# کیا 489-F قابلِ ضمانت ہے یا نہیں؟

> نہیں۔ ضابطہ فوجداری دفعہ 489-F کو ناقابلِ ضمانت لکھتا ہے، یعنی ضمانت آپ کا حق نہیں۔ مگر ناقابلِ ضمانت کا مطلب یہ نہیں کہ ضمانت نہیں ملتی۔ فیصلہ عدالت کرتی ہے، اور سزا زیادہ سے زیادہ تین سال ہونے کی وجہ سے یہ جرم ممنوعہ شق سے باہر ہے۔ سپریم کورٹ نے 2021 SCMR 822 میں اسی بنیاد پر ضمانت دی۔

- Topic: Criminal law
- Court: Supreme Court of Pakistan
- Citation: 2021 SCMR 822
- The myth: "Non-bailable means no bail." Verdict: Wrong.
- Watch: https://failegal.site/media/ur/is-489-f-bailable-or-not-2021-scmr-822 (video https://failegal.site/media/is-489-f-bailable-or-not-2021-scmr-822/reel-ur.mp4, 0:34)
- Published by FAI Legal on 2026-10-12

فروری 2017 میں لاہور کے تھانہ پرانی انارکلی میں چیک کا ایک مقدمہ درج ہوا۔ ملزم ستمبر 2020 میں گرفتار ہوا، اور فروری 2021 میں لاہور ہائی کورٹ نے اسے ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ چھ ہفتے بعد سپریم کورٹ نے اسے ضمانت دے دی۔ جس جرم کو قانون ناقابلِ ضمانت کہتا ہے، اس میں یہ کیسے ہوا؟

جواب ایک لفظ میں چھپا ہے جو سب دہراتے ہیں مگر کوئی سمجھاتا نہیں۔ یہ صفحہ بتاتا ہے کہ ضابطہ فوجداری میں قابلِ ضمانت اور ناقابلِ ضمانت سے کیا مراد ہے، دفعہ 489-F کہاں آتی ہے، اور چیک کیس کے ملزم کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔

## اہم نکات

- ضابطہ فوجداری کی دفعہ 4(1)(b) کے مطابق جرم صرف تب قابلِ ضمانت ہے جب دوسرا شیڈول اسے قابلِ ضمانت دکھائے یا کوئی اور قانون ایسا کہے۔ دفعہ 489-F کے سامنے شیڈول میں ناقابلِ ضمانت لکھا ہے۔
- قابلِ ضمانت جرم میں دفعہ 496 کہتی ہے کہ ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے گا۔ ناقابلِ ضمانت جرم میں دفعہ 497 کہتی ہے کہ اسے رہا کیا جا سکتا ہے، یعنی فیصلہ عدالت کا ہے۔
- دفعہ 497(1) رہائی سے صرف تب روکتی ہے جب یہ ماننے کی معقول وجہ ہو کہ ملزم ایسے جرم کا مرتکب ہے جس کی سزا موت، عمر قید یا دس سال ہو۔ دفعہ 489-F کی سزا زیادہ سے زیادہ تین سال ہے، اس لیے یہ اس پابندی سے باہر ہے۔
- 2021 SCMR 822 میں سپریم کورٹ نے 489-F کے مقدمے میں ضمانت دی اور لکھا کہ جرم ممنوعہ شق سے باہر ہے۔ خاص حالات میں ضمانت سے انکار پھر بھی ہو سکتا ہے، اور غلط استعمال پر عدالت ضمانت واپس لے سکتی ہے۔

## مختصر جواب

ناقابلِ ضمانت، مگر ضمانت ممکن ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 4(1)(b) کے مطابق قابلِ ضمانت جرم وہ ہے جو دوسرے شیڈول میں قابلِ ضمانت دکھایا گیا ہو یا کسی اور قانون نے اسے قابلِ ضمانت بنایا ہو، اور باقی ہر جرم ناقابلِ ضمانت ہے۔ شیڈول دوم میں دفعہ 489-F، یعنی بددیانتی سے چیک جاری کرنا، کے سامنے ناقابلِ ضمانت لکھا ہے۔

