FAI Media

Property and inheritance · Supreme Court of Pakistan

بیعانہ دے دیا اور اقرار نامہ لکھ لیا۔ کیا اب گھر آپ کا ہے؟

مختصر جواب

نہیں۔ پاکستان میں گھر کی ملکیت رجسٹرڈ بیع نامے سے منتقل ہوتی ہے، بیع کے اقرار نامے سے نہیں۔ اقرار نامے سے آپ صرف عدالت سے سودا پورا کروانے کا کہہ سکتے ہیں، اور 2024 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ خریدار کا اصل فرض وقت پر ادائیگی ہے۔

Abdil Ali v. Additional District Judge, Gojra and others · Supreme Court of Pakistan · 2024 SCMR 1862 · decided 2 September 2024

By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read

پاکستان بھر میں گھر کا سودا اکثر بیعانے اور اسٹامپ پیپر پر اقرار نامے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد بہت سے خریدار سمجھتے ہیں کہ گھر اب ان کا ہو گیا۔

یہ بات ہر اس شخص کے لیے اہم ہے جو گھر یا پلاٹ خرید یا بیچ رہا ہے، یا بیعانہ دے کر منتقلی کا انتظار کر رہا ہے۔

اہم نکات

  • ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کی دفعہ 54: سو روپے یا اس سے زیادہ مالیت کی غیر منقولہ جائیداد کی بیع صرف رجسٹرڈ دستاویز سے ہو سکتی ہے۔
  • اسی دفعہ کے مطابق بیع کا معاہدہ خود جائیداد میں کوئی حق یا بار پیدا نہیں کرتا۔
  • سپریم کورٹ، 2023 SCMR 815: اقرار نامہ ملکیت کی دستاویز نہیں؛ اس سے صرف عدالت میں سودا پورا کروانے کا حق ملتا ہے۔
  • سپریم کورٹ، 2024 SCMR 1862: خریدار کی واحد ذمہ داری وقت پر ادائیگی ہے، اور عدالتیں معاہدے کے خلاف باقی رقم کی مدت نہیں بڑھا سکتیں۔

ایک سطر میں اصول

بیعانہ اور اقرار نامہ سودا شروع کرتے ہیں، مکمل نہیں کرتے۔ آپ مالک تب بنتے ہیں جب آپ کے نام رجسٹرڈ بیع نامہ ہو۔ تب تک اگر بیچنے والا سودا پورا نہ کرے تو آپ کا راستہ تکمیلِ معاہدہ کا دعویٰ ہے، اور آپ کو دکھانا ہوگا کہ آپ ادائیگی کے لیے تیار تھے۔

اس کیس میں کیا ہوا

17 اپریل 2006 کو ایک شخص نے ایک لاکھ ستر ہزار روپے میں ایک گھر خریدنے کا اقرار کیا۔ اس نے اسی ہزار روپے دے دیے۔ باقی نوے ہزار 20 جولائی 2007 تک دینے تھے، اور 18 اکتوبر 2007 کے دوسرے اقرار نامے سے یہ تاریخ 20 فروری 2008 تک بڑھا دی گئی۔

گھر اس کے نام کبھی منتقل نہ ہوا۔ اس نے تکمیلِ معاہدہ کا دعویٰ کیا، اور دعویٰ خارج ہو گیا۔

اس نے اپیل کی، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے 21 اکتوبر 2014 کو اپیل منظور کر لی، ایک شرط پر: پندرہ دن میں باقی نوے ہزار روپے عدالت میں جمع کرواؤ، ورنہ دعویٰ خارج سمجھا جائے گا۔

پندرہ دن

اس نے پندرہ دن میں رقم جمع نہیں کروائی، اس لیے دعویٰ خارج ہو گیا۔

پھر بھی اس نے اجرا کی درخواست دی، یعنی ایک ایسی ڈگری کے اجرا کی جسے سپریم کورٹ نے بعد میں غیر موجود ڈگری کہا۔ دوسرے فریق نے اعتراض کیا؛ نگرانی کی عدالت نے اعتراضات مان لیے، اور لاہور ہائی کورٹ نے وہ حکم برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان کے بینچ نے 2 ستمبر 2024 کو اس کی درخواست سنی اور اپیل کی اجازت نہیں دی۔

عدالت نے کہا کہ اپیل کی عدالت نے اسے غیر معمولی ریلیف دیا تھا، پھر بھی اس نے باقی رقم ادا نہیں کی (پیرا 3)۔

عدالت نے مزید کہا کہ عدالتیں قانوناً معاہدے کی شرائط کے خلاف باقی رقم جمع کروانے کی مدت نہیں بڑھا سکتیں، کیونکہ یہ فریقین کا معاہدہ دوبارہ لکھنے کے برابر ہے۔ خریدار کی واحد ذمہ داری وقت پر ادائیگی ہے۔ اگر بیچنے والا رقم نہ لے تو خریدار کو دکھانا ہوگا کہ وہ ادائیگی کے لیے تیار اور قابل تھا، اس نے رقم پیش کی، اور پھر پے آرڈر بنوایا یا رقم عدالت میں جمع کروائی (پیرا 4)۔

اقرار نامے کے اٹھارہ سال بعد بھی گھر اس کا نہیں تھا۔ حکم میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے دیے ہوئے اسی ہزار روپے کا کیا ہوا۔

کیس ایک نظر میں

حقائق
17 اپریل 2006 کو ایک لاکھ ستر ہزار روپے میں گھر کا اقرار نامہ؛ اسی ہزار ادا؛ باقی نوے ہزار 20 جولائی 2007 تک، پھر 20 فروری 2008 تک۔ تکمیلِ معاہدہ کا دعویٰ خارج؛ 21 اکتوبر 2014 کو اپیل اس شرط پر منظور کہ پندرہ دن میں نوے ہزار جمع کروائے۔ جمع نہیں کروائے؛ دعویٰ خارج۔ اجرا کی درخواست نگرانی کی عدالت اور ہائی کورٹ میں ناکام۔
سوال
کیا خریدار ایسی ڈگری کا اجرا کروا سکتا ہے جو وقت پر رقم جمع نہ کروانے کی وجہ سے وجود میں ہی نہیں آئی؟
عدالت کا فیصلہ
اپیل کی اجازت نہیں ملی اور درخواست خارج۔ دونوں عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی غیر قانونی بات نہیں تھی۔
وجہ
خریدار کی واحد ذمہ داری وقت پر ادائیگی ہے۔ عدالتیں معاہدے کے خلاف باقی رقم کی مدت نہیں بڑھا سکتیں؛ جس خریدار کی رقم نہ لی جائے اسے تیاری، پیشکش، اور پے آرڈر یا عدالت میں رقم جمع کروانا دکھانا ہوگا۔
حدود
یہ اپیل کی اجازت نہ دینے کا مختصر حکم تھا۔ عدالت نے ایک ممکنہ استثنا بتایا: جب باقی رقم کل قیمت کا چھوٹا سا حصہ ہو۔ بیعانہ واپس ملنے کا سوال یہاں طے نہیں ہوا۔

عدالت کے اپنے الفاظ

“The only obligation of a buyer of a property is to make timely payment.”

ترجمہ: جائیداد کے خریدار کی واحد ذمہ داری وقت پر ادائیگی ہے۔

2024 SCMR 1862, para 4

“On the basis of a sale agreement, no legal character or right can be established to prove the title of the property unless the title is transferred pursuant to such agreement to sell.”

ترجمہ: بیع کے اقرار نامے کی بنیاد پر جائیداد کی ملکیت ثابت کرنے کا کوئی قانونی حق قائم نہیں ہوتا، جب تک اس اقرار نامے کے تحت ملکیت منتقل نہ ہو۔

2023 SCMR 815, para 6

جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

Transfer of Property Act, 1882 s.54

سو روپے یا اس سے زیادہ مالیت کی غیر منقولہ جائیداد کی بیع صرف رجسٹرڈ دستاویز سے ہو سکتی ہے۔ بیع کا معاہدہ خود جائیداد میں کوئی حق یا بار پیدا نہیں کرتا۔

Specific Relief Act, 1877 s.12

معاہدے کی تکمیل کا دعویٰ؛ جب بیچنے والا سودا پورا نہ کرے تو خریدار یہی دعویٰ کرتا ہے۔

اس کا کیا مطلب نہیں

  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقرار نامہ بے کار ہے۔ اگر آپ ادائیگی کے لیے تیار ہوں اور بیچنے والا سودا پورا نہ کرے تو اس سے آپ کو تکمیلِ معاہدہ کا دعویٰ کرنے کا حق ملتا ہے۔
  • اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیچنے والا رقم نہ لے تو خریدار ہمیشہ ہار جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا خریدار اپنی تیاری، پیشکش، اور پے آرڈر یا عدالت میں رقم جمع کروا کر خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔
  • اس فیصلے میں یہ طے نہیں ہوا کہ دیے گئے بیعانے کا کیا ہوگا۔ حکم میں اسی ہزار روپے کا کوئی ذکر نہیں۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کیا بیع کا اقرار نامہ مجھے گھر کا مالک بنا دیتا ہے؟

نہیں۔ ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ کی دفعہ 54 کے تحت سو روپے یا اس سے زیادہ کی غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت صرف رجسٹرڈ دستاویز سے منتقل ہوتی ہے۔ اقرار نامے سے آپ کو تکمیلِ معاہدہ کا دعویٰ کرنے کا حق ملتا ہے۔

اگر بیچنے والا باقی رقم نہ لے تو میں کیا کروں؟

رقم پیش کرنے کا ثبوت رکھیں، پے آرڈر یا ڈیمانڈ ڈرافٹ بنوائیں، اور رقم عدالت میں جمع کروانے اور تکمیلِ معاہدہ کے دعوے کے بارے میں وکیل سے بات کریں۔ سپریم کورٹ نے 2024 SCMR 1862 میں کہا کہ خریدار کو یہی دکھانا ہوتا ہے۔

کیا عدالت مجھے باقی رقم دینے کے لیے مزید وقت دے سکتی ہے؟

سپریم کورٹ نے 2024 SCMR 1862 میں کہا کہ عدالتیں قانوناً معاہدے کی شرائط کے خلاف مدت نہیں بڑھا سکتیں۔ اگر عدالت مقررہ وقت میں رقم جمع کروانے کا حکم دے تو اسی وقت میں جمع کروائیں۔

ماخذ

  • Abdil Ali v. Additional District Judge, Gojra and others, 2024 SCMR 1862 (Supreme Court of Pakistan, 2 September 2024), paras 1, 2, 3, 4
    Buyer's only obligation is timely payment; courts cannot extend the time for the balance against the agreement; leave refused where the balance was not deposited. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)
  • Rao Abdul Rehman (deceased) through L.Rs. v. Muhammad Afzal (deceased) through L.Rs., 2023 SCMR 815 (Supreme Court of Pakistan, 16 January 2023), paras 6
    An agreement to sell is not a title deed; the only right it gives is to seek specific performance. verified against full text Supreme Court of Pakistan (judgment PDF)
  • Transfer of Property Act, 1882, s.54 text checked in FAI Statute Search Pakistan Code

Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.

ریل میں کیا کہا گیا

ریل کے الفاظ پڑھیں

سنا ہے، بیعانہ دے دیا اور اقرار نامہ لکھ لیا، تو گھر آپ کا ہو گیا؟ غلط۔

قانون: سو روپے یا اس سے زیادہ کی غیر منقولہ جائیداد کی بیع صرف رجسٹرڈ دستاویز سے ہوتی ہے۔ بیع کا اقرار نامہ خود جائیداد میں کوئی حق پیدا نہیں کرتا (ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882، دفعہ 54)۔ اقرار نامے سے آپ عدالت میں سودا پورا کروانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں، بس (سپریم کورٹ، 2023 SCMR 815)۔

کیس: 2006 میں ایک شخص نے ایک لاکھ ستر ہزار روپے میں گھر خریدنے کا اقرار نامہ کیا۔ اسی ہزار دے دیے، نوے ہزار باقی تھے۔ گھر اس کے نام نہ ہوا۔

اس نے مقدمہ کیا اور ہار گیا۔ اپیل میں جیت گیا، اس شرط پر کہ پندرہ دن میں نوے ہزار عدالت میں جمع کروائے۔ اس نے جمع نہیں کروائے، اور مقدمہ خارج ہو گیا۔

سپریم کورٹ (ستمبر 2024): "خریدار کی واحد ذمہ داری وقت پر ادائیگی ہے"، اور عدالتیں معاہدے کے خلاف ادائیگی کی مدت نہیں بڑھا سکتیں۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی (عبدل علی بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گوجرہ، 2024 SCMR 1862)۔

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.

FAI Media پر مزید