# اس نے دس لاکھ انچاس ہزار روپے کا فیصلہ جیتا۔ پھر سپریم کورٹ نے پورا دعویٰ خارج کر دیا۔

> پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت کنزیومر کورٹ جانے سے پہلے تحریری نوٹس بھیجنا ضروری ہے۔ 2023 میں سپریم کورٹ نے ایک گاڑی کے خریدار کا دعویٰ خارج کر دیا: اس کے نوٹسوں اور دعوے میں کسی خاص خرابی کا ذکر نہیں تھا، اور اس نے دیر کی، کیونکہ تیس دن خرابی کا پتا چلنے سے شروع ہوتے ہیں۔

- Topic: Consumer rights
- Court: Supreme Court of Pakistan
- Citation: PLD 2023 SC 482
- Watch: https://failegal.site/media/ur/notice (video https://failegal.site/media/notice/reel-ur.mp4, 0:48)
- Published by FAI Legal on 2026-10-10

جب نئی گاڑی، فریج یا واشنگ مشین خراب نکلے تو پہلا قدم عموماً لیگل نوٹس ہوتا ہے۔ بہت سے خریدار سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی نوٹس کافی ہے، اور وقت کی کوئی جلدی نہیں۔

یہ بات پنجاب کے ہر اس صارف کے لیے اہم ہے جس کی کوئی چیز یا سروس خراب نکلی، اور ان وکیلوں اور کاروباروں کے لیے بھی جو یہ نوٹس لکھتے اور ان کا جواب دیتے ہیں۔

## اہم نکات

- پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005 کی دفعہ 28(1): نقصان اٹھانے والا صارف تحریری نوٹس کے ذریعے بنانے والے یا سروس دینے والے سے خرابی دور کرنے یا ہرجانہ دینے کا مطالبہ کرے گا۔ دفعہ 28(2) کے تحت انہیں پندرہ دن میں جواب دینا ہے۔
- دفعہ 28(3): جب تک یہ نوٹس دیا اور پہنچایا نہ گیا ہو، کوئی دعویٰ نہیں سنا جائے گا۔ دفعہ 28(4): دعویٰ وجہِ دعویٰ پیدا ہونے کے تیس دن کے اندر دائر کرنا ہے۔
- سپریم کورٹ، PLD 2023 SC 482: تیس دن تب شروع ہوتے ہیں جب صارف کو خرابی کا پتا چلے، اور نوٹس اور اس کے پندرہ دن انہی کے اندر آنے چاہییں۔
- اسی فیصلے میں: خریدار کے نوٹسوں اور دعوے میں کسی خاص خرابی کا ذکر نہیں تھا، اور جو بات دعوے میں نہ ہو اس پر شہادت نہیں دی جا سکتی۔

## ایک سطر میں اصول

جس دن خرابی کا پتا چلے، گھڑی چل پڑتی ہے: کنزیومر کورٹ پہنچنے کے لیے تیس دن۔ انہی دنوں میں بنانے والی کمپنی اور بیچنے والے کو تحریری نوٹس بھیجیں جس میں صاف لکھا ہو کہ کیا خراب ہے، اور انہیں جواب کے لیے پندرہ دن دیں۔ دیر ہو جائے تو معقول وجہ بتا کر عدالت سے مزید وقت مانگیں۔

## اس کیس میں کیا ہوا

ایک خریدار نے ایک کار ڈیلر کے ذریعے دس لاکھ انچاس ہزار روپے میں سوزوکی سوئفٹ (ماڈل 2010) خریدی۔ گاڑی 15 مئی 2010 کو ملی۔ اس نے 10 اگست 2010 کو بنانے والی کمپنی اور ڈیلر کو لیگل نوٹس بھیجے اور 22 ستمبر 2010 کو ڈسٹرکٹ کنزیومر کورٹ لاہور میں دعویٰ دائر کیا (پیرا 1)۔

19 فروری 2014 کو کنزیومر کورٹ نے دس لاکھ انچاس ہزار روپے کی واپسی اور پچاس ہزار روپے ہرجانہ اور خرچہ تیس دن میں دینے کا حکم دیا، اور اس کے بعد ایک ہزار روپے روزانہ۔ لاہور ہائی کورٹ نے 20 فروری 2017 کو کمپنی کی اپیل خارج کر دی (پیرا 1)۔

جن خرابیوں پر اس نے انحصار کیا، یعنی ٹھیک سے نہ لگا ہوا ہیچ باکس، دوبارہ رنگا ہوا اسٹیریو اور گاڑی کی الائنمنٹ، وہ پہلی بار اس کے شہادت کے حلف نامے میں سامنے آئیں (پیرا 2)۔

## سپریم کورٹ نے کیا کہا

جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی کے بینچ نے 23 مئی 2023 کو کمپنی کی اپیل منظور کی اور دعویٰ خارج کر دیا۔

دعوے کی تحریر: دعوے میں کسی خاص خرابی کا ذکر نہیں تھا، اور لیگل نوٹسوں میں بھی کسی خاص خرابی کا ذکر نہیں تھا۔ شہادت دعوے کے مطابق ہونی چاہیے، اس لیے حلف نامے والی خرابیاں زیرِ غور نہیں آ سکتی تھیں۔ اس نے جرح میں خود مانا کہ اس نے دعوے میں خرابیاں بیان نہیں کیں (پیرا 4)۔

