FAI Media

Property and inheritance · Supreme Court of Pakistan

بارہ سال کسی کی زمین پر قبضہ رکھنے سے وہ آپ کی نہیں ہو جاتی۔

مختصر جواب

پرانے لمیٹیشن ایکٹ کے تحت جو مالک وقت پر قبضے کا دعویٰ نہ کرتا، اس کی ملکیت ختم ہو جاتی تھی۔ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے یہ اصول 31 اگست 1991 سے اسلام کے احکام کے خلاف قرار دیا، اور 2025 میں سپریم کورٹ نے پھر کہا کہ صرف وقت گزرنے سے مالک کی جائیداد نہیں جاتی۔

Maqbool Ahmad v. Hakoomat-e-Pakistan · Supreme Court of Pakistan (Shariat Appellate Bench) · 1991 SCMR 2063 · decided Effective 31 August 1991

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read

پاکستان بھر میں زمین کے جھگڑوں میں آج بھی یہ بات سنائی دیتی ہے: بارہ سال کسی زمین پر قبضہ رہے تو وہ آپ کی ہو جاتی ہے۔ کچھ قابض سال گنتے ہیں، اور کچھ مالک گھبرا جاتے ہیں۔

یہ بات ان مالکوں کے لیے اہم ہے جن کی زمین یا گھر کسی اور کے قبضے میں ہے، ان کرایہ داروں اور مرتہنوں کے لیے جو برسوں سے جائیداد پر ہیں، اور ہر اس شخص کے لیے جو ایسی زمین خرید رہا ہو جس پر کوئی قابض ہو۔

اہم نکات

  • بارہ سال لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے پہلے شیڈول کے آرٹیکل 144 سے آتے تھے، دفعہ 28 کے ساتھ، جو قبضے کے دعوے کی مدت ختم ہوتے ہی مالک کا حق ختم کر دیتی تھی۔ آرٹیکل 144 اب ایکٹ II، 1995 کے ذریعے حذف ہے۔
  • سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے 1991 SCMR 2063 میں دفعہ 28 کو، جہاں تک وہ جائیداد کا حق ختم کرتی تھی، اسلام کے احکام کے خلاف قرار دیا، 31 اگست 1991 سے۔
  • سپریم کورٹ، 2025 SCMR 1018: صرف وقت گزرنے سے کوئی مالک اپنی ملکیت کے حق سے محروم نہیں ہوتا۔
  • اسی فیصلے میں: 31 اگست 1991 کی آخری تاریخ کے بعد کوئی بھی شخص قانونِ تقادم کے تحت حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

ایک سطر میں اصول

قبضہ، ملکیت نہیں۔ 31 اگست 1991 سے کوئی مالک صرف اس وجہ سے اپنی ملکیت نہیں کھوتا کہ کسی اور نے برسوں اس کی زمین پر قبضہ رکھا۔ عدالت وقت گزر جانے والا ریلیف رد کر سکتی ہے، مگر ملکیت کا حق باقی رہتا ہے۔

پرانا قانون اور 1991 کا فیصلہ

لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے تحت غیر منقولہ جائیداد کے قبضے کا دعویٰ ایک مقررہ مدت میں کرنا ہوتا تھا، آرٹیکل 144 کے تحت بارہ سال۔ دفعہ 28 اس سے آگے جاتی تھی: مدت ختم ہوتے ہی مالک کا جائیداد پر حق ہی ختم ہو جاتا، اور قابض ملکیت تک پہنچ سکتا تھا۔

مقبول احمد بنام حکومتِ پاکستان، 1991 SCMR 2063 میں سپریم کورٹ کا شریعت اپیلیٹ بینچ متفق تھا: دفعہ 28 اسلام کے احکام کے خلاف ہے جہاں تک وہ قبضے کے دعوے کی مقررہ مدت ختم ہونے پر جائیداد کا حق ختم کرتی ہے۔ یہ فیصلہ 31 اگست 1991 سے نافذ ہوا، اور اسی دن سے دفعہ 28 اس حد تک بے اثر ہو گئی۔

بعد میں آرٹیکل 144 ایکٹ II، 1995 کے ذریعے قانون سے نکال دیا گیا۔

2025 کے کیس میں کیا ہوا

ایک شخص 1953 سے اپنی زمین کا مالک تھا۔ اس کا ایک حصہ، 32 حصے، پرانے رہن میں تھا۔ مارچ 1981 میں ایک اور شخص نے اس حصے پر مرتہن کے حقوق خرید لیے (پیرا 3)۔

مالک نے اپنی زمین فک الرہن کروانے کا دعویٰ کیا۔ اپیل کی عدالت نے ڈگری دی، اور پشاور ہائی کورٹ، بنوں بینچ نے 27 فروری 2015 کو مرتہن کی نگرانی کی درخواست خارج کی (پیرا 1)۔

سپریم کورٹ میں مرتہن نے کہا کہ رہن ساٹھ سال سے پرانا ہے، اس لیے آرٹیکل 148 کے تحت فک الرہن کا وقت گزر چکا، اور مقبول احمد کیس آرٹیکل 148 پر لاگو نہیں (پیرا 5 اور 7)۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا

جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل کے بینچ نے 13 جنوری 2025 کو درخواست کا فیصلہ کیا۔

عدالت نے کہا کہ دعویٰ ویسے بھی وقت کے اندر تھا: مرتہن کے حقوق کی خریداری اور اس کا قبضہ لمیٹیشن ایکٹ کی دفعہ 19 اور 20(2) کے تحت اعتراف شمار ہوئے، اس لیے مدت نئے سرے سے شروع ہوئی (پیرا 7)۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر دعویٰ وقت گزرنے سے رکا ہوا بھی مانا جائے، تو بھی صرف وقت گزرنے سے مالک اپنی ملکیت سے محروم نہیں ہوتا، اور مرتہن خود بخود مالک نہیں بن جاتا۔ 31 اگست 1991 کے بعد کوئی قانونِ تقادم کے تحت حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اور تقادم کا اصول قانون کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا (پیرا 8)۔

اپیل کی اجازت نہیں دی گئی۔ عدالت نے اجرا کی عدالت کو ہدایت کی کہ امید ہے تین مہینے میں مالک کو قبضہ واپس دلائے، رہن کی رقم کے بغیر، کیونکہ مرتہن زمین سے پہلے ہی اس سے زیادہ فائدہ لے چکا تھا (پیرا 10)۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
1953 سے مالک ایک شخص نے اپنی زمین کے 32 حصے اس شخص سے چھڑانے کا دعویٰ کیا جس نے مارچ 1981 میں مرتہن کے حقوق خریدے تھے۔ اپیل کی عدالت نے ڈگری دی؛ پشاور ہائی کورٹ، بنوں بینچ نے 27 فروری 2015 کو نگرانی خارج کی۔ مرتہن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 148 کے تحت ساٹھ سال بعد دعویٰ نہیں ہو سکتا۔
سوال
کیا مالک کا فک الرہن کا دعویٰ وقت گزرنے سے رک گیا تھا، اور کیا وقت گزرنے سے ملکیت مرتہن کو منتقل ہو سکتی تھی؟
عدالت کا فیصلہ
دفعہ 19 اور 20(2) کے تحت اعتراف کی وجہ سے دعویٰ وقت کے اندر تھا۔ اگر رکا ہوا بھی ہو تو وقت گزرنے سے مالک اپنی ملکیت نہیں کھوتا۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی؛ قبضہ واپس دلانے کا حکم۔
وجہ
مقبول احمد کیس کے بعد 31 اگست 1991 سے کوئی تقادم کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ تقادم سے ملکیت کے لیے اس تاریخ سے پہلے عدالت کی ڈگری ضروری تھی؛ مقبول احمد کیس کی روح آرٹیکل 148 پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
حدود
2025 کا کیس رہن کے بارے میں تھا اور زیادہ تر اعتراف کی بنیاد پر طے ہوا۔ 1991 کا حکم لمیٹیشن ایکٹ کی دفعہ 28 کے بارے میں تھا۔ دعوے دائر کرنے کی مدتیں اب بھی موجود ہیں، اور وقت گزر جانے والا ریلیف رد ہو سکتا ہے۔ 31 اگست 1991 سے پہلے حاصل کی گئی تقادم کی ڈگری برقرار ہے یا نہیں، یہ اس کیس کے حقائق پر منحصر ہے۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“section 28 of the Limitation Act, 1908 (Act No.IX of 1908) is repugnant to the Injunctions of Islam in so far as it provides for extinguishment of the right in the property at the determination of the period prescribed for instituting a suit for possession of the said property.”

ترجمہ: لمیٹیشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 28 اسلام کے احکام کے خلاف ہے جہاں تک وہ قبضے کے دعوے کی مقررہ مدت ختم ہونے پر جائیداد میں حق کے خاتمے کا حکم دیتی ہے۔

1991 SCMR 2063, para Order of the Court

“Simply efflux of time would not deprive an owner from his ownership rights.”