زیادہ تر لوگ یہیں رک جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ملزم جیل میں ہی رہے گا۔ لیکن یہ لفظ صرف یہ بتاتا ہے کہ فیصلہ کون کرے گا۔ یہ نہیں بتاتا کہ فیصلہ کیا ہوگا۔

## قابلِ ضمانت اور ناقابلِ ضمانت، ضابطے کے اپنے الفاظ میں

دفعہ 496 قابلِ ضمانت جرائم کے بارے میں ہے۔ ایسے جرم کا ملزم ضمانت دینے کو تیار ہو تو اسے ضمانت پر رہا کیا جائے گا۔ پولیس افسر یا عدالت کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ انکار کرے۔

دفعہ 497 ناقابلِ ضمانت جرائم کے بارے میں ہے۔ ایسے جرم کے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جا سکتا ہے، یعنی فیصلہ عدالت کرتی ہے۔ اسی ذیلی دفعہ میں لکھا ہے کہ اگر یہ ماننے کی معقول وجوہات ہوں کہ ملزم ایسے جرم کا مرتکب ہے جس کی سزا موت، عمر قید یا دس سال قید ہے تو اسے رہا نہیں کیا جائے گا، البتہ سولہ سال سے کم عمر، عورت، یا بیمار اور کمزور ملزم کو عدالت پھر بھی رہا کر سکتی ہے۔ وکیل اسے ممنوعہ شق کہتے ہیں۔

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-F کی سزا تین سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں ہے۔ تین سال دس سے بہت کم ہیں، اس لیے چیک کا مقدمہ ممنوعہ شق سے باہر ہے۔ جرم ناقابلِ ضمانت ہی رہتا ہے، مگر دفعہ 497(1) ضمانت کے راستے میں نہیں آتی۔

## لاہور کا وہ چیک کیس جس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا

ایف آئی آر نمبر 74، مورخہ 9 فروری 2017، تھانہ پرانی انارکلی لاہور میں دفعہ 489-F کے تحت درج ہوئی۔ ملزم 22 ستمبر 2020 کو گرفتار ہوا۔ 18 فروری 2021 کو لاہور ہائی کورٹ نے اس کی ضمانت مسترد کی، اور وہ سپریم کورٹ گیا (پیراگراف 1 اور 2)۔

جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل بینچ نے 30 مارچ 2021 کو درخواست سنی۔ جسٹس منظور احمد ملک کے لکھے حکم میں عدالت نے کہا کہ جرم دفعہ 497 کی ممنوعہ شق سے باہر ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے۔ استغاثہ نے گرفتاری کی تاریخ کی تصدیق کی، اور یہ بات متنازع نہیں تھی کہ تین دوسرے مقدمات میں اسے ضمانت مل چکی تھی (پیراگراف 2)۔

درخواست کو اپیل میں بدل کر منظور کر لیا گیا۔ اسے پانچ لاکھ روپے کے مچلکے اور ایک ضامن پر ضمانت ملی۔ چونکہ مقدمہ 2017 سے زیرِ التوا تھا، ٹرائل کورٹ کو جون 2021 کے آخر تک ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا گیا، اور عدالت نے کہا کہ اگر ضمانت کا غلط استعمال ہوا یا ملزم نے تاخیر کی تو ٹرائل کورٹ فریقین کو سن کر ضمانت واپس لے سکتی ہے (پیراگراف 3 اور 4)۔

## ممنوعہ شق سے باہر ہونا قابلِ ضمانت ہونا نہیں

تین سال کی زیادہ سے زیادہ سزا 489-F کو قابلِ ضمانت جرم نہیں بناتی، اور ضمانت حق نہیں بن جاتی۔ سپریم کورٹ نے یہ عمومی اصول 2003 SCMR 573 میں بیان کیا، جو منشیات کا مقدمہ تھا: اختیار عدالت کے پاس رہتا ہے، جو طے شدہ اصولوں کے مطابق دیکھتی ہے کہ ملزم ضمانت کا حق دار ہے یا نہیں (پیراگراف 5)۔

خود 489-F کے بارے میں سپریم کورٹ نے 2025 SCMR 1955 میں کہا کہ اس قسم کے جرم میں ضمانت پر اصولاً ہمدردی سے غور ہوتا ہے، اور خاص حالات میں انکار ہو سکتا ہے، جیسے ملزم کے بھاگ جانے کا امکان، استغاثہ کے ثبوت سے چھیڑ چھاڑ، یا جرم دہرائے جانے کا خطرہ (پیراگراف 3)۔ اس فیصلے کی وضاحت، اور یہ کہ چیک کی رقم ضمانت سے انکار کی وجہ کیوں نہیں، FAI Media کے الگ صفحے پر ہے: failegal.site/media/bail489۔

## شیڈول دوم 489-F کے بارے میں اور کیا کہتا ہے

شیڈول دوم کی اسی سطر میں تین اور باتیں درج ہیں۔ پولیس وارنٹ کے بغیر گرفتار کر سکتی ہے، اس لیے دفعہ 4(1)(f) کے تحت 489-F قابلِ دست اندازی جرم ہے۔ یہ قابلِ راضی نامہ ہے، یعنی فریقین صلح کر سکتے ہیں: لاہور ہائی کورٹ نے 2021 MLD 947 میں کہا کہ فریقین عدالت کی اجازت کے بغیر اس میں راضی نامہ کر سکتے ہیں۔ اور اس کی سماعت مجسٹریٹ درجہ اول کرتا ہے، سیشن کورٹ نہیں۔

یوں 489-F کا مقدمہ ایک ساتھ ناقابلِ ضمانت، قابلِ دست اندازی اور قابلِ راضی نامہ ہے۔ ہر لفظ الگ سوال کا جواب ہے: ضمانت کا فیصلہ کون کرے گا، کیا پولیس کو وارنٹ چاہیے، اور کیا فریقین صلح سے مقدمہ ختم کر سکتے ہیں۔

## کیس ایک نظر میں

- **حقائق:** لاہور: ایف آئی آر نمبر 74 مورخہ 9 فروری 2017، تھانہ پرانی انارکلی، دفعہ 489-F۔ ملزم 22 ستمبر 2020 کو گرفتار۔ لاہور ہائی کورٹ نے 18 فروری 2021 کو ضمانت مسترد کی۔ تین دوسرے مقدمات میں اسے ضمانت مل چکی تھی۔
- **سوال:** کیا 489-F کے اس ملزم کو، جس کی ضمانت ہائی کورٹ نے مسترد کی، ضمانت پر رہا کیا جائے؟
- **عدالت کا فیصلہ:** درخواست اپیل میں بدل کر منظور؛ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے اور ایک ضامن پر ضمانت۔ ٹرائل جون 2021 کے آخر تک مکمل ہو؛ غلط استعمال یا تاخیر پر ضمانت واپس ہو سکتی ہے۔
- **وجہ:** جرم دفعہ 497 کی ممنوعہ شق سے باہر ہے اور زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے۔ گرفتاری کی تاریخ کی استغاثہ نے تصدیق کی، اور تین دوسرے مقدمات میں ضمانت متنازع نہیں تھی۔
- **حدود:** یہ اپنے حقائق پر ایک مختصر ضمانتی حکم ہے، یہ فیصلہ نہیں کہ 489-F میں ضمانت ہمیشہ ملے گی۔ جرم ثابت ہوا یا نہیں، یہ ٹرائل طے کرے گا۔

## عدالت کے اپنے الفاظ

> "it has been observed by us that offence alleged against the petitioner falls outside the prohibitory clause of section 497, Code of Criminal Procedure, maximum punishment whereof is three years." (2021 SCMR 822, para 2)

> "The mere fact that an offence did not fall within the prohibitory clause of section 497(1) of the Cr.P.C. did not mean that such an offence had become a bailable offence." (2003 SCMR 573, para 5)

> "The said offence is, admittedly, of the category which falls within the non-prohibitory clause of section 497 of the Code of the Criminal Procedure, 1898" (2025 SCMR 1955, para 3)

## جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

- **Pakistan Penal Code, 1860, s.489-F:** بددیانتی سے چیک جاری کرنا: جو شخص قرض کی ادائیگی یا کسی ذمہ داری کی تکمیل کے لیے بددیانتی سے چیک جاری کرے جو پیش کرنے پر واپس ہو جائے، اسے تین سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں کی سزا ہوگی، الا یہ کہ وہ ثابت کرے کہ اس نے بینک سے انتظام کیا تھا اور قصور بینک کا تھا۔ ثبوت کا بوجھ اسی پر ہے۔
- **Code of Criminal Procedure, 1898, s.4(1)(b) and Schedule II:** قابلِ ضمانت جرم وہ ہے جو دوسرے شیڈول میں قابلِ ضمانت دکھایا گیا ہو یا کسی اور قانون نے ایسا بنایا ہو؛ باقی سب ناقابلِ ضمانت۔ شیڈول دوم میں 489-F: وارنٹ کے بغیر گرفتاری ہو سکتی ہے؛ ناقابلِ ضمانت؛ قابلِ راضی نامہ؛ تین سال قید یا جرمانہ یا دونوں؛ سماعت مجسٹریٹ درجہ اول۔
- **Code of Criminal Procedure, 1898, ss.496 and 497:** دفعہ 496: قابلِ ضمانت جرم میں ضمانت دینے پر تیار ملزم کو رہا کیا جائے گا۔ دفعہ 497(1): ناقابلِ ضمانت جرم میں رہا کیا جا سکتا ہے، مگر موت، عمر قید یا دس سال سزا والے جرم کی معقول وجوہات ہوں تو نہیں (ممنوعہ شق)، شرائط کے ساتھ۔

## اس کا کیا مطلب نہیں

- اس کا مطلب یہ نہیں کہ ضمانت خود بخود ملتی ہے یا حق ہے۔ ناقابلِ ضمانت جرم میں فیصلہ عدالت کرتی ہے، اور خاص حالات میں، جیسے بھاگ جانے یا ثبوت سے چھیڑ چھاڑ کا خطرہ، انکار کر سکتی ہے۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ سزا کم ہونے کی وجہ سے 489-F قابلِ ضمانت ہے۔ شیڈول دوم میں ناقابلِ ضمانت لکھا ہے، اور سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ ممنوعہ شق سے باہر ہونے سے جرم قابلِ ضمانت نہیں بنتا (2003 SCMR 573)۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ مقدمے کا فیصلہ ہو گیا۔ ضمانت بریت نہیں: 489-F کا جرم بنتا ہے یا نہیں، یہ ٹرائل طے کرے گا۔

## لوگ کیا پوچھتے ہیں

### کیا 489-F قابلِ ضمانت ہے یا نہیں؟

ناقابلِ ضمانت۔ ضابطہ فوجداری کا دوسرا شیڈول دفعہ 489-F کو ناقابلِ ضمانت لکھتا ہے۔ مگر عدالت دفعہ 497 کے تحت پھر بھی ضمانت دے سکتی ہے، اور زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہونے کی وجہ سے یہ جرم ممنوعہ شق سے باہر ہے۔

### 489-F کیا ہے؟

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-F کے تحت قرض کی ادائیگی یا کسی ذمہ داری کی تکمیل کے لیے بددیانتی سے ایسا چیک جاری کرنا جرم ہے جو پیش کرنے پر واپس ہو جائے۔ سزا تین سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں ہے۔

### کیا سپریم کورٹ نے 489-F کے مقدمات میں ضمانت دی ہے؟

جی ہاں۔ 2021 SCMR 822 (30 مارچ 2021) اور 2025 SCMR 1955 (12 اگست 2025) میں سپریم کورٹ نے 489-F کے ملزمان کو ضمانت دی۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر طے ہوتا ہے۔

### 489-F کی ایف آئی آر میں کیا پولیس وارنٹ کے بغیر گرفتار کر سکتی ہے؟

جی ہاں۔ شیڈول دوم میں درج ہے کہ دفعہ 489-F میں پولیس وارنٹ کے بغیر گرفتار کر سکتی ہے، اس لیے یہ قابلِ دست اندازی جرم ہے۔

### کیا 489-F کے مقدمے میں فریقین صلح کر سکتے ہیں؟

جی ہاں۔ شیڈول دوم میں یہ قابلِ راضی نامہ ہے، اور لاہور ہائی کورٹ نے 2021 MLD 947 میں کہا کہ فریقین عدالت کی اجازت کے بغیر اس میں راضی نامہ کر سکتے ہیں۔

## ماخذ

- Sheikh Abdul Raheem v. The State and another, 2021 SCMR 822, Supreme Court of Pakistan, 30 March 2021, paras 1, 2, 3, 4. 489-F is outside the prohibitory clause of s.497 CrPC, maximum three years; bail granted, with power to recall on misuse or delay. (verified against full text)
- Aqeel Ahmed Khan v. The State through Federal Prosecutor General, Islamabad and another, 2025 SCMR 1955, Supreme Court of Pakistan, 12 August 2025, paras 3. 489-F is admittedly in the non-prohibitory category; bail is considered favourably as a rule and declined only in exceptional cases. (verified against full text) (official text: https://www.supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/crl.p._960_2025.pdf)
- Afzaal Ahmed v. The State, 2003 SCMR 573, Supreme Court of Pakistan, 18 April 2002, paras 5. An offence outside the prohibitory clause of s.497(1) does not become a bailable offence; the court keeps its discretion. (verified against full text)
- Zahid Mehmood v. Additional Sessions Judge, 2021 MLD 947, Lahore High Court, 23 February 2021, paras 6 to 9. The offence under s.489-F is compoundable between the parties without the permission of the court. (verified against full text)
- Pakistan Penal Code, 1860, s.489-F (text checked in FAI Statute Search) (official text: https://pakistancode.gov.pk/english/UY2FqaJw1-apaUY2Fqa-apaUY2Npa5lo-sg-jjjjjjjjjjjjj)
- Code of Criminal Procedure, 1898, ss.4(1)(b), 4(1)(f), 496, 497 and Schedule II (sections checked in FAI Statute Search; Schedule II row checked against the Pakistan Code CrPC PDF) (official text: https://pakistancode.gov.pk/english/UY2FqaJw1-apaUY2Fqa-apaUY2Npa5lp-sg-jjjjjjjjjjjjj)

## ریل میں کیا کہا گیا

کیا 489-F قابلِ ضمانت ہے یا نہیں؟

نہیں۔ ضابطہ فوجداری کے دوسرے شیڈول میں دفعہ 489-F (چیک باؤنس) ناقابلِ ضمانت لکھی ہے۔

مگر ناقابلِ ضمانت کا مطلب یہ نہیں کہ ضمانت نہیں ملتی۔ قابلِ ضمانت جرم میں ضمانت حق ہے (دفعہ 496)، ناقابلِ ضمانت جرم میں فیصلہ عدالت کرتی ہے (دفعہ 497)۔

489-F کی سزا زیادہ سے زیادہ تین سال ہے، اس لیے یہ دفعہ 497(1) کی ممنوعہ شق سے باہر ہے۔ سپریم کورٹ نے 2021 SCMR 822 میں یہی بات لکھ کر ملزم کو ضمانت دی۔

خاص حالات میں، جیسے ملزم کے بھاگ جانے یا ثبوت سے چھیڑ چھاڑ کا خطرہ، ضمانت سے انکار ہو سکتا ہے۔

---

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review.

English: https://failegal.site/media/is-489-f-bailable-or-not-2021-scmr-822 · Urdu: https://failegal.site/media/ur/is-489-f-bailable-or-not-2021-scmr-822

FAI Media is part of FAI Legal (https://failegal.site), research on Pakistani statutes and judgments. Free to watch and read.