ثبوت: دفعہ 30(1)(c) کے تحت کوئی ماہر کی شہادت نہ پیش کی گئی نہ طلب کی گئی، حالانکہ کم از کم دو خرابیوں کے لیے ماہر کا معائنہ ضروری تھا (پیرا 5)۔ ڈیلر کے گواہ کے پاس ڈیلر کی طرف سے بولنے کا اختیار نہیں تھا، ڈیلر کمپنی کا ڈیلر نہیں تھا، اور ایک مدعا علیہ کا اعتراف دوسرے پر لازم نہیں (پیرا 6)۔

وقت: عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے متضاد فیصلوں کا تنازعہ طے کیا۔ دفعہ 28(4) کے تیس دن خرابی کا پتا چلنے سے شروع ہوتے ہیں؛ نوٹس اور اس کے پندرہ دن انہی کے اندر ہیں؛ نوٹس سے نئی وجہِ دعویٰ پیدا نہیں ہوتی (پیرا 7 تا 11)۔ اسے ہیچ باکس کی خرابی کا 17 مئی 2010 کو پتا تھا، مگر اس نے تقریباً تین مہینے بعد نوٹس بھیجا اور مزید وقت بھی نہیں مانگا، اس لیے دعویٰ وقت گزرنے کی وجہ سے بھی ناقابلِ سماعت تھا (پیرا 12)۔

## FAI Draft نے اس سے کیا کیا

7 اکتوبر 2026 کو ہم نے FAI Legal کے Draft سے فرضی حقائق اور فرضی ناموں پر دفعہ 28 کا نوٹس بنوایا: ایک واشنگ مشین جو ایک ہفتے میں خراب ہو گئی۔

نوٹس بنانے والی کمپنی اور ڈیلر دونوں کے نام تھا اور پندرہ دن میں جواب مانگا گیا، جیسا کہ دفعہ 28(2) کہتی ہے۔ جہاں خرابی لکھنی تھی، وہاں اس نے نشان زدہ خالی جگہ چھوڑی اور بتایا کہ PLD 2023 SC 482 خرابی کی واضح تفصیل مانگتا ہے، اور اسی فیصلے سے تیس دن کا اصول لکھا۔ اس نے کوئی خرابی خود نہیں گھڑی۔

ہر ڈرافٹ بھیجنے سے پہلے وکیل کی نظر سے ضرور گزاریں۔

## کیس ایک نظر میں

- **حقائق:** دس لاکھ انچاس ہزار روپے کی گاڑی 15 مئی 2010 کو ملی۔ نوٹس 10 اگست 2010 کو؛ دعویٰ 22 ستمبر 2010 کو۔ کنزیومر کورٹ نے 19 فروری 2014 کو رقم کی واپسی اور پچاس ہزار روپے کا حکم دیا؛ لاہور ہائی کورٹ نے 20 فروری 2017 کو برقرار رکھا۔ خاص خرابیاں پہلی بار خریدار کے حلف نامے میں آئیں۔
- **سوال:** کیا دعوے میں نہ لکھی گئی خرابیوں پر انحصار ہو سکتا تھا، کیا خرابیاں ثابت ہوئیں، اور دفعہ 28(4) کے تیس دن کب شروع ہوتے ہیں؟
- **عدالت کا فیصلہ:** اپیل منظور اور دعویٰ خارج۔ خرابیاں دعوے سے باہر تھیں اور ثابت نہیں ہوئیں، اور دعویٰ وقت گزرنے کے بعد دائر ہوا۔
- **وجہ:** شہادت دعوے کے مطابق ہونی چاہیے۔ تکنیکی خرابیوں کے لیے ماہر کی شہادت چاہیے۔ تیس دن خرابی کے علم سے شروع ہوتے ہیں، اور دفعہ 28(1) کا نوٹس اور اس کے پندرہ دن انہی کے اندر ہیں؛ ورنہ دفعہ 28(4) بے معنی ہو جاتی۔
- **حدود:** یہ پنجاب کا قانون ہے۔ دیر سے آنے والا صارف دفعہ 28(4) کی شرائط کی حد میں معقول وجہ دکھا کر کنزیومر کورٹ سے تیس دن کے بعد دعویٰ دائر کرنے کی اجازت مانگ سکتا ہے۔ فیصلہ یہ نہیں کہتا کہ ہر نوٹس تکنیکی ہو، مگر خرابی کا نام ضرور ہونا چاہیے۔

## عدالت کے اپنے الفاظ

> "Even the legal notices sent by respondent No.1 make no mention of any specific defects." (PLD 2023 SC 482, para 4)

> "Therefore, when the consumer obtains knowledge of the defect or fault in the product or the service, the 30-day limitation period stipulated under Section 28(4) of the Act commences." (PLD 2023 SC 482, para 11)

## جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

- **Punjab Consumer Protection Act, 2005, s.28:** بنانے والا یا سروس دینے والا نوٹس ملنے کے پندرہ دن میں جواب دے گا (28(2))۔ کوئی دعویٰ کنزیومر کورٹ نہیں سنے گی جب تک صارف نے دفعہ 28(1) کا نوٹس نہ دیا ہو اور ثبوت نہ دے کہ نوٹس پہنچ گیا مگر جواب نہیں آیا (28(3))۔ دعویٰ وجہِ دعویٰ پیدا ہونے کے تیس دن کے اندر دائر ہوگا، اور شرائط کے تحت معقول وجہ پر بعد میں بھی اجازت مل سکتی ہے (28(4))۔

## اس کا کیا مطلب نہیں

- اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیر سے دائر دعویٰ ہمیشہ ہار جاتا ہے۔ دفعہ 28(4) کی شرائط کنزیومر کورٹ کو معقول وجہ پر، ایک حد کے اندر، تیس دن کے بعد بھی دعویٰ سننے کی اجازت دیتی ہیں۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیلر کی بات کمپنی پر لازم ہے۔ یہاں ڈیلر کمپنی کا ڈیلر نہیں تھا، اور ایک مدعا علیہ کا اعتراف دوسرے پر لازم نہیں۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ FAI Draft وکیل کی جگہ لیتا ہے۔ یہ ان حقائق کے لیے خالی جگہ چھوڑتا ہے جو صرف آپ جانتے ہیں، اور ہر ڈرافٹ بھیجنے سے پہلے جانچنا ضروری ہے۔

## لوگ کیا پوچھتے ہیں

### کنزیومر دعوے کے تیس دن کب شروع ہوتے ہیں؟

سپریم کورٹ کے مطابق PLD 2023 SC 482 میں، جب آپ کو خرابی کا پتا چلے۔ دفعہ 28(1) کا نوٹس اور جواب کے پندرہ دن انہی تیس دنوں کے اندر آنے چاہییں۔

### میرے لیگل نوٹس میں کیا لکھا ہونا چاہیے؟

اس میں بنانے والے یا سروس دینے والے سے خرابی دور کرنے یا ہرجانہ دینے کا مطالبہ ہونا چاہیے (دفعہ 28(1))۔ PLD 2023 SC 482 میں دعویٰ جزوی طور پر اس لیے ناکام ہوا کہ نوٹسوں اور دعوے میں کسی خاص خرابی کا نام نہیں تھا۔ صاف لکھیں کہ کیا خراب ہے۔

### نوٹس کس کو بھیجا جائے؟

دفعہ 28(1) بنانے والے یا سروس دینے والے کا نام لیتی ہے۔ اس کیس میں نوٹس بنانے والی کمپنی اور ڈیلر دونوں کو گئے۔ اپنے حقائق پر کس کا نام ضروری ہے، یہ وکیل سے پوچھیں۔

## ماخذ

- Messrs Pak Suzuki Motors Company Limited v. Faisal Jameel Butt and another, PLD 2023 SC 482, Supreme Court of Pakistan, 23 May 2023, paras 1, 2, 4, 5, 6, 7, 11, 12, 13. Defects not mentioned in the notices or the claim cannot be proved by affidavit; the 30 days under s.28(4) run from knowledge of the defect; claim dismissed. (verified against full text) (official text: https://www.supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/c.a._797_2017.pdf)
- Punjab Consumer Protection Act, 2005, s.28 (text checked in FAI Statute Search) (official text: https://punjabcode.punjab.gov.pk/en/show_article/VGFXY1BhVGw-)

## ریل میں کیا کہا گیا

ایک گاڑی کے خریدار نے کنزیومر کورٹ سے 10 لاکھ 49 ہزار روپے واپسی کا فیصلہ جیتا، ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ پھر سپریم کورٹ نے پورا دعویٰ خارج کر دیا۔

ایک وجہ: لیگل نوٹس اور دعوے، دونوں میں گاڑی کی خرابی کا کوئی خاص ذکر نہیں تھا۔ خرابی پہلی بار گواہی کے حلف نامے میں آئی، جو دعوے سے باہر تھی۔

سپریم کورٹ: دفعہ 28(4) کے تیس دن خرابی کا پتا چلنے سے شروع ہوتے ہیں۔ انہی دنوں میں پہلے دفعہ 28(1) کا تحریری نوٹس، اور کمپنی کو جواب کے لیے 15 دن۔

(PLD 2023 SC 482)

ہم نے ایف اے آئی لیگل ڈرافٹ سے ایک فرضی کیس پر دفعہ 28 کا نوٹس بنوایا: بنانے والی کمپنی اور ڈیلر دونوں کے نام، 15 دن میں جواب۔ اور جہاں خرابی لکھنی تھی، وہاں اس نے خالی جگہ چھوڑی اور بتایا کہ سپریم کورٹ یہ کیوں مانگتی ہے۔ آپ کے حقائق وہ خود نہیں گھڑتا۔

---

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review.

English: https://failegal.site/media/notice · Urdu: https://failegal.site/media/ur/notice

FAI Media is part of FAI Legal (https://failegal.site), research on Pakistani statutes and judgments. Free to watch and read.