ترجمہ: صرف وقت گزرنے سے کوئی مالک اپنی ملکیت کے حقوق سے محروم نہیں ہوتا۔

2025 SCMR 1018, para 8

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Limitation Act, 1908 First Schedule, Art.144

حصہ ہشتم (بارہ سال)۔ یہ آرٹیکل اب یوں درج ہے: آرٹیکل 144، ایکٹ II، 1995 کی دفعہ 3 کے ذریعے حذف۔

Limitation Act, 1908 s.28

وہ دفعہ جو قبضے کے دعوے کی مدت ختم ہونے پر مالک کا جائیداد پر حق ختم کر دیتی تھی۔ اس حد تک 31 اگست 1991 سے اسلام کے احکام کے خلاف قرار دی گئی (1991 SCMR 2063)۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی مدت ہی نہیں۔ دعوے اب بھی وقت پر کرنے ہوتے ہیں، اور عدالت وقت گزر جانے والا ریلیف رد کر سکتی ہے۔ صرف وقت ملکیت نہیں چھین سکتا۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پرانا قابض ناجائز قابض ہے۔ کرایہ دار، مرتہن یا خریدار کے اپنے حقوق ہو سکتے ہیں جو اس کے کاغذات اور حقائق پر منحصر ہیں۔
  • اس سے 31 اگست 1991 سے پہلے عدالت کی دی ہوئی تقادم کی ڈگری ختم نہیں ہوتی۔ 2025 کا فیصلہ ایسی ڈگریوں کو استثنا کہتا ہے۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کوئی بارہ سال سے زیادہ میری زمین پر ہے۔ کیا میری زمین چلی گئی؟

صرف وقت کی وجہ سے نہیں۔ 31 اگست 1991 سے وہ اصول بے اثر ہے جو مدت گزرنے پر مالک کی ملکیت ختم کرتا تھا (1991 SCMR 2063)، اور 2025 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف وقت گزرنے سے مالک اپنی ملکیت سے محروم نہیں ہوتا (2025 SCMR 1018)۔ صحیح دعوے اور اس کی مدت کے بارے میں وکیل سے بات کریں۔

کیا برسوں کے قبضے کی بنیاد پر میں زمین کا دعویٰ کر سکتا ہوں؟

سپریم کورٹ نے 2025 SCMR 1018 میں کہا کہ 31 اگست 1991 کے بعد کوئی قانونِ تقادم کے تحت حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ قبضہ، ملکیت نہیں۔

کیا لمیٹیشن ایکٹ کا آرٹیکل 144 اب بھی نافذ ہے؟

نہیں۔ ایکٹ میں اب آرٹیکل 144 ایکٹ II، 1995 کے ذریعے حذف درج ہے۔

ماخذ

  • Maqbool Ahmad v. Hakoomat-e-Pakistan, 1991 SCMR 2063 (Supreme Court of Pakistan (Shariat Appellate Bench), Effective 31 August 1991), paras Order of the Court
    Section 28 of the Limitation Act repugnant to the Injunctions of Islam in so far as it extinguished the right in the property; effect from 31 August 1991. verified against the reported order
  • Pioa Shah v. Amin Khan and others, 2025 SCMR 1018 (Supreme Court of Pakistan, 13 January 2025), paras 1, 3, 5, 7, 8, 10
    Simply efflux of time would not deprive an owner of ownership; after 31 August 1991 no right can be claimed by prescription; leave refused. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)
  • Limitation Act, 1908, First Schedule, Art.144 text checked in FAI Statute Search Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، بارہ سال کسی کی زمین پر قبضہ رہے تو وہ آپ کی ہو جاتی ہے؟ غلط۔

یہ پرانا قانون تھا: لمیٹیشن ایکٹ 1908 کا آرٹیکل 144 اور دفعہ 28۔

1991 میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے انہیں اسلام کے احکام کے خلاف قرار دیا، 31 اگست 1991 سے یہ ختم (1991 SCMR 2063)۔ بعد میں آرٹیکل 144 قانون سے بھی نکال دیا گیا (ایکٹ II، 1995)۔

2025 میں سپریم کورٹ: "صرف وقت گزرنے سے کوئی مالک اپنی ملکیت سے محروم نہیں ہوتا" (2025 SCMR 1018)۔

قبضہ، ملکیت نہیں۔ زمین کے جھگڑے میں کاغذات اور اپنے وکیل سے بات کریں۔

ایسے فیصلے ایف اے آئی لیگل کی ججمنٹ سرچ میں ڈھونڈیں۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید