FAI Media

Family · Supreme Court of Pakistan

طلاق یا خلع کے بعد سسرال والے سونا اور تحفے واپس نہیں لے سکتے۔

مختصر جواب

جنوری 2026 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ شادی کے سلسلے میں شوہر یا اس کے گھر والوں نے جو کچھ دیا، وہ دلہن کا تحفہ ہے جو مکمل طور پر دلہن کی ملکیت ہے، اور شوہر اسے واپس نہیں لے سکتا۔ جو جہیز وہ ساتھ لائی، وہ بھی اسی کا ہے۔

Mst. Rafia Yaqoob v. Suleman Ayub · Supreme Court of Pakistan · 2026 SCMR 561 · decided 23 January 2026

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read

جب شادی ختم ہوتی ہے تو بہت سے خاندان سمجھتے ہیں کہ شادی پر دیا گیا سونا، کپڑے اور تحفے دینے والی طرف واپس جائیں گے۔ کچھ شوہر تو شادی کی تقریبات کا خرچ بھی مانگتے ہیں۔

یہ بات خلع یا طلاق سے گزرنے والی ہر عورت، اس کے گھر والوں، اور ہر اس شخص کے لیے اہم ہے جو بتاتا ہے کہ وہ کیا رکھ سکتی ہے اور کیا مانگ سکتی ہے۔

اہم نکات

  • سپریم کورٹ، 2026 SCMR 561: شادی کے سلسلے میں شوہر یا اس کے گھر والوں کی دی ہوئی چیزیں دلہن کے تحفوں میں آتی ہیں اور مکمل طور پر دلہن کی ملکیت ہیں۔
  • اسی پیرا میں: شوہر یہ چیزیں واپس نہیں لے سکتا، کیونکہ نہ یہ حق مہر ہیں اور نہ شوہر کی ذاتی جائیداد کے طور پر واپس لی جا سکتی ہیں۔
  • جہیز اور برائیڈل گفٹس (ریسٹرکشن) ایکٹ 1976 کی دفعہ 5 کے تحت جہیز، دلہن کے تحفے اور دلہن کو دیے گئے تحائف مکمل طور پر اس کی ملکیت ہیں۔
  • تنسیخِ نکاح کے دعوے میں جہیز، حق مہر، نان نفقہ اور بیوی کی ذاتی جائیداد اور سامان کے سب دعوے شامل کیے جا سکتے ہیں (فیملی کورٹس ایکٹ 1964، دفعہ 7(2) کی شرط)۔

ایک سطر میں اصول

شادی کے سلسلے میں شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے دلہن کو دیے گئے تحفے مکمل طور پر اسی کے ہیں، اور جو جہیز وہ لائی وہ بھی۔ شادی ختم ہونے سے یہ واپس نہیں جاتے۔ حق مہر الگ چیز ہے، اور خلع میں عدالت اس کا کچھ حصہ واپس کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

اس کیس میں کیا ہوا

دونوں کا نکاح یکم دسمبر 2017 کو پندرہ تولے سونے کے زیورات کے معجل حق مہر پر ہوا۔ رخصتی کبھی نہیں ہوئی اور شادی کبھی مکمل نہیں ہوئی (پیرا 3)۔

بیوی نے خلع کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح کا دعویٰ کیا۔ شوہر نے اپنے جواب میں کہا کہ شادی کے لیے اسے کافی سونے کے زیور، کپڑے اور دوسری چیزیں دی گئی تھیں، اور انہیں واپس مانگا (پیرا 3)۔

17 دسمبر 2018 کو فیملی کورٹ نے اس شرط پر خلع دی کہ وہ تسلیم شدہ معجل حق مہر کا پچیس فیصد واپس کرے، اور شوہر کا چیزوں والا دعویٰ نہیں سنا۔ اپیل کی عدالت نے 8 اپریل 2019 کو یہ برقرار رکھا۔ پھر لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بینچ نے کہا کہ شادی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے پورے پندرہ تولے واپس کرے (پیرا 4)۔

سپریم کورٹ نے تحفوں کے بارے میں کیا کہا

جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس صلاح الدین پنہور کے بینچ نے 23 جنوری 2026 کو فیصلہ دیا، جو جسٹس مسرت ہلالی نے لکھا۔

شوہر نے سونے کے زیور، کپڑے اور شادی کی تقریبات کے خرچ مانگے تھے۔ عدالت نے کہا کہ اس کی بات مان بھی لی جائے تو قانون حق مہر، جہیز، دلہن کے تحفوں اور تحائف میں واضح فرق کرتا ہے۔ شادی کے سلسلے میں شوہر یا اس کے گھر والوں کی دی ہوئی چیزیں دلہن کے تحفے ہیں جو مکمل طور پر دلہن کی ملکیت ہیں، اور شوہر انہیں واپس نہیں لے سکتا۔ تینوں نچلی عدالتوں نے اس کا دعویٰ نہ سن کر درست کیا (پیرا 8)۔

حق مہر کے بارے میں کیا کہا

پنجاب میں لاگو فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 10(5) فیملی کورٹ کو خلع میں یہ اختیار دیتی ہے کہ بیوی سے مؤجل حق مہر کا پچاس فیصد تک یا تسلیم شدہ معجل حق مہر کا پچیس فیصد تک واپس کروائے۔ یہ مکمل اور نامکمل شادی میں کوئی فرق نہیں کرتی (پیرا 9 اور 11)۔

ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے ایک فیصلے پر انحصار کیا تھا جہاں پنجاب والی دفعہ 10(5) لاگو نہیں، اور ایک ایسی قرآنی آیت پر جو طلاق کے بارے میں ہے، خلع کے بارے میں نہیں (پیرا 12 اور 13)۔

عدالت نے درخواست کو اپیل میں بدل کر منظور کیا اور وہ حکم بحال کیا کہ وہ معجل حق مہر کا پچیس فیصد، یعنی 3.75 تولے سونا، واپس کرے (پیرا 13 اور 14)۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
یکم دسمبر 2017 کو پندرہ تولے سونے کے معجل حق مہر پر نکاح؛ رخصتی نہیں ہوئی، شادی نامکمل۔ بیوی نے خلع کا دعویٰ کیا؛ شوہر نے سونے کے زیور، کپڑے اور شادی کے خرچ واپس مانگے۔ فیملی کورٹ نے معجل حق مہر کے پچیس فیصد کی واپسی پر خلع دی اور اس کا دعویٰ نہیں سنا؛ اپیل کی عدالت متفق رہی؛ لاہور ہائی کورٹ نے پورے پندرہ تولے واپس کرنے کا حکم دیا۔
سوال
کیا پنجاب میں خلع کے کیس میں شادی نامکمل ہونے کی وجہ سے بیوی سے پورا معجل حق مہر واپس لیا جا سکتا ہے، اور کیا شوہر شادی کے سلسلے میں دی گئی چیزیں واپس لے سکتا ہے؟
عدالت کا فیصلہ
دفعہ 10(5) کے تحت بیوی کی ذمہ داری تسلیم شدہ معجل حق مہر کے پچیس فیصد، یعنی 3.75 تولے، تک محدود ہے۔ شوہر یا اس کے گھر والوں کی شادی کے سلسلے میں دی گئی چیزیں دلہن کے تحفے ہیں جو مکمل طور پر اس کی ملکیت ہیں اور واپس نہیں لی جا سکتیں۔ اپیل منظور۔
وجہ
دفعہ 10(5) واضح ہے اور مکمل اور نامکمل شادی میں فرق نہیں کرتی۔ قانون حق مہر، جہیز، دلہن کے تحفوں اور تحائف میں فرق کرتا ہے؛ تحفے نہ حق مہر ہیں نہ شوہر کی ذاتی جائیداد۔
حدود
حق مہر والا فیصلہ پنجاب میں ترمیم شدہ دفعہ 10(5) پر ہے؛ دوسرے صوبوں میں قانون مختلف ہو سکتا ہے۔ کوئی خاص چیز دلہن کا تحفہ تھی، ادھار تھی یا خاندان کی اپنی ملکیت، یہ حقائق کا سوال ہے جو فیملی کورٹ طے کرتی ہے۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“Items given by a husband or his family in connection with marriage fall within the category of bridal gifts or presents and, as such, vest absolutely in the bride. Such items cannot be reclaimed by the husband, as they do not constitute dower nor are they recoverable as personal property of the husband.”

ترجمہ: شادی کے سلسلے میں شوہر یا اس کے گھر والوں کی دی ہوئی چیزیں دلہن کے تحفوں یا تحائف کے زمرے میں آتی ہیں اور اس لیے مکمل طور پر دلہن کی ملکیت ہیں۔ شوہر یہ چیزیں واپس نہیں لے سکتا، کیونکہ نہ یہ حق مہر ہیں اور نہ شوہر کی ذاتی جائیداد کے طور پر واپس لی جا سکتی ہیں۔

2026 SCMR 561, para 8

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act, 1976 s.5

جہیز یا دلہن کے تحفوں کے طور پر دی گئی ساری جائیداد، اور دلہن کو تحفے میں دی گئی ساری جائیداد، مکمل طور پر دلہن کی ملکیت ہے۔

Family Courts Act, 1964 s.7(2), proviso

شرط یہ ہے کہ تنسیخِ نکاح کے دعوے میں جہیز، نان نفقہ، حق مہر، بیوی کی ذاتی جائیداد اور سامان، بچوں کی تحویل اور والدین کی ملاقات کے حق سے متعلق سب دعوے شامل ہو سکتے ہیں۔

Family Courts Act, 1964 (as it applies in Punjab) s.10(5)

تنسیخِ نکاح کے دعوے میں اگر صلح ناکام ہو تو فیملی کورٹ فوراً تنسیخِ نکاح کی ڈگری دے گی، اور خلع کی صورت میں بیوی کو مؤجل حق مہر کا پچاس فیصد تک یا تسلیم شدہ معجل حق مہر کا پچیس فیصد تک شوہر کو واپس کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ حق مہر کبھی واپس نہیں ہوتا۔ پنجاب میں خلع میں فیملی کورٹ تسلیم شدہ معجل حق مہر کا پچیس فیصد تک یا مؤجل حق مہر کا پچاس فیصد تک واپس کروا سکتی ہے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھر کی ہر چیز اس کی ہو جاتی ہے۔ یہ اصول شادی کے سلسلے میں دلہن کے تحفے، تحائف یا جہیز کے طور پر دی گئی چیزوں پر ہے؛ باقی جائیداد حقائق پر منحصر ہے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ سامان خود بخود واپس مل جاتا ہے۔ اگر روکا جائے تو اسے دعویٰ کرنا ہوتا ہے، اور فیملی کورٹ شہادت پر فیصلہ کرتی ہے۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کیا خلع کے بعد سسرال والے شادی پر دیا گیا سونا واپس لے سکتے ہیں؟

سپریم کورٹ نے 2026 SCMR 561 میں کہا کہ شادی کے سلسلے میں شوہر یا اس کے گھر والوں کی دی ہوئی چیزیں دلہن کے تحفے ہیں جو مکمل طور پر دلہن کی ملکیت ہیں، اور شوہر انہیں واپس نہیں لے سکتا۔

کیا طلاق کے بعد میرا جہیز میرا ہے؟

جہیز اور برائیڈل گفٹس (ریسٹرکشن) ایکٹ 1976 کی دفعہ 5 کے تحت جہیز، دلہن کے تحفے اور دلہن کو دیے گئے تحائف مکمل طور پر اس کی ملکیت ہیں۔ ہو سکے تو فہرستیں اور رسیدیں سنبھال کر رکھیں۔

میں اپنا جہیز اور سامان کہاں سے مانگوں؟

فیملی کورٹ میں۔ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 7(2) کی شرط کے تحت تنسیخِ نکاح کے دعوے میں جہیز، نان نفقہ، حق مہر اور بیوی کی ذاتی جائیداد اور سامان کے سب دعوے شامل ہو سکتے ہیں۔ اپنے وکیل سے بات کریں۔

ماخذ

  • Mst. Rafia Yaqoob v. Suleman Ayub, 2026 SCMR 561 (Supreme Court of Pakistan, 23 January 2026), paras 3, 4, 8, 9, 11, 12, 13, 14
    Items given by the husband or his family in connection with marriage vest absolutely in the bride and cannot be reclaimed; in a Punjab khula the wife's liability is capped by s.10(5). verified against full text
  • Family Courts Act, 1964, s.7(2), s.10(5) (Punjab) text checked in FAI Statute Search Punjab Code
  • Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act, 1976, s.5 not in FAI Statute Search; stated as quoted in reported judgments Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، طلاق یا خلع ہو جائے تو سسرال والے سونا اور تحفے واپس لے سکتے ہیں؟ غلط۔

سپریم کورٹ (جنوری 2026): شادی کے سلسلے میں شوہر یا اس کے گھر والوں نے جو چیزیں دیں، وہ دلہن کے تحفے ہیں اور مکمل طور پر دلہن کی ملکیت۔ شوہر انہیں واپس نہیں لے سکتا (2026 SCMR 561)۔

اس کیس میں شوہر نے سونے کے زیور، کپڑے اور شادی کے خرچے واپس مانگے تھے۔ عدالتوں نے یہ دعویٰ سنا ہی نہیں، اور سپریم کورٹ نے اسے درست کہا۔

جہیز: جہیز اور برائیڈل گفٹس (ریسٹرکشن) ایکٹ 1976 کی دفعہ 5: جہیز، دلہن کے تحفے، اور دلہن کو دیا گیا ہر تحفہ، مکمل طور پر دلہن کی ملکیت ہے۔

اپنا سامان واپس لینے کا دعویٰ فیملی کورٹ میں، خلع یا طلاق کے دعوے کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اپنے وکیل سے بات کریں۔

ایسے فیصلے ایف اے آئی لیگل کی ججمنٹ سرچ میں ڈھونڈیں۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید