FAI Media

Service and pension · Supreme Court of Pakistan

والد کی وفات کے بعد طلاق ہو گئی۔ کیا بیٹی والد کی فیملی پنشن سے محروم ہو جاتی ہے؟

مختصر جواب

نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ کا وہ سرکلر کالعدم قرار دیا جس میں یہ بات لکھی تھی، اور کہا کہ والد کی وفات کی تاریخ بیٹی کا پنشن کا حق ختم نہیں کر سکتی۔

Province of Sindh v. Mst. Sorath Fatima · Supreme Court of Pakistan · PLD 2025 SC 856 · decided 10 July 2025

By the FAI Legal editorial desk · 8 October 2026, updated 9 October 2026 · 6 min read

بہت سے گھرانے آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر والد کی وفات کے بعد بیٹی کی شادی ختم ہو جائے تو والد کی فیملی پنشن کا دروازہ اس پر ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا ہے۔ دسمبر 2022 میں سندھ کے ایک سرکاری محکمے نے یہی بات تحریری طور پر لکھ دی۔ جولائی 2025 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ یہ غلط ہے۔

یہ فیصلہ ان بیٹیوں کے لیے اہم ہے جن کے والد سرکاری ملازم تھے اور جو والد کی وفات کے بعد طلاق یافتہ یا بیوہ ہوئیں یا شوہر سے الگ ہو گئیں، اور ان وکلا اور پنشن کلرکوں کے لیے بھی جو ایسے دعوے دیکھتے ہیں۔

اہم نکات

  • پنشن ملازمت کے بدلے کمایا ہوا قانونی حق ہے، خیرات یا احسان نہیں۔ سرکاری ملازم کی وفات پر یہ حق قانون کے مطابق اس کے خاندان کو منتقل ہوتا ہے۔
  • سندھ کے محکمہ خزانہ کے 5 دسمبر 2022 کے سرکلر نے بیٹی کے دعوے کو اس بات سے جوڑ دیا تھا کہ والد کی وفات کے دن اس کی ازدواجی حیثیت کیا تھی۔ سپریم کورٹ نے اسے شروع سے کالعدم، غیر آئینی اور بے اثر قرار دیا۔
  • کوئی سرکلر ایسی شرط نہیں لگا سکتا جو ایکٹ اور پنشن رولز میں موجود نہ ہو۔
  • عدالت نے یہ بھی کہا کہ بیٹی کو صرف اس کی ازدواجی حیثیت کی بنا پر پنشن سے محروم کرنا امتیازی سلوک ہے، اور اس کے دعوے کا فیصلہ اصل ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ عدالت نے رولز پر نظرِ ثانی کا کہا۔ یہ حصہ اصلاح کی سفارش ہے، کوئی نیا قاعدہ نہیں۔

ایک سطر میں اصول

پنشن رولز کے تحت فیملی پنشن غیر شادی شدہ بیٹی کو بھی مل سکتی ہے اور طلاق یافتہ بیٹی کو بھی۔ رولز یہ نہیں پوچھتے کہ طلاق کب ہوئی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کوئی سرکاری سرکلر یہ سوال نہیں جوڑ سکتا۔

اس کیس میں کیا ہوا

والد حکومتِ سندھ کے محکمہ روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ میں ملازم تھے۔ ان کا انتقال 12 فروری 2002 کو ہوا۔ ان کی پنشن پہلے ان کی بیوہ کے نام منظور ہوئی، جن کا انتقال 6 دسمبر 2012 کو ہوا۔

اس کے بعد غیر شادی شدہ بیٹی کو فیملی پنشن ملتی رہی۔ اس کی شادی ہوئی تو پنشن بند ہو گئی۔ اگست 2022 میں خلع کے ذریعے نکاح ختم ہوا، اور اس نے طلاق یافتہ بیٹی کی حیثیت سے دوبارہ پنشن مانگی۔

حکومتِ سندھ نے انکار کر دیا۔ اس کی بنیاد محکمہ خزانہ کا 5 دسمبر 2022 کا سرکلر تھا، جس کے مطابق بیٹی صرف اسی صورت میں حق دار ہے جب پنشنر کی وفات کے دن وہ پہلے سے طلاق یافتہ یا بیوہ ہو۔ اس کی طلاق والد کی وفات کے بیس سال بعد ہوئی تھی، اس لیے محکمے نے انکار کیا۔

وہ سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ بینچ گئی، جس نے 27 فروری 2025 کو اسے پنشن کا حق دیا۔ اس کے بعد صوبہ سندھ نے سپریم کورٹ سے اپیل کی اجازت مانگی۔

عدالت نے سرکلر کیوں ختم کیا

فیصلہ جسٹس عائشہ اے ملک نے لکھا؛ بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر بھی شامل تھے۔ دلیل تین مرحلوں میں ہے۔

پہلا: پنشن ایک حق ہے۔ عدالت نے اسے گزشتہ ملازمت کے اعتراف میں دیا جانے والا قانونی استحقاق کہا، جو آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت زندگی کے حق کا حصہ ہونے کی وجہ سے محفوظ ہے، اور کہا کہ یہ پنشنر کی وفات پر ختم نہیں ہوتا بلکہ قانونی ورثا کو منتقل ہوتا ہے۔

دوسرا: رولز اس سوال کا جواب پہلے ہی دیتے ہیں۔ ویسٹ پاکستان سول سروسز پنشن رولز 1963 کے رول 4.7(1) اور رول 4.10 کو ساتھ پڑھا جائے تو فیملی پنشن غیر شادی شدہ بیٹی کو، اور رولز میں دی گئی ترتیب کے مطابق طلاق یافتہ بیٹی کو مل سکتی ہے۔ سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 یا رولز میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ بیٹی کی حیثیت وفات کی تاریخ پر طے ہو گی۔

تیسرا: سرکلر طریقۂ کار کی تفصیل تو دے سکتا ہے، قانون نہیں بدل سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محکمہ خزانہ کو ایسی شرط لگانے کا کوئی اختیار نہیں تھا جو ایکٹ اور رولز میں نہیں۔

عدالت کا وسیع تر نکتہ

فیصلہ اس ایک سرکلر سے آگے جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بیٹی کی فیملی پنشن کو مکمل طور پر اس بات پر منحصر کرنا کہ وہ شادی شدہ ہے یا نہیں، اسے کسی کا زیرِ کفالت سمجھنا ہے، پہلے باپ کا اور پھر شوہر کا، اور اس میں ان شادی شدہ خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے جو واقعی مالی مشکل میں ہیں۔

عدالت نے کہا کہ صرف ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر ایسا اخراج امتیازی ہے اور آئین کے آرٹیکل 14، 25 اور 27 کے خلاف ہے، اور زندہ بچ جانے والی بیٹی کے دعوے کو ضرورت کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ عدالت نے سفارش کی کہ رولز پر نظرِ ثانی کر کے ازدواجی حیثیت کی شرط ختم کی جائے۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
والد سندھ حکومت کے ملازم تھے اور 2002 میں فوت ہوئے۔ بیوہ کو 2012 میں اپنی وفات تک پنشن ملی، پھر غیر شادی شدہ بیٹی کو اس کی شادی تک۔ اگست 2022 میں خلع کے بعد بیٹی نے دوبارہ درخواست دی، جو 5 دسمبر 2022 کے سرکلر کے تحت مسترد ہو گئی۔
سوال
کیا کسی فوت شدہ سرکاری ملازم کی غیر شادی شدہ یا طلاق یافتہ بیٹی فیملی پنشن کا دعویٰ کر سکتی ہے، جب اس کی طلاق پنشنر کی وفات کے بعد ہوئی ہو؟
عدالت کا فیصلہ
سرکلر شروع سے کالعدم، غیر آئینی اور بے اثر ہے۔ پنشنر کی وفات کے وقت کو بنیاد بنا کر زندہ بیٹی کا پنشن کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست خارج ہوئی اور اپیل کی اجازت نہیں دی گئی؛ ہائی کورٹ کا پنشن دینے کا حکم برقرار ہے۔
وجہ
پنشن ایک قانونی استحقاق ہے جس کی بنیاد آئین میں ہے (آرٹیکل 9 اور 14)۔ ایکٹ اور رولز وفات کی تاریخ پر ازدواجی حیثیت کی کوئی شرط نہیں لگاتے، اور انتظامی سرکلر انہیں نہ بدل سکتے ہیں نہ محدود کر سکتے ہیں۔
حدود
یہ کیس سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور 1963 کے پنشن رولز کے تحت سندھ کے ایک سرکاری ملازم کا تھا، اور اپیل کی اجازت کی درخواست پر فیصلہ ہوا۔ ضرورت پر مبنی معیار اپنانے کی بات اصلاح کی سفارش ہے؛ عدالت نے رولز دوبارہ نہیں لکھے۔ دوسرے صوبوں اور وفاقی رولز کو ان کے اپنے الفاظ کے مطابق دیکھنا ہو گا۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“It is not a charity, bounty, or ex gratia payment, but a legal entitlement that is granted in recognition of past service.”

ترجمہ: یہ خیرات، بخشش یا رعایتی ادائیگی نہیں، بلکہ گزشتہ ملازمت کے اعتراف میں دیا جانے والا قانونی استحقاق ہے۔

PLD 2025 SC 856, para 4

“The timing of the pensioner's death cannot lawfully be used to extinguish a surviving daughter's right to claim pension.”

ترجمہ: پنشنر کی وفات کا وقت قانونی طور پر زندہ بیٹی کے پنشن کے دعوے کا حق ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

PLD 2025 SC 856, para 12

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Sindh Civil Servants Act, 1973 s.20

عدالت کے خلاصے کے مطابق: سرکاری ملازم کی وفات پر، ریٹائرمنٹ سے پہلے ہو یا بعد، اس کا خاندان رولز میں مقرر پنشن یا گریجویٹی کا حق دار ہے۔

West Pakistan Civil Services Pension Rules, 1963 Rules 4.7(1) and 4.10

رول 4.7(1) خاندان کی تعریف میں طلاق یافتہ بیٹی کو شامل کرتا ہے۔ رول 4.10 کے تحت فیملی پنشن بیوہ یا رنڈوے کو، پھر 21 سال سے کم عمر بیٹوں اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کو، اور دی گئی ترتیب کے مطابق طلاق یافتہ بیٹی کو ملتی ہے۔ رول 4.10(3) کے تحت غیر شادی شدہ خاتون رکن کی پنشن شادی پر بند ہو جاتی ہے۔

Constitution of Pakistan Articles 9, 14, 25 and 27

عدالت نے زندگی اور وقار کے حق، برابری اور عدم امتیاز کے لیے ان آرٹیکلز پر انحصار کیا۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیٹی کو ہر صورت میں فیملی پنشن ملے گی۔ پنشن اب بھی رولز میں دی گئی ترتیب اور شرائط کے مطابق ملتی ہے، مثلاً بیوہ کا حق پہلے ہے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب شادی شدہ بیٹی دعویٰ کر سکتی ہے۔ رول 4.10(3) کے تحت شادی پر پنشن اب بھی بند ہو جاتی ہے؛ عدالت نے صرف اس پر نظرِ ثانی کی سفارش کی ہے۔
  • یہ ہر صوبے کا معاملہ طے نہیں کرتا۔ کیس سندھ کے رولز اور سندھ کے سرکلر کا تھا۔ سرکلر کے بارے میں دلیل وسیع طور پر لاگو ہوتی ہے، لیکن اپنی ملازمت پر لاگو رولز ضرور دیکھیں۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

میرے والد کئی سال پہلے فوت ہوئے اور میری طلاق بعد میں ہوئی۔ کیا میں ان کی فیملی پنشن کے لیے درخواست دے سکتی ہوں؟

سندھ میں ایسے دعوے رد کرنے والا سرکلر PLD 2025 SC 856 میں کالعدم ہو چکا ہے، اس لیے صرف آپ کی طلاق کی تاریخ انکار کی جائز وجہ نہیں۔ آپ کے دعوے کو پھر بھی پنشن رولز پر پورا اترنا ہو گا، اس لیے طلاق یا خلع کے کاغذات کے ساتھ پنشن آفس میں درخواست دیں، اور انکار ہو تو وکیل سے بات کریں۔

کیا یہ بیوہ بیٹیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے؟

سرکلر بیوہ بیٹیوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتا تھا، اور عدالت نے کہا کہ یہی دلیل اس بیٹی پر بھی لاگو ہوتی ہے جو پنشنر کی وفات کے بعد بیوہ ہوئی۔

کیا یہ فیصلہ دوسری عدالتوں پر لازم ہے؟

آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت قانون کے کسی سوال پر سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ پاکستان کی تمام دوسری عدالتوں پر لازم ہے۔

ماخذ

  • Province of Sindh v. Mst. Sorath Fatima, PLD 2025 SC 856 (Supreme Court of Pakistan, 10 July 2025), paras 2, 4, 7, 8, 12
    Circular of 5 December 2022 void; timing of the pensioner's death cannot extinguish a daughter's claim. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)
  • Province of Punjab v. Kanwal Rashid, 2021 SCMR 730 (Supreme Court of Pakistan)
    Cited in para 8: denial of family pension needs a legal basis, not a departmental policy or circular. cited in the judgment, not separately reviewed Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)
  • West Pakistan Civil Services Pension Rules, 1963, Rules 4.7(1), 4.10 as described in the judgment; rule text not reproduced here

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، باپ کی وفات کے بعد طلاق ہو جائے تو بیٹی کو باپ کی پنشن نہیں ملتی؟ غلط۔

سپریم کورٹ: پنشن خیرات نہیں، قانونی حق ہے۔ پنشنر کی وفات کی تاریخ بیٹی کا یہ حق ختم نہیں کر سکتی۔

سندھ کے ایک سرکاری ملازم کا 2002 میں انتقال ہوا۔ پنشن پہلے بیوہ کو ملی، پھر غیر شادی شدہ بیٹی کو۔ شادی ہوئی تو بند ہو گئی۔

اگست 2022 میں خلع ہوا۔ حکومتِ سندھ نے 5 دسمبر 2022 کے سرکلر کی بنیاد پر کہا: طلاق والد کی وفات کے بعد ہوئی، پنشن نہیں ملے گی۔

سندھ ہائی کورٹ نے پنشن دلوائی۔ سپریم کورٹ (جولائی 2025) نے حکومت کی درخواست خارج کر دی اور کہا: یہ سرکلر "شروع سے کالعدم، غیر آئینی" ہے (PLD 2025 SC 856)۔

عدالت نے یہ بھی کہا: بیٹی کا حق صرف اس کی ازدواجی حیثیت سے جوڑنا امتیازی ہے؛ حق ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ یہ صفحہ پڑھنے سے وکیل اور مؤکل کا تعلق قائم نہیں ہوتا۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید