FAI Media

Property and inheritance · Supreme Court of Pakistan

بہن نے برسوں حصہ نہیں مانگا۔ کیا اب اس کا حق ختم ہو گیا؟

مختصر جواب

نہیں۔ سپریم کورٹ کہتی ہے کہ وارث اسی لمحے اپنے حصوں کے مالک بن جاتے ہیں جس لمحے مرنے والے کا انتقال ہوتا ہے، اور دعویٰ کرنے میں دیر سے یہ حق ختم نہیں ہوتا۔ 2025 میں عدالت نے بہن کے خلاف بھائی کی آخری اپیل کی اجازت نہیں دی اور اس پر پانچ لاکھ روپے خرچہ ڈالا۔

Abrar Hussain v. Mst. Bibi Shahida · Supreme Court of Pakistan · PLD 2026 SC 42 · decided 29 August 2025

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read

بہت سے خاندانوں میں والد کے انتقال کے بعد گھر یا زمین ایک بیٹے کے پاس رہ جاتی ہے۔ بہنوں کو بتایا جاتا ہے، یا وہ خود سمجھ لیتی ہیں، کہ چونکہ انہوں نے برسوں نہیں مانگا، اس لیے اب حصہ ان کا نہیں رہا۔

یہ بات ان بیٹیوں، بہنوں اور بیواؤں کے لیے اہم ہے جنہیں ابھی تک حصہ نہیں ملا، اور ان بھائیوں کے لیے بھی جن کے پاس خاندانی جائیداد ہے اور جو جاننا چاہتے ہیں کہ قانون کیا کہتا ہے۔

اہم نکات

  • سپریم کورٹ، PLD 2026 SC 42: وارث مرنے والے کے انتقال کے فوراً بعد جائیداد کے مالک بن جاتے ہیں۔
  • حق جتانے یا انتقال (میوٹیشن) کو چیلنج کرنے میں دیر سے یہ حق ختم نہیں ہوتا، اور شریک وارثوں کے درمیان دستبرداری، ایسٹاپل، حق چھوڑنے یا مخالفانہ قبضے کے اصول لاگو نہیں ہوتے۔
  • جو بھائی کہے کہ والد نے جائیداد اسے تحفے (ہبہ) میں دی، اس پر ہبہ ثابت کرنے کا بھاری بوجھ ہے: پیشکش، قبولیت اور قبضے کی حوالگی۔
  • اس کیس میں بھائی اپنا کاغذ ثابت نہ کر سکا، تمام وارثوں کا حصہ برقرار رہا، اور سپریم کورٹ نے اس پر پانچ لاکھ روپے خرچہ ڈالا، جو قانونی وارثوں میں تقسیم ہوگا۔

ایک سطر میں اصول

جس لمحے والدین کا انتقال ہوتا ہے، ہر وارث ترکے میں اپنے حصے کا مالک بن جاتا ہے۔ وقت گزرنے سے یہ حصہ ختم نہیں ہوتا، اور ایک وارث کا قبضہ سب وارثوں کی طرف سے سمجھا جاتا ہے۔ بہن برسوں بعد بھی اپنا حصہ مانگ سکتی ہے۔

اس کیس میں کیا ہوا

والد کا انتقال یکم جنوری 2002 کو ہوا۔ انہوں نے پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑیں (پیرا 3)۔

مارچ 2015 میں، تیرہ سال بعد، ایک بیٹی نے استقرارِ حق، تقسیم، منافع اور حکمِ امتناعی کا دعویٰ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ بار بار اپنا حصہ مانگتی رہی، مگر ایک بھائی نے انکار کیا، جائیداد پر قبضہ رکھا اور اس کا ایک حصہ کرائے پر دے کر کرایہ کسی کو نہیں دیا (پیرا 2 اور 4)۔

باقی بہن بھائیوں نے اس کی تائید کی اور دعویٰ ڈگری ہونے پر رضامندی دی (پیرا 4)۔

بھائی کا کاغذ

بھائی نے کہا کہ والد نے اپنی زندگی میں محبت اور شفقت سے یہ جائیداد اسے ہبہ کر دی تھی۔ اس نے 30 جون 2000 کے ایک اقرار نامے اور یونین کونسل کے ناظم کی طرف سے مبینہ طور پر جاری کیے گئے قبضے کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا (پیرا 4)۔

اس نے نہ تصدیقی گواہ پیش کیے اور نہ کوئی قابلِ اعتماد ثبوت۔ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ اقرار نامے میں گواہوں کی تفصیل، جیسے پتے اور شناختی کارڈ نمبر، موجود نہیں، اور اسے "مشکوک اور ناقابلِ اعتبار" قرار دیا۔ قبضے کا سرٹیفکیٹ بھی ثابت نہ ہو سکا (پیرا 8)۔

والد اپنی زندگی میں جائیداد استعمال کرتے رہے، اور بجلی گیس کے کنکشن ان ہی کے نام رہے (پیرا 9)۔

عدالتوں نے کیا فیصلہ کیا

17 اکتوبر 2019 کو ٹرائل کورٹ نے تمام بچوں کو وارث قرار دیا، ہر ایک کو مسلم قانون کے مطابق حصے کا حق دار، جائیداد کی تقسیم یا فروخت کر کے رقم بانٹنے کا حکم دیا، اور بھائی کو دعوے سے پہلے کے تین سال کے کرائے سے پچیس ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے منافع ادا کرنے کا حکم دیا (پیرا 4)۔

اس کی پہلی اپیل جنوری 2021 میں خارج ہوئی، اور دوسری اپیل ہائی کورٹ نے 2023 میں خارج کی (پیرا 5)۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عرفان سعادت خان کے بینچ نے 29 اگست 2025 کو اپیل کی اجازت نہیں دی۔ عدالت نے کہا کہ یہ درخواست دوسرے وارثوں کے حقوق میں تاخیر اور رکاوٹ کی کوشش کے سوا کچھ نہیں تھی، یعنی عدالتی عمل کا غلط استعمال، اور بھائی پر پانچ لاکھ روپے خرچہ ڈالا، جو ٹرائل کورٹ کے قرار دیے گئے قانونی وارثوں میں تقسیم ہوگا (پیرا 10، 14 اور 15)۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
والد کا انتقال یکم جنوری 2002 کو ہوا، پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں۔ ایک بیٹی نے مارچ 2015 میں اپنے حصے کا دعویٰ کیا۔ ایک بھائی نے 30 جون 2000 کے اقرار نامے اور ناظم کے قبضے کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر جائیداد کو والد کا ہبہ بتایا۔ ٹرائل کورٹ نے 17 اکتوبر 2019 کو دعویٰ ڈگری کیا؛ پہلی اپیل اور ہائی کورٹ میں دوسری اپیل خارج ہوئیں۔
سوال
کیا بھائی والد کے انتقال کے برسوں بعد ایک غیر ثابت شدہ ہبہ کی بنیاد پر باقی وارثوں کو محروم کر سکتا ہے؟
عدالت کا فیصلہ
نہیں۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی اور درخواست خارج، اور بھائی پر پانچ لاکھ روپے خرچہ جو قانونی وارثوں میں تقسیم ہوگا۔
وجہ
وارث انتقال کے فوراً بعد مالک بن جاتے ہیں؛ دیر سے حق ختم نہیں ہوتا؛ شریک وارثوں میں دستبرداری، ایسٹاپل، حق چھوڑنے یا مخالفانہ قبضے کے اصول لاگو نہیں ہوتے۔ ہبہ کا دعویٰ کرنے والے پر پیشکش، قبولیت اور قبضے کی حوالگی ثابت کرنے کا بھاری بوجھ ہے، اور بھائی نے کوئی تصدیقی گواہ پیش نہیں کیا۔
حدود
یہ نیچے کی عدالتوں کے یکساں حقائق پر مبنی فیصلوں کے بعد اپیل کی اجازت سے انکار تھا۔ ہر وارث کا صحیح حصہ مسلم قانون اور خاندان کے حقائق پر منحصر ہے، اور والد کی زندگی میں باقاعدہ ثابت شدہ ہبہ ایک الگ معاملہ ہے۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“This Court has consistently held that the heirs acquire ownership of the property immediately upon death of the predecessor-in-interest. The possession of one co-sharer is deemed to be for the benefit of all co-sharers, and delay in asserting a right or challenging a mutation does not extinguish that right. The doctrines of waiver, estoppel, relinquishment, or adverse possession do not apply amongst co-heirs.”

ترجمہ: اس عدالت نے مسلسل کہا ہے کہ وارث مورث کے انتقال کے فوراً بعد جائیداد کے مالک بن جاتے ہیں۔ ایک شریک کا قبضہ تمام شریکوں کے فائدے کے لیے سمجھا جاتا ہے، اور حق جتانے یا انتقال کو چیلنج کرنے میں دیر سے وہ حق ختم نہیں ہوتا۔ دستبرداری، ایسٹاپل، حق چھوڑنے یا مخالفانہ قبضے کے اصول شریک وارثوں کے درمیان لاگو نہیں ہوتے۔

PLD 2026 SC 42, para 12

“The estate of a deceased vests automatically and immediately in the heirs upon death without the intervention of any authority.”

ترجمہ: مرنے والے کا ترکہ انتقال کے ساتھ ہی خود بخود اور فوراً وارثوں کو منتقل ہو جاتا ہے، کسی اتھارٹی کی مداخلت کے بغیر۔

PLD 2026 SC 42, para 13

“It is directed that the amount so deposited shall be distributed amongst the legal heirs declared by the trial court.”

ترجمہ: ہدایت کی جاتی ہے کہ جمع کروائی گئی رقم ٹرائل کورٹ کے قرار دیے گئے قانونی وارثوں میں تقسیم کی جائے۔

PLD 2026 SC 42, para 15

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ بہن انتظار کرے۔ دیر کا ہر سال حصے کے بغیر ایک سال ہے، اور ثبوت ڈھونڈنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھائی کا ہر ہبہ کا دعویٰ ناکام ہوتا ہے۔ جو ہبہ پیشکش، قبولیت اور قبضے کے ساتھ باقاعدہ ثابت ہو، وہ قائم رہ سکتا ہے۔ یہاں وہ ثابت نہیں ہوا۔
  • اس فیصلے میں ہر وارث کا صحیح حصہ طے نہیں ہوا۔ وہ مسلم قانونِ وراثت اور خاندان کے حقائق کے مطابق ہوتا ہے۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

میرے والد کا انتقال کئی سال پہلے ہوا۔ کیا میں اب بھی حصہ مانگ سکتی ہوں؟

سپریم کورٹ نے PLD 2026 SC 42 میں کہا کہ وارث انتقال کے فوراً بعد اپنے حصوں کے مالک بن جاتے ہیں، اور حق جتانے میں دیر سے وہ ختم نہیں ہوتا، اور شریک وارثوں میں دستبرداری، ایسٹاپل، حق چھوڑنے یا مخالفانہ قبضے کے اصول لاگو نہیں ہوتے۔ اپنے حقائق پر استقرارِ حق اور تقسیم کے دعوے کے بارے میں وکیل سے بات کریں۔

بھائی کہتا ہے کہ والد نے گھر اسے ہبہ کر دیا تھا۔ پھر کیا؟

جو ہبہ کا دعویٰ کرے، اسے ثابت کرنا ہوتا ہے: درست پیشکش، قبولیت اور قبضے کی حوالگی۔ اس کیس میں بھائی نے اپنے کاغذ کا کوئی تصدیقی گواہ پیش نہیں کیا، اور عدالتوں نے اسے رد کر دیا۔

بھائی کو کیا ادا کرنا پڑا؟

ٹرائل کورٹ کے حکم کے مطابق کرائے سے منافع، اور سپریم کورٹ کا ڈالا ہوا پانچ لاکھ روپے خرچہ، جو قانونی وارثوں میں تقسیم ہوگا۔

ماخذ

  • Abrar Hussain v. Mst. Bibi Shahida, PLD 2026 SC 42 (Supreme Court of Pakistan, 29 August 2025), paras 2, 3, 4, 5, 8, 9, 10, 12, 13, 14, 15
    Heirs own their shares immediately on death; delay does not extinguish the right; unproved gift rejected; leave refused with Rs 500,000 costs to be distributed among the legal heirs. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، بہن نے برسوں حصہ نہیں مانگا، تو اب اس کا حق ختم؟ غلط۔

سپریم کورٹ: وراثت اسی لمحے وارثوں کی ہو جاتی ہے جس لمحے والد کا انتقال ہوتا ہے۔ دیر ہو جانے سے یہ حق ختم نہیں ہوتا، اور وارثوں کے آپس میں "حق چھوڑ دیا تھا" یا "قبضہ ہمارا ہے" والی دلیل نہیں چلتی۔

کیس: والد کا انتقال 2002 میں ہوا۔ تیرہ سال بعد، 2015 میں، بیٹی نے عدالت میں اپنا حصہ مانگا۔ بھائی نے ایک کاغذ دکھایا کہ والد نے جائیداد اسے تحفے میں دی تھی، مگر وہ اسے ثابت نہ کر سکا: اس کا کوئی گواہ پیش نہیں ہوا۔

سپریم کورٹ (اگست 2025): تمام وارثوں کا حصہ برقرار، اور بھائی پر پانچ لاکھ روپے خرچہ، جو وارثوں میں تقسیم ہوگا (ابرار حسین بنام بی بی شاہدہ، PLD 2026 SC 42)۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید