# باپ کی مرضی کے بغیر شادی: کیا وہ بیٹی کو زبردستی واپس لا سکتا ہے؟

> ہلال خٹک بنام سرکار، سپریم کورٹ آف پاکستان، 2023 SCMR 1182، فیصلہ 24 مئی 2023۔

- Topic: Family
- Court: Supreme Court of Pakistan
- Citation: 2023 SCMR 1182
- The myth: "If a daughter marries without her father's consent, he can bring her home by force." Verdict: Wrong.
- Watch: https://failegal.site/media/ur/court-marriage-father-take-daughter-back-by-force-2023-scmr-1182 (video https://failegal.site/media/court-marriage-father-take-daughter-back-by-force-2023-scmr-1182/reel-ur.mp4, 1:32)
- Published by FAI Legal on 2026-10-12

نہیں۔ بالغ لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے، اور کسی کو زبردستی لے جا کر چھپا کر اور ناجائز طور پر قید رکھنے کی نیت سے اغوا کرنا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت جرم ہے، جس کی سزا سات سال تک قید ہے۔ 2023 SCMR 1182 میں سپریم کورٹ نے اس باپ کی ضمانت مسترد کر دی جس پر اپنی شادی شدہ بیٹی کو زبردستی لے جانے کا الزام تھا۔

باپ ہونا جرم کو بدل نہیں دیتا۔ عدالت نے پولیس کو لڑکی کو ڈھونڈنے اور اسے مجسٹریٹ کے سامنے آزادی سے بیان دینے کا موقع دینے کا حکم بھی دیا۔

## اہم نکات

- دفعہ 365: کسی بھی شخص کو چھپا کر اور ناجائز طور پر قید رکھنے کی نیت سے اغوا کرنا، سات سال تک قید اور جرمانہ۔
- دفعہ 458: رات کو چوٹ، حملے یا روکنے کی تیاری کے ساتھ گھر میں نقب زنی، چودہ سال تک قید۔
- ہلال خٹک (2023): سپریم کورٹ نے اس باپ کی ضمانت مسترد کی جس پر مسلح ساتھیوں کے ساتھ بیٹی کے سسرال میں گھس کر اسے لے جانے کا الزام تھا؛ حملے میں اس کے شوہر کو گولی لگی اور وہ جاں بحق ہوا۔
- عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تلاش کی نگرانی کا حکم دیا، اور کہا کہ ملنے پر لڑکی کم از کم دو دن دارالامان میں رہے، پھر بیان دے، تاکہ وہ کسی دباؤ کے بغیر بات کر سکے۔

## اس کی مرضی، اور اغوا کا قانون

سپریم کورٹ بہت پہلے طے کر چکی ہے کہ بالغ مسلمان لڑکی ولی کی رضامندی کے بغیر نکاح کر سکتی ہے (حافظ عبدالوحید بنام عاصمہ جہانگیر، PLD 2004 SC 219)۔ جو خاندان شادی سے متفق نہ ہو وہ عدالت جا سکتا ہے، زبردستی نہیں کر سکتا۔

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کہتی ہے کہ جو کوئی کسی شخص کو اس نیت سے اغوا کرے کہ اسے چھپا کر اور ناجائز طور پر قید رکھا جائے، اسے سات سال تک قید اور جرمانہ ہو گا۔ دفعہ "کسی بھی شخص" کی بات کرتی ہے، اس میں والدین کے لیے کوئی استثنا نہیں۔

## اسلام آباد کی وہ صبح

یہ وہ حقائق ہیں جو پولیس کیس (ایف آئی آر نمبر 01/2023، تھانہ آبپارہ، اسلام آباد) میں الزام کے طور پر درج ہیں، مقدمے میں ثابت شدہ نہیں۔ ملزم کی بیٹی نے اس کی مرضی کے بغیر اس کے چچا زاد کے بیٹے سے شادی کی تھی (پیرا 2)۔

یکم جنوری 2023 کو صبح تقریباً پونے سات بجے وہ اور دوسرے افراد، سب پستولوں سے مسلح، شوہر کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر گھسے۔ کچھ نے گھر والوں کو بندوق کی نوک پر رکھا۔ وہ اور ایک اور شخص لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر گلی میں گھسیٹ کر لے گئے۔ شوہر نے بچانے کی کوشش کی تو اسے گولی لگی اور بعد میں وہ جاں بحق ہو گیا۔ شوہر کے والد پر فائر کیا گیا اور چھوٹے بیٹے کے سر پر چوٹ آئی۔ وہ لڑکی کو ساتھ لے گئے (پیرا 2)۔

مقدمہ قتل، اقدامِ قتل، دفعہ 365 کے تحت اغوا، گھر میں گھسنے، ضرب اور بلوے کی دفعات کے تحت درج ہوا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 28 مارچ 2023 کو باپ کی بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی۔

## سپریم کورٹ نے ضمانت کیوں نہیں دی

عدالت نے کہا کہ ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی مواد موجود ہے: زخمی گواہ، گھر کی تین خواتین اور مدعی کے بیانات، اور پڑوسی کے گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج (پیرا 6)۔

وکیل کا کہنا تھا کہ اغوا اور گھر میں گھسنا ایسے جرم ہیں جن میں عام طور پر ضمانت ملتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے جرائم میں ضمانت اصول ہے، حق نہیں، اور اگر ملزم کے فرار ہونے، شہادت میں مداخلت یا جرم دہرانے کا خدشہ ہو تو ضمانت روکی جا سکتی ہے۔ یہاں باپ ہونے کی وجہ سے اصل محرک اسی کا نظر آتا تھا، زیادہ تر شریک ملزم مفرور تھے، اور لڑکی برآمد نہیں ہوئی تھی: "کوئی نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے یا نہیں" (پیرا 9)۔

عدالت نے مزید کہا کہ الزامات دراصل دفعہ 458 کے تحت رات کو نقب زنی بنتے ہیں، جس کی سزا چودہ سال تک ہے اور جو ضمانت کی ممانعتی شق میں آتی ہے (پیرا 10)۔ درخواست خارج کر دی گئی (پیرا 12)۔

## عدالت نے لڑکی کے لیے کیا حکم دیا

اس صبح کے تقریباً پانچ مہینے بعد بھی لڑکی نہیں ملی تھی۔ عدالت نے اسے سنگین معاملہ کہا اور اسلام آباد پولیس کے آئی جی کو خود معاملہ دیکھنے اور کم از کم ایس پی رینک کے افسر کو تلاش کی نگرانی دینے کا حکم دیا (پیرا 13)۔

ملنے پر اسے بیان سے پہلے کم از کم دو دن دارالامان یا ایسے ہی ادارے میں رکھا جائے، تاکہ وہ کسی کے ناجائز اثر کے بغیر اپنی مرضی سے بیان دے سکے، اور بہتر ہے کہ بیان مجسٹریٹ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرے (پیرا 13)۔

## کیس ایک نظر میں

- **حقائق:** ایف آئی آر کے مطابق ایک باپ، جس کی بالغ بیٹی نے اس کی مرضی کے بغیر شادی کی، صبح سویرے مسلح افراد کے ساتھ اس کے سسرال میں گھسا اور اسے گھسیٹ کر لے گیا؛ شوہر کو گولی لگی اور وہ جاں بحق ہوا۔ باپ گرفتار ہوا اور بعد از گرفتاری ضمانت مانگی۔
- **سوال:** کیا باپ کو ضمانت ملنی چاہیے، جبکہ کچھ دفعات (365 کے تحت اغوا، 452 کے تحت گھر میں گھسنا) ضمانت کی ممانعتی شق میں نہیں آتیں؟
- **عدالت کا فیصلہ:** نہیں۔ ملزم کو جرم سے جوڑنے کا کافی مواد تھا؛ اس کے فرار ہونے اور لاپتہ لڑکی کو نقصان پہنچانے یا دباؤ ڈالنے کا خدشہ تھا؛ اور الزامات دفعہ 458 کے تحت رات کو نقب زنی بنتے ہیں جس کی سزا چودہ سال تک ہے۔ ضمانت مسترد ہوئی۔
- **وجہ:** غیر ممانعتی جرائم میں ضمانت اصول ہے، حق نہیں، اور فرار، شہادت میں مداخلت یا جرم دہرانے کے خدشے پر روکی جا سکتی ہے۔ باپ ہونا محرک تھا، جواز نہیں۔
- **حدود:** یہ ضمانت کا حکم ہے۔ اس کے نتائج عارضی ہیں اور جرم کا فیصلہ نہیں کرتے؛ وہ فیصلہ ٹرائل کورٹ شہادت پر کرے گی۔ عدالت نے نکاح کے جواز پر فیصلہ نہیں دیا، اور یہ طے نہیں کیا کہ جان لیوا گولی کس نے چلائی۔

## عدالت کے اپنے الفاظ

> "the petitioner being the father of the alleged abductee appears to have had the real motive for the commission of the alleged offences while the others abetted him in his cause." (2023 SCMR 1182, para 9)

> "So that she may be in a position to make her statement voluntarily without the undue influence of anyone, and her statement should preferably be recorded by the Magistrate concerned under section 164, Cr.P.C." (2023 SCMR 1182, para 13)

## جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے

- **Pakistan Penal Code, 1860, s.365:** جو کوئی کسی شخص کو اس نیت سے اغوا کرے کہ اسے چھپا کر اور ناجائز طور پر قید رکھا جائے، سات سال تک قید اور جرمانہ۔
- **Pakistan Penal Code, 1860, s.458:** رات کو چوٹ، حملے یا ناجائز طور پر روکنے کی تیاری کے ساتھ گھر میں چھپ کر گھسنا یا نقب زنی: چودہ سال تک قید اور جرمانہ۔

## اس کا کیا مطلب نہیں

- اس کا مطلب یہ نہیں کہ باپ کو سزا ہو گئی۔ یہ ضمانت کا حکم تھا؛ جرم کا فیصلہ ٹرائل میں ہو گا۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ شادی پر اعتراض کرنے والا ہر والد مجرم ہے۔ اعتراض کرنا یا عدالت جانا جائز ہے۔ دفعہ 365 کسی کو زبردستی لے جا کر قید رکھنے کی سزا دیتی ہے۔
- یہ فیصلہ کسی خاص نکاح کے جواز کا فیصلہ نہیں کرتا۔ یہ سوال عدالت کے سامنے نہیں تھا۔

## لوگ کیا پوچھتے ہیں

### اگر میں ابو کی مرضی کے بغیر شادی کروں، کیا وہ مجھے واپس لے جا سکتے ہیں؟

زبردستی نہیں۔ بالغ لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے، اور کسی کو زبردستی لے جا کر چھپا کر قید رکھنا دفعہ 365 کے تحت اغوا ہے، سات سال تک قید۔

### کیا والدین کی مرضی کے بغیر کورٹ میرج جائز ہے؟

بالغ مسلمان لڑکی کے لیے سپریم کورٹ نے PLD 2004 SC 219 میں کہا کہ ولی کی رضامندی ضروری نہیں۔ اس فیصلے پر ہمارا صفحہ دیکھیں۔

### شادی کے بعد گھر والے دھمکیاں دیں تو لڑکی کیا کرے؟

پولیس کو اطلاع دے اور ہائی کورٹ سے تحفظ مانگ سکتی ہے۔ نکاح نامے اور دھمکیوں کی کاپیاں رکھے۔ صحیح درخواست کے لیے وکیل سے بات کرے۔

### کیا سپریم کورٹ نے باپ کو سزا دی؟

نہیں۔ اس نے ضمانت مسترد کی۔ جرم کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔

## ماخذ

- Hilal Khattak v. The State and another, 2023 SCMR 1182, Supreme Court of Pakistan, 24 May 2023, paras 2, 6, 8-13. Post-arrest bail refused to a father accused of abducting his married daughter from her husband's home; s.458 PPC attracted; IG Islamabad Police directed to supervise her recovery and a voluntary statement before a Magistrate after two days in a Dar-ul-Aman. (verified against full text)
- Hafiz Abdul Waheed v. Mrs. Asma Jehangir, PLD 2004 SC 219, Supreme Court of Pakistan. An adult Muslim woman can marry without her wali's consent (para 29). (verified against full text (reel 30))
- Pakistan Penal Code, 1860, s.365, s.458 (text checked in FAI Statute Search, 12 October 2026) (official text: https://pakistancode.gov.pk/english/UY2FqaJw1-apaUY2Fqa-apaUY2Npa5lo-sg-jjjjjjjjjjjjj)

## ریل میں کیا کہا گیا

بیٹی باپ کی مرضی کے بغیر شادی کر لے، تو کیا باپ اسے زبردستی واپس لا سکتا ہے؟

نہیں۔ زبردستی لے جانا اغوا ہے (تعزیراتِ پاکستان دفعہ 365)۔ سپریم کورٹ نے ایسے باپ کی ضمانت مسترد کی (2023 SCMR 1182)۔

حق: بالغ لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے (سپریم کورٹ، PLD 2004 SC 219)۔

قانون: کسی کو اغوا کر کے چھپا کر قید رکھنے کی نیت ہو، تو سات سال تک قید (دفعہ 365)۔

کیس: اسلام آباد، جنوری 2023۔ پولیس کیس کے مطابق باپ اور مسلح ساتھی صبح سویرے سسرال کی دیوار پھلانگ کر گھسے اور لڑکی کو گھسیٹ کر لے گئے؛ شوہر کو گولی لگی اور وہ جاں بحق ہوا۔

سپریم کورٹ (مئی 2023): ضمانت مسترد۔ رات کو ہتھیار لے کر گھر میں گھسنا چودہ سال تک قید کا جرم ہے۔ آئی جی پولیس خود لڑکی کو ڈھونڈیں؛ ملنے پر دو دن دارالامان، پھر مجسٹریٹ کے سامنے آزادانہ بیان۔

یہ ضمانت کا حکم ہے؛ جرم کا فیصلہ ٹرائل میں ہو گا۔

---

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق پر چلتا ہے۔ اپنے معاملے پر کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ یہ صفحہ پڑھنے سے وکیل اور مؤکل کا تعلق قائم نہیں ہوتا۔ Review status: Pending advocate review.

English: https://failegal.site/media/court-marriage-father-take-daughter-back-by-force-2023-scmr-1182 · Urdu: https://failegal.site/media/ur/court-marriage-father-take-daughter-back-by-force-2023-scmr-1182

FAI Media is part of FAI Legal (https://failegal.site), research on Pakistani statutes and judgments. Free to watch and read.
