا نہ ہوا ہو؛ معاہدے کی شرط ٹوٹی ہو؛ دفعہ 13 کی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہو؛ جگہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہوئی ہو؛ یا تحریری اجازت کے بغیر آگے کرائے پر دی گئی ہو۔
مالک کرایہ داری معاہدے کے بغیر جگہ کرائے پر نہیں دے گا۔
سندھ میں مالک کی حقیقی ذاتی ضرورت بے دخلی کی بنیاد ہے، جیسا کہ سپریم کورٹ نے 2025 SCMR 1691 میں لاگو کیا۔
اس کا کیا مطلب نہیں
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ مالک خود کرایہ دار کو نکال سکتا ہے۔ بے دخلی رینٹ کنٹرولر یا رینٹ ٹربیونل کے ذریعے ہوتی ہے۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ کرایہ دینا اہم نہیں۔ وقت پر کرایہ نہ دینا خود بے دخلی کی وجہ ہے۔
- یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ کرایہ دار کے خریداری کے دعوے میں جائیداد کس کی ہے۔ وہ دیوانی مقدمے کا کام ہے؛ کرایہ دار کو بس مقدمہ لڑتے ہوئے قبضہ واپس کرنا ہوتا ہے۔
لوگ کیا پوچھتے ہیں
میں نے کبھی کرایہ لیٹ نہیں کیا۔ کیا پھر بھی مجھے نکالا جا سکتا ہے؟
ہاں، اگر کوئی اور وجہ موجود ہو۔ پنجاب میں رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کی دفعہ 15 کے تحت مالک بے دخلی مانگ سکتا ہے جب مدت ختم ہو جائے، معاہدہ ٹوٹے، جگہ کسی اور کام میں استعمال ہو یا بغیر تحریری اجازت آگے کرائے پر دی جائے، وغیرہ۔
کیا مالک کہہ سکتا ہے کہ جگہ اسے خود چاہیے؟
سندھ رینٹڈ پریمسز آرڈیننس کے تحت ہاں: سپریم کورٹ کہتی ہے کہ اپنی ذاتی ضرورت کا بہترین فیصلہ مالک خود کرتا ہے اور کرایہ دار یہ طے نہیں کر سکتا کہ مالک کون سی جگہ استعمال کرے۔ مالک کو رینٹ کنٹرولر کے سامنے ضرورت حقیقی ثابت کرنی ہوتی ہے۔
میرے پاس اپنے کرائے کے گھر کو خریدنے کا معاہدہ ہے۔ کیا مقدمے کے فیصلے تک رہ سکتا ہوں؟
نہیں۔ سپریم کورٹ کہتی ہے کہ خریداری کا دعویٰ کرنے والا کرایہ دار پہلے قبضہ واپس کرے، پھر مقدمہ لڑے۔ جیت جائے تو ڈگری پر عمل کروا کر دوبارہ قبضہ لے سکتا ہے۔
کرایہ دار محفوظ رہنے کے لیے کیا کرے؟
تحریری کرایہ داری معاہدہ رکھیں، اس کی مدت ختم ہونے کی تاریخ جانیں، اور اس سے پہلے تحریری طور پر تجدید کریں۔ ہر کرائے کی ادائیگی کا ثبوت رکھیں۔
ماخذ
- Salahuddin Ahmed v. Khurram Sultan Abbasi, 2025 SCMR 1691 (Supreme Court of Pakistan, 20 November 2024), paras 1, 2, 3, 4
Landlord is the best judge of his personal need; a tenant claiming purchase must deliver possession first; holding over after expiry makes a tenant liable to eviction; leave refused. verified against full text - Mst. Mussarrat Shaheen v. Mst. Verbeena Khan Afroz, 2024 SCMR 1796 (Supreme Court of Pakistan, 8 August 2024), paras 8, 14
A tenant who asserts ownership must vacate, pursue the civil suit and regain possession only if she wins; leave refused. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF) - Punjab Rented Premises Act, 2009, s.15, s.5 text checked in FAI Statute Search Punjab Code
Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.
ریل میں کیا کہا گیا
ریل کے الفاظ پڑھیں
سچ یا جھوٹ؟ کرایہ وقت پر دیتے رہیں تو مالک مکان آپ کو کبھی نہیں نکال سکتا۔ جھوٹ۔
قانون: پنجاب رینٹڈ پریمسز ایکٹ 2009 کی دفعہ 15 بے دخلی کی چھ وجوہات بتاتی ہے۔ کرایہ نہ دینا ان میں سے صرف ایک ہے۔
پہلی وجہ: کرایہ داری کی مدت ختم ہو گئی ہو۔ باقی: معاہدے کی شرط توڑنا، جگہ کسی اور کام کے لیے استعمال کرنا، بغیر تحریری اجازت آگے کرائے پر دینا، وغیرہ۔
کیس: کراچی کا ایک مقدمہ۔ کرایہ دار نے کہا کہ وہ جگہ خرید چکا ہے، معاہدہ ہے اور مقدمہ عدالت میں ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ مالک کے حق میں دیا۔
سپریم کورٹ (نومبر 2024): اپنی ذاتی ضرورت کا بہترین فیصلہ مالک خود کرتا ہے، اور وہ کرایہ دار کی مرضی کا پابند نہیں۔ جو کرایہ دار کہے کہ اس نے جگہ خرید لی ہے، وہ پہلے قبضہ واپس کرے، پھر اپنا مقدمہ لڑے۔ مدت ختم ہونے کے بعد مالک کی رضامندی کے بغیر رہنے والا کرایہ دار بے دخلی کے قابل ہے۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی (2025 SCMR 1691)۔
اگست 2024 کے ایک اور کیس میں بھی سپریم کورٹ نے یہی کہا: ملکیت کا دعویٰ کرنے والا کرایہ دار پہلے جگہ خالی کرے (2024 SCMR 1796)۔
یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر چلتا ہے۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.





