# باپ بچے کا خرچہ نہ دے: کیا عدالت دادا کی زمین لے سکتی ہے؟

> بشیر احمد بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، حافظ آباد و دیگر، سپریم کورٹ آف پاکستان، PLD 2024 SC 67، فیصلہ 3 نومبر 2023

- Topic: Family
- Court: Supreme Court of Pakistan
- Citation: PLD 2024 SC 67
- The myth: "If the father won't pay his child's maintenance, the court can seize the grandfather's property." Verdict: Wrong.
- Watch: https://failegal.site/media/ur/father-not-paying-child-maintenance-grandfather-property-pld-2024-sc-67 (video https://failegal.site/media/father-not-paying-child-maintenance-grandfather-property-pld-2024-sc-67/reel-ur.mp4, 1:23)
- Published by FAI Legal on 2026-10-27

باپ کے مقدمے کے ذریعے نہیں۔ نومبر 2023 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ بچے کے باپ کے خلاف خرچے کی ڈگری دادا پر نافذ نہیں ہو سکتی، اور اگر باپ کی کوئی جائیداد نہ ملے تو بچے کو دادا کے خلاف الگ مقدمہ کرنا ہوگا (PLD 2024 SC 67، پیرا 7)۔ باپ کے مقدمے میں قرق کی گئی دادا کی زمین آزاد کر دی گئی۔

لیکن بچہ بے سہارا نہیں۔ بچہ دادا کے خلاف الگ خرچے کا مقدمہ کر سکتا ہے؛ اگر باپ واقعی نہ دے سکے اور دادا کی استطاعت ہو تو دادا کو دینا ہوگا، اور اس مقدمے میں فیملی کورٹ عبوری خرچہ بھی دلوا سکتی ہے (پیرا 5 اور 8)۔

## اہم نکات

- ڈگری صرف انہی پر لاگو ہوتی ہے جن کے خلاف دی گئی: جو ڈگری کسی کے خلاف دی ہی نہیں گئی، وہ اس پر یا اس کی جائیداد پر نافذ نہیں ہو سکتی (پیرا 8)۔
- اسلامی قانون میں دادا پر پوتے کا خرچہ تبھی آتا ہے جب باپ غریب ہو اور خرچہ نہ دے سکے، اور دادا مالی طور پر آسودہ ہو (پیرا 4 اور 5)۔
- یہ حقائق ہیں جو دادا کے خلاف باقاعدہ مقدمے میں ثابت کرنے ہوں گے، جہاں آرٹیکل 10A کے تحت اسے منصفانہ ٹرائل ملے گا (پیرا 6)۔
- اس مقدمے میں اگر دونوں شرطیں بظاہر پوری ہوں تو فیملی کورٹ عبوری خرچہ دلوا سکتی ہے (پیرا 8)۔
- سپریم کورٹ نے اس قرقی کو صحیح کام کو غلط طریقے سے کرنے کی ایک واضح مثال کہا (پیرا 1)۔

## باپ خرچہ نہ دے تو کیا دادا کی جائیداد لی جا سکتی ہے؟ مختصر جواب

باپ کی ڈگری پر نہیں۔ بشیر احمد بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج حافظ آباد (PLD 2024 SC 67) میں، جس کا فیصلہ 3 نومبر 2023 کو ہوا، سپریم کورٹ نے کہا کہ باپ کے خلاف خرچے کی ڈگری دادا پر نافذ نہیں ہو سکتی؛ اگر باپ کی کوئی جائیداد نہ ملے تو بچے کو دادا کے خلاف الگ مقدمہ کرنا ہوگا (پیرا 7)۔

یعنی ترتیب یہ ہے: ڈگری باپ اور اس کی جائیداد پر نافذ ہو؛ اگر اس کا کچھ نہ ملے تو بچہ (ماں کے ذریعے) دادا پر نیا مقدمہ کرے، اور عدالت طے کرے کہ دادا کو دینا ہے یا نہیں۔

## حافظ آباد، 2018: ڈگری باپ کے خلاف، زمین دادا کی قرق

2018 میں تقریباً تین سال کے بچے نے ماں کے ذریعے باپ پر خرچے کا مقدمہ کیا اور ڈگری مل گئی۔ نفاذ کے وقت باپ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے مگر وہ پیش نہ ہو سکا اور اس کی کوئی جائیداد نہ ملی (PLD 2024 SC 67، پیرا 2)۔

پھر ریونیو ریکارڈ میں بچے کے دادا کی زمین ملی۔ اجرا کی عدالت نے 7 ستمبر 2018 کو اسے قرق کر لیا اور 17 اکتوبر 2018 کو چھوڑنے سے انکار کر دیا، حالانکہ دادا مقدمے میں فریق ہی نہیں تھے اور ان کے خلاف کوئی ڈگری نہیں تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے ان کی رٹ پٹیشن خارج کر دی (پیرا 2)۔

## نومبر 2023 میں سپریم کورٹ کا فیصلہ

جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل بنچ نے دادا کی درخواست کو اپیل میں بدل کر منظور کر لیا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ کا لکھا فیصلہ یوں شروع ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ صحیح کام کو غلط طریقے سے کرنے کی ایک واضح مثال ہے (پیرا 1)۔

عدالت نے کہا کہ جو ڈگری کسی کے خلاف دی ہی نہیں گئی، وہ اس پر یا اس کی جائیداد پر نافذ نہیں ہو سکتی، قرقی کے دونوں احکامات کو بغیر قانونی اختیار اور بے اثر قرار دیا، اور زمین آزاد کر دی (پیرا 8)۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے آرٹیکل 199 کا اپنا اختیار استعمال نہیں کیا۔

## دادا کب دے گا: دو شرطیں

عدالت نے اسلامی قانونِ نفقہ دہرایا: اگر باپ فوت ہو چکا ہو، یا غریب ہو اور بچے کا خرچہ نہ اٹھا سکے، تو یہ ذمہ داری دادا پر آتی ہے، بشرطیکہ دادا مالی طور پر آسودہ ہو (پیرا 4)۔

دونوں شرطیں ضروری ہیں: باپ خرچہ نہ دے سکے، اور دادا دے سکے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی پوری نہ ہو تو دادا پر پوتے کا خرچہ لازم نہیں (پیرا 5)۔ یہ حقائق ہیں، اس لیے باقاعدہ مقدمے میں ثبوت سے ثابت ہوں گے، جہاں دادا اپنا دفاع کر سکے، جیسا کہ آرٹیکل 10A کا منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقۂ کار کہتا ہے (پیرا 6)۔

## مائیں: اگر باپ خرچہ نہ دے تو کیا کریں

پہلے ڈگری باپ پر نافذ کروائیں: فیملی کورٹ اس کے اور اس کی جائیداد کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے (اس مقدمے میں اس کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے)۔ اگر اس کا کچھ نہ ملے تو باپ کے مقدمے میں دادا کی جائیداد قرق کروانے کے بجائے، فیملی کورٹ میں دادا کے خلاف الگ خرچے کا مقدمہ کریں (پیرا 7)۔

اس مقدمے میں عبوری خرچہ مانگیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر دونوں شرطیں بظاہر پوری ہوں تو فیملی کورٹ مناسب مرحلے پر عبوری خرچہ دلوا سکتی ہے (پیرا 8)۔

## دادا: اگر کسی اور کے مقدمے میں آپ کی جائیداد قرق ہو جائے

اجرا کی عدالت میں جائیداد چھڑوانے کی درخواست دیں کہ آپ فریق نہیں تھے اور آپ کے خلاف کوئی ڈگری نہیں۔ انکار ہو تو ہائی کورٹ کا رٹ کا اختیار موجود ہے، اور سپریم کورٹ بتا چکی ہے کہ جواب کیا ہونا چاہیے (پیرا 8)۔

یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم نہیں: پوتے کے خرچے کے لیے آپ پر الگ مقدمہ ہو سکتا ہے، اور اگر باپ واقعی نہ دے سکے اور آپ کی استطاعت ہو تو آپ کو دینا ہوگا۔

## قانون کے طلبہ اور وکلا کے لیے

عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے نوازش علی بنام فیملی جج (2021 CLC 1841) کے نتیجے سے اتفاق کیا مگر ہم پلہ بنچوں کے پرانے فیصلوں کو غلط قرار دینے کے طریقے کو نامناسب کہا (درست راستہ بڑے بنچ کے لیے چیف جسٹس کو ریفرنس تھا، PLD 1995 SC 423)۔ ماورا ارشد بنام احسان غنی (2005 SCMR 1293) کو الگ قرار دیا، جہاں دادا باپ کے ساتھ مدعا علیہ تھے (پیرا 7)۔

بنیاد آئینی ہے: آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک) اور آرٹیکل 10A (دیوانی حقوق و ذمہ داریوں کے لیے منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقۂ کار)، اور خرچے کے دعووں کے لیے فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کا طریقہ (پیرا 6)۔ اجرا کی عدالت ڈگری سے آگے نہیں جا سکتی، نہ غیر فریق پر اسے نافذ کر سکتی ہے۔

## کیس ایک نظر میں

- **حقائق:** 2018 میں تقریباً تین سال کے بچے نے ماں کے ذریعے باپ کے خلاف خرچے کی ڈگری لی۔ وارنٹ گرفتاری کے باوجود باپ پیش نہ ہوا اور اس کی جائیداد نہ ملی۔ اجرا کی عدالت نے دادا کی زمین قرق کی (7 ستمبر 2018) اور چھوڑنے سے انکار کیا (17 اکتوبر 2018)؛ لاہور ہائی کورٹ نے ان کی رٹ خارج کی۔
- **سوال:** کیا باپ کے خلاف خرچے کی ڈگری دادا کی جائیداد پر نافذ ہو سکتی ہے، یا بچے کو دادا پر الگ مقدمہ کرنا ہوگا؟
- **عدالت کا فیصلہ:** دادا پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ بچے کو دادا کے خلاف مقدمہ کرنا ہوگا جہاں اس کی ذمہ داری (باپ کی مجبوری، دادا کی استطاعت) طے ہو۔ قرقی کے احکامات بغیر قانونی اختیار تھے؛ زمین آزاد (پیرا 7 اور 8)۔
- **وجہ:** ڈگری صرف فریقوں پر لاگو ہوتی ہے۔ دادا کی ذمہ داری دو حقائق پر ہے جنہیں ثبوت اور آرٹیکل 10A کے منصفانہ ٹرائل کی ضرورت ہے، فیملی کورٹس ایکٹ کے طریقے سے (آرٹیکل 4)؛ اجرا کی عدالت انہیں طے نہیں کر سکتی نہ ڈگری بدل سکتی ہے (پیرا 4 تا 8)۔
- **حدود:** یہ نہیں کہتا کہ دادا کبھی نہیں دیتا: باقاعدہ مقدمے میں دونوں شرطیں ثابت ہوں تو دینا ہوگا، اور عبوری خرچہ ممکن ہے۔ یہ باپ کو ڈگری سے آزاد نہیں کرتا۔ نابالغ دادا پر مقدمہ کرنے میں آزاد ہے (پیرا 8)۔

## عدالت کے اپنے الفاظ

> "The present case is a classic instance of doing a right thing in a wrong way." (PLD 2024 SC 67, para 1)

> "In case either of these conditions is not fulfilled, the grandfather is not under any obligation to maintain his grandchild." (PLD 2024 SC 67, para 5)

> "a decree for maintenance passed against the father of a child cannot be executed against the grandfather, and the child has to institute a suit for maintenance against his grandfather, in case no property of his father, the judgment debtor, is found for the execution of the decree." (PLD 2024 SC 67, para 7)

> "A decree that was not passed against the petitioner cannot be executed against him or his property." (PLD 2024 SC 67, para 8)

## جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

- **Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973, Article 10A:** آئین پاکستان 1973، آرٹیکل 10A: اپنے دیوانی حقوق و ذمہ داریوں کے تعین کے لیے، یا کسی فوجداری الزام میں، ہر شخص منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقۂ کار کا حقدار ہے۔
- **Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973, Article 4:** آئین پاکستان 1973، آرٹیکل 4: ہر شخص سے قانون کے مطابق سلوک ہوگا؛ کسی کی جائیداد کے خلاف کارروائی صرف قانون کے مطابق۔
- **West Pakistan Family Courts Act, 1964, Section 5 and the Schedule:** ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964، دفعہ 5 اور جدول: فیملی کورٹس خرچے کے دعوے ایکٹ کے اپنے طریقے سے طے کرتی ہیں، اور دادا کے خلاف دعویٰ بھی اسی راستے سے جائے گا۔

## اس کا کیا مطلب نہیں

- اس کا مطلب یہ نہیں کہ دادا کبھی نہیں دیتا۔ الگ مقدمے میں، اگر باپ واقعی نہ دے سکے اور دادا کی استطاعت ہو، تو دادا کو دینا ہوگا (پیرا 4 اور 5)۔
- یہ باپ کو نہیں چھوڑتا۔ اس کے خلاف ڈگری قائم ہے اور اس پر اور اس کی جائیداد پر نافذ ہو سکتی ہے۔
- یہ بچے کو خالی ہاتھ انتظار میں نہیں چھوڑتا: دادا کے خلاف مقدمے میں عبوری خرچہ دلوایا جا سکتا ہے (پیرا 8)۔
- یہ اس صورت پر نہیں جہاں دادا شروع سے خرچے کے مقدمے میں فریق ہوں؛ ماورا ارشد (2005 SCMR 1293) ایسا مقدمہ تھا، جسے عدالت نے الگ قرار دیا۔

## لوگ کیا پوچھتے ہیں

### باپ بچے کا خرچہ نہ دے تو کیا ہوتا ہے؟

ڈگری اس پر اور اس کی جائیداد پر نافذ ہوتی ہے؛ اس مقدمے میں اس کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ اگر اس کا کچھ نہ ملے تو بچہ دادا پر الگ مقدمہ کر سکتا ہے (PLD 2024 SC 67، پیرا 7)۔

### کیا باپ کی ڈگری پر دادا کی جائیداد قرق ہو سکتی ہے؟

نہیں۔ جو ڈگری کسی کے خلاف دی ہی نہیں گئی، وہ اس پر یا اس کی جائیداد پر نافذ نہیں ہو سکتی (PLD 2024 SC 67، پیرا 8)۔

### دادا پر پوتے کا خرچہ کب لازم ہے؟

صرف جب باپ غریب ہو اور خرچہ نہ دے سکے، اور دادا مالی طور پر آسودہ ہو۔ ایک بھی شرط نہ ہو تو لازم نہیں (پیرا 4 اور 5)۔

### دادا کے خلاف مقدمہ چلنے تک کیا ماں کو خرچہ مل سکتا ہے؟

ہاں، عبوری خرچہ مانگا جا سکتا ہے؛ اگر دونوں شرطیں بظاہر پوری ہوں تو فیملی کورٹ دلوا سکتی ہے (پیرا 8)۔

### دادا کی جائیداد میں پوتے کا حق؟

خرچے کے معاملے میں: باپ کی ڈگری پر دادا کی زمین قرق نہیں ہو سکتی۔ بچہ دادا پر الگ مقدمہ کرے؛ دادا تبھی دے گا جب باپ واقعی نہ دے سکے اور دادا کی استطاعت ہو (PLD 2024 SC 67)۔

### اگر بیٹے کے مقدمے میں دادا کی زمین قرق ہو جائے تو کیا کریں؟

اجرا کی عدالت میں جائیداد چھڑوانے کی درخواست دیں، انکار ہو تو ہائی کورٹ جائیں۔ سپریم کورٹ نے ایسے قرقی کے احکامات کو بغیر قانونی اختیار قرار دیا (پیرا 8)۔

## ماخذ

- Bashir Ahmad v. Additional District Judge, Hafizabad and others, PLD 2024 SC 67, Supreme Court of Pakistan, 3 November 2023, paras 1, 2, 4 to 8. A maintenance decree against the father cannot be executed against the grandfather; the child must sue the grandfather, who is liable only if the father is poor and he is financially in easy circumstances; attachment orders set aside; interim maintenance possible in the new suit. (verified against full text)
- Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973, Articles 4 and 10A (text checked in FAI Statute Search, 27 October 2026)
- West Pakistan Family Courts Act, 1964, Section 5 and the Schedule (listed from the official Punjab text)

## ریل میں کیا کہا گیا

باپ بچے کا خرچہ نہ دے، تو کیا دادا کی زمین قرق ہو سکتی ہے؟

Baap bachay ka kharcha na de, to kya Dada ki zameen qurq ho sakti hai?

لوگ کہتے ہیں: ہاں، بیٹا نہ دے تو دادا دے گا، اس کی جائیداد قرق ہو جائے گی۔ غلط، ایسے نہیں۔

حافظ آباد، 2018: ماں نے بچے کے خرچے کا مقدمہ باپ کے خلاف جیتا۔ باپ نہ ملا، تو عدالت نے دادا کی زمین قرق کر لی، جو مقدمے میں فریق ہی نہیں تھے۔ نومبر 2023 میں سپریم کورٹ نے کہا: صحیح کام، غلط طریقے سے۔ باپ کی ڈگری دادا پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ زمین آزاد (PLD 2024 SC 67)۔

لیکن بچہ اکیلا نہیں:

1۔ بچہ دادا پر الگ مقدمہ کر سکتا ہے۔

2۔ دادا تبھی دے گا جب باپ واقعی نہ دے سکے، اور دادا کی استطاعت ہو۔

3۔ اس مقدمے میں عبوری خرچہ مانگا جا سکتا ہے۔

---

تعلیمی قانونی معلومات، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر چلتا ہے۔ اپنے معاملے پر وکیل سے بات کریں۔ آخری جانچ: 27 اکتوبر 2026۔ Review status: Pending advocate review.

English: https://failegal.site/media/father-not-paying-child-maintenance-grandfather-property-pld-2024-sc-67 · Urdu: https://failegal.site/media/ur/father-not-paying-child-maintenance-grandfather-property-pld-2024-sc-67

FAI Media is part of FAI Legal (https://failegal.site), research on Pakistani statutes and judgments. Free to watch and read.
