# زمین کا انتقال بھائی کے نام ہو گیا۔ کیا بہن کا حصہ ختم ہو گیا؟

> نہیں۔ بہن والد کی وفات کے لمحے ہی اپنے حصے کی مالک بن جاتی ہے، اور جو انتقال اسے چھوڑ دے وہ یہ حصہ نہیں چھین سکتا۔ دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ نے 1981 کا ایک انتقال اور اس کے بعد کے سارے انتقال منسوخ کر کے بہن کو پوری جائیداد میں تہائی حصہ دیا۔

- Topic: Property and inheritance
- Court: Supreme Court of Pakistan
- Citation: 2024 SCMR 938
- The myth: "Once the land is mutated in the brother's name, the sister's share is gone." Verdict: Wrong.
- Watch: https://failegal.site/media/ur/intiqal (video https://failegal.site/media/intiqal/reel-ur.mp4, 0:52)
- Published by FAI Legal on 2026-10-10

بہت سے خاندانوں میں والد کی وفات کے بعد زمین ریونیو ریکارڈ میں صرف بیٹوں کے نام چڑھا دی جاتی ہے۔ سال گزر جاتے ہیں، اور بہنوں کو کہا جاتا ہے کہ ریکارڈ پکا ہو چکا اور ان کا حصہ ختم۔

یہ بات ان بیٹیوں اور بہنوں کے لیے اہم ہے جنہیں وراثت سے باہر رکھا گیا، اور ان بھائیوں اور خریداروں کے لیے بھی جو ایسے انتقال پر بھروسا کرتے ہیں جس میں وارث چھوڑ دیے گئے ہوں۔

## اہم نکات

- سپریم کورٹ، 2024 SCMR 938: وارث اپنے حصے کے وارث اسی لمحے بنتے ہیں جب مورث فوت ہو (پیرا 8)۔
- جس انتقال میں بیٹے کو اکیلا قانونی وارث لکھا گیا تھا، وہ اور اس کے بعد کے سارے انتقال، کئی دہائیوں بعد منسوخ کر دیے گئے (پیرا 9)۔
- بہن کو پوری جائیداد میں سے تہائی حصہ ملا، صرف بیچی گئی زمین کی قیمت کا حصہ نہیں، اور بھائی کی بیچی ہوئی زمین اس کے اپنے حصے میں شمار ہوئی (پیرا 9)۔
- 2023 SCMR 988 میں جس بیٹے نے ایک فوٹو کاپی کی بنیاد پر ماں اور بہن کو وراثت سے باہر رکھا، اس کی اپیل پانچ لاکھ روپے خصوصی ہرجانے کے ساتھ خارج ہوئی (پیرا 8)۔

## ایک سطر میں اصول

وراثت ریونیو ریکارڈ کا انتظار نہیں کرتی۔ ہر وارث والد یا والدہ کی وفات کے لمحے سے اپنے حصے کا مالک ہے۔ انتقال ایک ریکارڈ ہے، اور غلط ریکارڈ درست ہو سکتا ہے، چاہے کئی سال بعد۔

## اس کیس میں کیا ہوا

ایک والد 1980 میں فوت ہوئے۔ 24 مارچ 1981 کو انتقال نمبر 56 میں ان کے بیٹے کو اکیلا قانونی وارث لکھا گیا، اور بیٹی کو چھوڑ دیا گیا۔

2001 میں بیٹے نے کچھ زمین بیچ دی۔

بہن نے مقدمہ کیا۔ ٹرائل کورٹ اور اپیل کی عدالت نے اس کا دعویٰ خارج کر دیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے اسے صرف بیچی گئی زمین کی تیرہ لاکھ روپے قیمت کا تہائی دیا۔

## سپریم کورٹ نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے یکم دسمبر 2023 کو اس کی اپیل کا فیصلہ کیا، جو مسماۃ صحت بی بی بنام بہار خان، 2024 SCMR 938 کے نام سے رپورٹ ہوا۔

عدالت نے کہا کہ وارث اسی لمحے وارث بنتے ہیں جب مورث فوت ہو (پیرا 8)۔

عدالت نے انتقال نمبر 56 اور اس کے بعد کے سارے انتقال منسوخ کر دیے۔ بہن کو پوری جائیداد میں سے تہائی حصہ دیا گیا، ترکے کا نیا انتقال قانون کے مطابق کرنے کا حکم ہوا، اور بھائی کی بیچی ہوئی زمین اس کے اپنے حصے میں شمار کی گئی (پیرا 9)۔

## وارثوں کو باہر رکھنا مہنگا پڑ سکتا ہے

محمد رفیق بنام مسماۃ غلام زہراں مائی، 2023 SCMR 988 میں، جس کا فیصلہ 17 مارچ 2023 کو ہوا، ایک بیٹے نے ایک فوٹو کاپی کی بنیاد پر اپنی ماں اور بہن کو وراثت سے باہر رکھا۔

سپریم کورٹ نے اس کی اپیل تمام عدالتوں کے خرچے اور پانچ لاکھ روپے خصوصی ہرجانے کے ساتھ خارج کر دی (پیرا 8)۔

## کیس ایک نظر میں

- **حقائق:** والد 1980 میں فوت ہوئے۔ 24 مارچ 1981 کے انتقال نمبر 56 میں بیٹے کو اکیلا قانونی وارث لکھا گیا۔ 2001 میں اس نے کچھ زمین بیچی۔ بہن کا دعویٰ ٹرائل اور اپیل کی عدالتوں نے خارج کیا؛ بلوچستان ہائی کورٹ نے اسے تیرہ لاکھ روپے کی قیمت کا تہائی دیا۔
- **سوال:** کیا کئی دہائیاں پہلے انتقال سے باہر رکھی گئی بہن اب بھی پوری جائیداد میں اپنی وراثت مانگ سکتی ہے، یا صرف قیمت کا حصہ؟
- **عدالت کا فیصلہ:** مانگ سکتی ہے۔ انتقال نمبر 56 اور بعد کے سارے انتقال منسوخ؛ بہن کو پوری جائیداد میں تہائی حصہ؛ نیا انتقال؛ بھائی کی بیچی ہوئی زمین اس کے حصے میں شمار۔
- **وجہ:** وارث اسی لمحے وارث بنتے ہیں جب مورث فوت ہو۔ جو انتقال بیٹے کو اکیلا وارث لکھے، وہ بیٹی کا وہ حصہ نہیں چھین سکتا جو پہلے ہی اس کا تھا۔
- **حدود:** یہاں حصے اسی خاندان کے وارثوں کے مطابق تھے۔ فیصلہ ریکارڈ سے باہر رکھی گئی بہن کے بارے میں ہے؛ وراثتی زمین کے ہر خریدار کے ہر دعوے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ ہر کیس اپنے حقائق اور ریکارڈ پر چلتا ہے۔

## جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے


## اس کا کیا مطلب نہیں

- اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتقال بے معنی ہے۔ یہ ریونیو ریکارڈ ہے، اور غلط ہو تو درست ہونا چاہیے، اور عدالت نے یہی حکم دیا۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ بہن کو ساری زمین واپس مل جاتی ہے۔ اسے اپنا حصہ ملتا ہے، یہاں پوری جائیداد کا تہائی، اور بھائی کی فروخت اس کے حصے میں شمار ہوتی ہے۔
- اس فیصلے میں ہر خاندان کا حصہ طے نہیں ہوا۔ حصے اس پر منحصر ہیں کہ وارث کون کون ہیں۔

## لوگ کیا پوچھتے ہیں

### میرے بھائیوں نے برسوں پہلے زمین اپنے نام انتقال کروا لی۔ کیا اب دیر ہو گئی؟

2024 SCMR 938 میں سپریم کورٹ نے 1981 کا انتقال اور اس کے بعد کے سارے انتقال منسوخ کیے، اور کہا کہ وارث والد کی وفات کے لمحے ہی وارث بن جاتے ہیں۔ اپنے ریکارڈ اور تاریخوں کے بارے میں وکیل سے بات کریں۔

### بھائی زمین کا کچھ حصہ بیچ چکا ہے۔ کیا مجھے صرف پیسے ملیں گے؟

اس کیس میں ہائی کورٹ نے بہن کو صرف قیمت کا تہائی دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس کے بجائے اسے پوری جائیداد کا تہائی دیا اور بھائی کی بیچی ہوئی زمین اس کے اپنے حصے میں شمار کی۔

### کیا عدالت وارثوں کو باہر رکھنے والے کو سزا دے سکتی ہے؟

2023 SCMR 988 میں سپریم کورٹ نے فوٹو کاپی کی بنیاد پر ماں اور بہن کو باہر رکھنے والے بیٹے کی اپیل پانچ لاکھ روپے خصوصی ہرجانے کے ساتھ خارج کی۔

## ماخذ

- Mst. Sehat Bibi v. Bahar Khan, 2024 SCMR 938, Supreme Court of Pakistan, 1 December 2023, paras 8, 9. Heirs inherit the very moment the predecessor dies; a 1981 mutation naming the son the only legal heir and all subsequent mutations cancelled; sister given one third of the entire property. (verified against full text) (official text: https://www.supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/c.a._26_q_2017.pdf)
- Muhammad Rafiq v. Mst. Ghulam Zoharan Mai, 2023 SCMR 988, Supreme Court of Pakistan, 17 March 2023, paras 8. A son who deprived his mother and sister of inheritance on a photocopy; appeal dismissed with costs throughout and special costs of Rs. 500,000. (verified against full text) (official text: https://www.supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/c.a._2613_2016.pdf)

## ریل میں کیا کہا گیا

سنا ہے، زمین کا انتقال بھائی کے نام ہو گیا تو بہن کا حصہ ختم؟ غلط۔

سپریم کورٹ: والد کی وفات کے لمحے ہی ہر وارث اپنے حصے کا مالک ہو جاتا ہے۔

1980 میں ایک والد فوت ہوئے۔ 1981 میں بیٹے نے انتقال میں لکھوا دیا کہ وہ اکیلا وارث ہے، اور بعد میں کچھ زمین بیچ دی۔ ٹرائل اور اپیل کورٹ نے بہن کا دعویٰ خارج کیا، اور ہائی کورٹ نے اسے صرف بیچی گئی زمین کی قیمت (13 لاکھ روپے) کا تہائی دیا۔

سپریم کورٹ (دسمبر 2023): وہ انتقال اور اس کے بعد کے سارے انتقال منسوخ۔ بہن کو پوری جائیداد میں تہائی حصہ، نیا انتقال قانون کے مطابق، اور بھائی کی بیچی ہوئی زمین اس کے اپنے حصے میں شمار ہوگی (2024 SCMR 938)۔

ایک اور کیس میں بیٹے نے صرف ایک فوٹو کاپی کی بنیاد پر ماں اور بہن کو وراثت سے محروم رکھا۔ سپریم کورٹ نے اپیل خارج کی اور پانچ لاکھ روپے خصوصی ہرجانہ ڈالا (2023 SCMR 988)۔

---

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review.

English: https://failegal.site/media/intiqal · Urdu: https://failegal.site/media/ur/intiqal

FAI Media is part of FAI Legal (https://failegal.site), research on Pakistani statutes and judgments. Free to watch and read.
