Family · Supreme Court of Pakistan
شوہر طلاق نہ دے تو کیا بیوی ساری زندگی بندھی رہتی ہے؟
مختصر جواب
نہیں۔ 1966 سے سپریم کورٹ کہتی آئی ہے کہ عدالت خلع کے ذریعے نکاح ختم کر سکتی ہے، شوہر مانے یا نہ مانے، اگر اسے اطمینان ہو کہ میاں بیوی اب اللہ کی حدود میں رہتے ہوئے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ بیوی نکاح کے عوض ملنے والے فائدے واپس کرتی ہے، جیسا عدالت طے کرے۔
Mst. Khurshid Bibi v. Baboo Muhammad Amin · Supreme Court of Pakistan · PLD 1967 SC 97 · decided 12 October 1966
By the FAI Legal editorial desk · 10 October 2026 · 5 min read
بہت سی خواتین کو بتایا جاتا ہے کہ نکاح صرف تب ختم ہوتا ہے جب شوہر طلاق دے، اس لیے اگر وہ انکار کرے تو بیوی کو ہر حال میں نکاح میں رہنا ہوگا۔
یہ بات ہر اس بیوی کے لیے اہم ہے جو ایسا نکاح ختم کرنا چاہتی ہے جسے شوہر ختم نہیں کرتا، اور ان خاندانوں کے لیے بھی جو جاننا چاہتے ہیں کہ عدالت کیا کر سکتی ہے۔
اہم نکات
- خلع بیوی کا حق ہے کہ وہ نکاح ختم کروائے، اور عدالت یہ شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی دے سکتی ہے۔
- بنیادی فیصلہ خورشید بی بی بنام بابو محمد امین، PLD 1967 SC 97 ہے، جو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے 12 اکتوبر 1966 کو دیا۔
- شرط: عدالت کو اطمینان ہو کہ میاں بیوی کے لیے ہم آہنگی سے اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ساتھ رہنا اب ممکن نہیں۔
- عام اصول یہ ہے کہ بیوی نکاح کے عوض ملنے والے فائدے واپس کرتی ہے، اور رقم عدالت طے کرتی ہے۔ اس کیس میں یہی طے کرنے کے لیے معاملہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجا گیا۔
ایک سطر میں اصول
عدالت کے ذریعے نکاح ختم کرنے کے لیے بیوی کو شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ اگر عدالت مطمئن ہو کہ دونوں اب قانون کے مطابق ساتھ نہیں رہ سکتے تو وہ خلع کے ذریعے نکاح ختم کر سکتی ہے، عموماً اس شرط پر کہ بیوی نکاح کے عوض ملی چیزیں واپس کرے۔
اس کیس میں کیا ہوا
بیوی تقریباً تین سال شوہر کے ساتھ رہیں۔ پھر شوہر نے دوسری شادی کر لی، تعلقات بگڑ گئے، اور وہ اس کا گھر چھوڑ آئیں۔
نکاح ختم کرنے کا ان کا پہلا دعویٰ خارج ہوا اور شوہر کو اعادۂ حقوقِ زوجیت کی ڈگری مل گئی۔ انہوں نے دوسرا دعویٰ کیا جس میں طلاق کی بنیاد پر، یا متبادل کے طور پر خلع کی بنیاد پر، نکاح ختم کرنے کی درخواست کی۔
ٹرائل کورٹ نے پایا کہ فریقین ایسی جگہ پہنچ چکے ہیں جہاں خوشگوار تعلق کی کوئی امید نہیں، اور دعویٰ ڈگری کر دیا۔
"ضد"
ڈسٹرکٹ جج نے یہ ڈگری ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ بیوی صاف ہاتھوں کے ساتھ عدالت نہیں آئیں، اور شوہر کی اس بات میں وزن ہے کہ یہ دوسری شادی کی وجہ سے ان کی ضد ہے۔
مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ایک جج نے ان کی دوسری اپیل ابتدا ہی میں خارج کر دی، یہ کہتے ہوئے کہ شوہر کی دوسری شادی کی وجہ سے اس کے ساتھ رہنے سے انکار خلع کی بنیاد نہیں۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا
پانچ ججوں، جسٹس ایس اے رحمان، جسٹس فضلِ اکبر، جسٹس حمود الرحمان، جسٹس محمد یعقوب علی اور جسٹس ایس اے محمود، کے بینچ نے 12 اکتوبر 1966 کو ان کی اپیل کا فیصلہ کیا۔
جسٹس ایس اے رحمان نے مرکزی فیصلے میں کہا کہ صاحبِ اختیار، بشمول قاضی، خلع کے ذریعے علیحدگی کا حکم دے سکتا ہے چاہے شوہر اس پر راضی نہ ہو، بشرطیکہ میاں بیوی کے لیے ہم آہنگی سے اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ساتھ رہنا اب ممکن نہ ہو۔
حقائق کے مطابق فریقین کے پیار اور خیر سگالی سے ساتھ رہنے کا کوئی امکان باقی نہیں تھا: مقدمہ بازی ہو چکی تھی، بیوی کو وارنٹ کے ذریعے شوہر کے گھر سے لایا گیا تھا، اور دوسری شادی کے بعد سے وہ مسلسل اس کے ساتھ رہنے سے انکار کرتی رہیں۔
اپیل منظور ہوئی، اور مقدمہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجا گیا تاکہ فریقین ثبوت دیں کہ شوہر نے نکاح کے عوض بیوی کو کیا فائدے دیے تھے، جو خلع کی شرط کے طور پر بیوی واپس کرے گی۔ فریقین نے اپنا اپنا خرچہ خود اٹھایا۔
آج بھی یہی قانون
محمد رفیق بنام کنیز فاطمہ، 2000 SCMR 1563 میں سپریم کورٹ نے دوبارہ کہا کہ خلع کے ذریعے علیحدگی کا حکم شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی دیا جا سکتا ہے۔
کیس ایک نظر میں
- حقائق
- بیوی تقریباً تین سال شوہر کے ساتھ رہیں؛ شوہر نے دوسری شادی کی اور وہ گھر چھوڑ آئیں۔ ان کا پہلا دعویٰ ناکام ہوا اور شوہر کو اعادۂ حقوقِ زوجیت کی ڈگری ملی۔ دوسرے دعوے میں طلاق یا متبادل کے طور پر خلع مانگا۔ ٹرائل کورٹ نے ڈگری دی؛ ڈسٹرکٹ جج نے اسے ضد کہہ کر ختم کیا؛ ہائی کورٹ نے دوسری اپیل ابتدا ہی میں خارج کی۔
- سوال
- جب شوہر رہا کرنے پر راضی نہ ہو، تو کیا بیوی خلع کی حق دار ہے، اگر وہ عدالت کو مطمئن کر دے کہ دونوں ازدواجی ذمہ داریوں کے مطابق ساتھ نہیں رہ سکتے؟
- عدالت کا فیصلہ
- ہاں۔ عدالت شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی خلع کے ذریعے علیحدگی کا حکم دے سکتی ہے، جب ہم آہنگی سے ساتھ رہنا ممکن نہ رہے۔ اپیل منظور اور مقدمہ واپس بھیجا گیا تاکہ طے ہو کہ بیوی کیا واپس کرے۔
- وجہ
- قرآن حقوق کے معاملے میں میاں بیوی کو برابر رکھتا ہے؛ جیسے شوہر طلاق دے سکتا ہے، ویسے ہی بیوی خلع کے ذریعے علیحدگی مانگ سکتی ہے، اللہ کی حدود والی قرآنی شرط کے ساتھ۔ معاوضہ عدالت طے کرتی ہے۔
- حدود
- خلع خود بخود نہیں ملتا: عدالت کو اطمینان ہونا چاہیے کہ نکاح اللہ کی حدود میں جاری نہیں رہ سکتا، اور بیوی عموماً نکاح کے عوض ملی چیزیں واپس کرتی ہے۔ رقم ہر کیس میں الگ طے ہوتی ہے۔
عدالت کے اپنے الفاظ
“The lack of authority in the Hakama cannot affect the authority in the Qazi (and the Court,) to dissolve marriage by a khula which is conferred by a Qur'anic verse.”
ترجمہ: ثالثوں (حکم) کے پاس اختیار نہ ہونے سے قاضی (اور عدالت) کے اس اختیار پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ وہ خلع کے ذریعے نکاح ختم کرے، جو اختیار قرآنی آیت سے ملا ہے۔
PLD 1967 SC 97, para 42, S. A. Mahmood, J
“In the present case, on the facts, it has been found that there is no possibility left, of the parties residing together in amity and goodwill.”
ترجمہ: موجودہ کیس میں حقائق کی بنیاد پر یہ پایا گیا ہے کہ فریقین کے پیار اور خیر سگالی سے ساتھ رہنے کا کوئی امکان باقی نہیں۔
PLD 1967 SC 97, para S. A. Rahman, J
جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے
اس کا کیا مطلب نہیں
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت صرف درخواست پر نکاح ختم کر دیتی ہے۔ عدالت کو اطمینان ہونا چاہیے کہ میاں بیوی اللہ کی حدود میں ساتھ نہیں رہ سکتے۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیوی سب کچھ اپنے پاس رکھتی ہے۔ عام اصول یہ ہے کہ وہ نکاح کے عوض ملے فائدے واپس کرتی ہے، اور رقم عدالت طے کرتی ہے۔
- اس فیصلے سے کسی کیس میں واپس کی جانے والی صحیح رقم طے نہیں ہوتی۔ آج بیوی کو کتنا چھوڑنا ہوگا، یہ حقائق اور اس کے علاقے میں لاگو قانون پر منحصر ہے، اس لیے وکیل سے پوچھیں۔
لوگ کیا پوچھتے ہیں
اگر شوہر انکار کرے تو کیا مجھے خلع مل سکتا ہے؟
جی ہاں۔ PLD 1967 SC 97 سے سپریم کورٹ کہتی آئی ہے کہ عدالت شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی خلع کے ذریعے علیحدگی کا حکم دے سکتی ہے، اگر اسے اطمینان ہو کہ دونوں اب ہم آہنگی سے اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ساتھ نہیں رہ سکتے۔
کیا مجھے حق مہر واپس کرنا ہوگا؟
عام اصول یہ ہے کہ خلع مانگنے والی بیوی نکاح کے عوض ملنے والے فائدے واپس کرتی ہے، اور رقم عدالت طے کرتی ہے۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے یہی طے کرنے کے لیے مقدمہ واپس بھیجا۔ آپ پر کیا لاگو ہوتا ہے، اس کے لیے وکیل سے بات کریں۔
کیا دوسری شادی کرنے والے شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار صرف ضد ہے؟
اس کیس میں ڈسٹرکٹ جج نے اسے ضد کہا، مگر سپریم کورٹ نے پوری صورتحال دیکھی، مقدمہ بازی، وارنٹ، اور دوسری شادی کے بعد سے مسلسل انکار، اور پایا کہ فریقین کے پیار سے ساتھ رہنے کا کوئی امکان باقی نہیں۔
ماخذ
- Mst. Khurshid Bibi v. Baboo Muhammad Amin, PLD 1967 SC 97 (Supreme Court of Pakistan, 12 October 1966)
A court can order separation by khula even if the husband is not agreeable, where the spouses cannot live together in harmony; appeal accepted and remanded to fix the benefits to be restored. verified against full text - Muhammad Rafiq v. Kaneez Fatima, 2000 SCMR 1563 (Supreme Court of Pakistan)
Separation by khula can be ordered even if the husband is not agreeable, following PLD 1967 SC 97. checked for the reel; not re-read for this article
Every quote and section above is traced to the full judgment or statute text by an automatic check that runs on every update.
ریل میں کیا کہا گیا
ریل کے الفاظ پڑھیں
سنا ہے، شوہر طلاق نہ دے تو بیوی ساری زندگی بندھی رہتی ہے؟ غلط۔
قانون: عدالت خلع کے ذریعے نکاح ختم کر سکتی ہے، شوہر مانے یا نہ مانے (سپریم کورٹ، 2000 SCMR 1563)۔
کیس: خورشید بی بی تقریباً تین سال شوہر کے ساتھ رہیں۔ شوہر نے دوسری شادی کر لی، اور وہ گھر چھوڑ آئیں۔ انہوں نے خلع مانگا۔ اپیل کی عدالت نے اسے "ضد" کہا، اور ہائی کورٹ نے ان کی اپیل خارج کر دی۔
سپریم کورٹ (اکتوبر 1966): اگر عدالت مطمئن ہو کہ ورنہ عورت کو نفرت والے رشتے میں زبردستی رکھا جائے گا، تو خلع اس کا حق ہے۔ اپیل منظور ہوئی، اور مقدمہ واپس بھیجا گیا تاکہ طے ہو کہ انہیں شوہر کو کیا لوٹانا ہے (خورشید بی بی بنام محمد امین، PLD 1967 SC 97)۔
یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review. How we check.





