# بچے ماں کے پاس رہتے ہیں۔ کیا باپ پھر بھی خرچہ دے گا؟

> ہاں۔ جولائی 2025 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ بچوں کا خرچہ باپ کی مسلسل ذمہ داری ہے، اور بچہ ماں کی تحویل (حضانت) میں ہو تو یہ ذمہ داری کم نہیں ہوتی۔ بیوی کا خرچہ نکاح ختم ہونے پر ختم ہو جاتا ہے، بچوں کا نہیں۔

- Topic: Family
- Court: Supreme Court of Pakistan
- Citation: PLD 2026 SC 170
- The myth: "If the children live with their mother, the father pays nothing." Verdict: Wrong.
- Watch: https://failegal.site/media/ur/bachay (video https://failegal.site/media/bachay/reel-ur.mp4, 1:01)
- Published by FAI Legal on 2026-10-10

طلاق کے بعد بچے اکثر ماں کے پاس رہتے ہیں۔ بہت سے باپ، اور بہت سے خاندان، پھر یہ سمجھتے ہیں کہ باپ پر کچھ واجب نہیں، کیونکہ بچے اس کے پاس نہیں۔

یہ بات ہر اس ماں کے لیے اہم ہے جو طلاق یا علیحدگی کے بعد بچے پال رہی ہے، اور ہر اس باپ کے لیے جو جاننا چاہتا ہے کہ قانون اس سے کیا توقع رکھتا ہے۔

## اہم نکات

- سپریم کورٹ، PLD 2026 SC 170: بچوں کا خرچہ باپ کی سنجیدہ اور مسلسل ذمہ داری ہے، بیٹے کا بالغ ہونے تک اور بیٹی کا شادی تک (پیرا 5)۔
- بچہ ماں کی تحویل (حضانت) میں ہو تو بھی یہ ذمہ داری کم نہیں ہوتی (پیرا 5)۔
- بیوی کا خرچہ نکاح ختم ہونے پر ختم ہو جاتا ہے۔ بچوں کا خرچہ ختم نہیں ہوتا۔
- جو باپ کہے کہ وہ کم کماتا ہے، اسے ثابت کرنا ہوگا۔ یہاں نہ تنخواہ کی پرچی تھی نہ آمدن کا گوشوارہ، اور درخواست خارج ہوئی (پیرا 7 اور 8)۔

## ایک سطر میں اصول

بچے کہاں رہتے ہیں، اس سے یہ طے نہیں ہوتا کہ خرچہ کون دے گا۔ باپ پر بچوں کا خرچہ فرض ہے، بیٹے کا بالغ ہونے تک اور بیٹی کا شادی تک، اور بچے ماں کی تحویل میں ہوں تب بھی یہ فرض وہی رہتا ہے۔

## اس کیس میں کیا ہوا

نکاح ختم ہوا اور بیٹا ماں کے پاس رہا۔ ٹرائل کورٹ نے بیٹے کا خرچہ پچیس ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا، بالغ ہونے تک ہر سال دس فیصد اضافے کے ساتھ (پیرا 2 اور 4)۔

باپ نے اپیل کی۔ اپیل کی عدالت نے حکم برقرار رکھا، اور ہائی کورٹ نے بھی۔

## باپ کی دلیل

سپریم کورٹ میں باپ نے کہا کہ وہ صرف ایک لاکھ روپے ماہانہ کماتا ہے، دوسری شادی کر چکا ہے اور ایک اور خاندان پالتا ہے (پیرا 7)۔

عدالت نے کہا کہ اس نے اپنی آمدن کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا، جیسے تنخواہ کی پرچی یا آمدن کا گوشوارہ (پیرا 7)۔

## سپریم کورٹ نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے 10 جولائی 2025 کو درخواست کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے باپ کی ذمہ داری کو سنجیدہ اور مسلسل کہا: بیٹے کا خرچہ بالغ ہونے تک اور بیٹی کا شادی تک، اور بچہ ماں کی حضانت میں ہو تو باپ کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی (پیرا 5)۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر کوئی سنگین ذہنی یا جسمانی رکاوٹ نہ ہو تو باپ کا صرف کام نہ کرنا کوئی جائز عذر نہیں مانا جا سکتا (پیرا 6)۔

اپیل کی اجازت نہیں دی گئی اور درخواست خارج ہوئی۔ پچیس ہزار روپے ماہانہ، ہر سال دس فیصد اضافے کے ساتھ، برقرار (پیرا 8)۔

## کیس ایک نظر میں

- **حقائق:** نکاح ختم ہونے کے بعد بیٹا ماں کے پاس رہا۔ ٹرائل کورٹ نے اس کا خرچہ پچیس ہزار روپے ماہانہ، بالغ ہونے تک دس فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ مقرر کیا؛ اپیل کی عدالت اور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ باپ نے کہا کہ وہ صرف ایک لاکھ روپے ماہانہ کماتا ہے، دوسری شادی کر چکا ہے اور ایک اور خاندان پالتا ہے، مگر نہ تنخواہ کی پرچی دی نہ آمدن کا گوشوارہ۔
- **سوال:** کیا باپ بچے کا خرچہ اس بنا پر ختم یا کم کروا سکتا ہے کہ بچہ ماں کے پاس ہے، یا اپنی بتائی ہوئی آمدن اور دوسرے خاندان کی وجہ سے؟
- **عدالت کا فیصلہ:** نہیں۔ اپیل کی اجازت نہیں ملی اور درخواست خارج؛ پچیس ہزار روپے ماہانہ، دس فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ، برقرار۔
- **وجہ:** بچوں کا خرچہ باپ کی سنجیدہ اور مسلسل ذمہ داری ہے، بیٹے کا بالغ ہونے تک اور بیٹی کا شادی تک، اور ماں کی حضانت سے یہ کم نہیں ہوتی۔ کم آمدن کا دعویٰ ثبوت مانگتا ہے، اور سنگین ذہنی یا جسمانی رکاوٹ کے بغیر صرف کام نہ کرنا جائز عذر نہیں۔
- **حدود:** اس فیصلے نے ایک کیس کے حقائق پر نچلی عدالتوں کی مقرر کردہ رقم برقرار رکھی۔ اس میں ہر بچے کے لیے کوئی معیاری رقم طے نہیں ہوئی۔ ہر کیس میں رقم عدالت کے سامنے موجود شہادت پر منحصر ہے۔

## عدالت کے اپنے الفاظ

> "The father's obligation is not lessened by the child being in the hizanat (custody) of the mother." (PLD 2026 SC 170, para 5)

> "The mere fact that the father is not working, in the absence of any serious mental or physical challenges, cannot be admitted as a valid justification." (PLD 2026 SC 170, para 6)

## جس قانون پر فیصلہ مبنی ہے


## اس کا کیا مطلب نہیں

- اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بچے کو پچیس ہزار روپے ماہانہ ملیں گے۔ یہ رقم اس کیس کے حقائق پر مقرر ہوئی۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ باپ کی واقعی مجبوری کو نظر انداز کیا جائے گا۔ عدالت نے اس باپ کی بات کی جو کسی سنگین ذہنی یا جسمانی رکاوٹ کے بغیر کام نہ کرے، اور کم آمدن کے ایسے دعوے کی جس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔
- اس فیصلے میں یہ طے نہیں ہوا کہ بچہ کس کی تحویل میں رہے گا۔ حضانت اور خرچہ الگ الگ سوال ہیں؛ یہ کیس خرچے کا تھا۔

## لوگ کیا پوچھتے ہیں

### بچے میرے پاس رہتے ہیں، میں ان کی ماں ہوں۔ کیا ان کا باپ پھر بھی خرچہ دے گا؟

ہاں۔ سپریم کورٹ نے PLD 2026 SC 170 میں کہا کہ بچہ ماں کی تحویل میں ہو تو بھی باپ کی خرچے کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی۔

### باپ کو بچوں کا خرچہ کب تک دینا ہوتا ہے؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ بیٹے کا بالغ ہونے تک اور بیٹی کا شادی تک (PLD 2026 SC 170، پیرا 5)۔

### کیا باپ کہہ سکتا ہے کہ اس نے دوسری شادی کر لی ہے یا وہ کم کماتا ہے؟

کہہ سکتا ہے، مگر اسے ثابت کرنا ہوگا۔ اس کیس میں اس نے نہ تنخواہ کی پرچی دی نہ آمدن کا گوشوارہ، اور سپریم کورٹ نے درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ سنگین ذہنی یا جسمانی رکاوٹ کے بغیر صرف کام نہ کرنا کوئی جائز عذر نہیں۔

## ماخذ

- Muhammad Imran Baqir v. Mst. Zarnain Arzoo, PLD 2026 SC 170, Supreme Court of Pakistan, 10 July 2025, paras 2, 4, 5, 6, 7, 8. A father's obligation to maintain his children is solemn and continuous and is not lessened by the mother's custody; unproved claim of low income rejected; maintenance with 10% annual increase upheld. (verified against full text) (official text: https://www.supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/c.p._5009_2024.pdf)

## ریل میں کیا کہا گیا

سنا ہے، طلاق کے بعد بچے ماں کے پاس ہوں تو باپ پر کوئی خرچہ نہیں؟ غلط۔

سپریم کورٹ: بچوں کا خرچہ باپ کی مسلسل ذمہ داری ہے، بیٹے کا بالغ ہونے تک، بیٹی کا شادی تک۔ بچہ ماں کی تحویل (حضانت) میں ہو تو بھی یہ ذمہ داری کم نہیں ہوتی۔ بیوی کا خرچہ نکاح ختم ہونے پر ختم ہو جاتا ہے، بچوں کا نہیں۔

نکاح ختم ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ نے بیٹے کے لیے 25,000 روپے ماہانہ مقرر کیے، ہر سال 10 فیصد اضافے کے ساتھ۔ اپیل کورٹ اور ہائی کورٹ نے یہ برقرار رکھا۔

باپ سپریم کورٹ گیا: میں صرف ایک لاکھ روپے ماہانہ کماتا ہوں، دوسری شادی کر لی ہے اور ایک اور خاندان پالتا ہوں۔ مگر نہ تنخواہ کی پرچی، نہ آمدن کا کوئی گوشوارہ۔

سپریم کورٹ (جولائی 2025): درخواست خارج۔ 25,000 روپے اور 10 فیصد سالانہ اضافہ برقرار۔ عدالت نے کہا: اگر کوئی سنگین جسمانی یا ذہنی رکاوٹ نہیں، تو باپ کا صرف کام نہ کرنا کوئی جائز عذر نہیں (PLD 2026 SC 170)۔

---

یہ تعلیمی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند وکیل سے بات کریں۔ Review status: Pending advocate review.

English: https://failegal.site/media/bachay · Urdu: https://failegal.site/media/ur/bachay

FAI Media is part of FAI Legal (https://failegal.site), research on Pakistani statutes and judgments. Free to watch and read.
